مصر میں شادیاں کیسی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔
کل بروز جمعرات قاہرہ مصر میں ایک ساتھی کے نکاح میں جانا ہوا، دولہا اور دلہن دونوں ازہری تھے، تین بجے شادی ہال میں پہنچنا تھا؛ کیوں کہ شادی ہال تین سے چار بجے تک کے لئے ہی بک کیا گیا تھا، مگر ہم 3:29 پر پہنچے، دیکھا تو ابھی نکاح شروع نہیں ہوا تھا، پھر 3:35 پر نکاح شروع ہوا، 3:50 تک نکاح ختم، اور 3:55 پر پانچ کھجواریں، ایک سموسہ، اور ایک کولڈرنک کھائے پئے، اور 4:10 پر دلہن کو لے کر گھر

واپس ہو گئے...مع السلامہ۔۔۔
جو بات میں کہنا چاہتا ہوں آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے، لیکن پھر بھی کچھ باتیں وضاحت کے طور پر رکھتا ہوں۔۔۔
اس میں غور کرنے والی باتیں یہ ہیں کہ نا تو دلہن نے کوئی زیور پہن رکھا تھا، نا ہی بیس سے پچیس پکوان تھے، نا دولہے یا دولہن کی والدہ، چاچی، پھوپھی، نانی وغیرہ نے کسی تحفہ کی مانگ کی کہ ہمیں بھی سونے کی انگوٹھی اور زیور چاہئیں۔۔۔اگر دیکھا جائے تو تقریبا اس آسان سی شادی میں 15 سے 20 لاکھ روپے بچ گئے۔۔۔اور جو مقصد اصلی ہے وہ پورا ہو گیا، ہمارے یہاں پر ہزار قسم کی فالتو کی رسمیں، بے جا خرچے، رشتہ داروں کے نخرے، باراتیوں کے نخرے وغیرہ، یہ ساری چیزیں اتنی زیادہ ہو جاتی ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا ہے نئے رشتہ کی بنیاد رکھی جا رہی ہے یا پرانے رشتہ بچائے جا رہے ہیں۔۔۔
میں یہ نہیں کہتا کہ مصر میں شادیاں مہنگی نہیں ہوتیں، میں یہاں ایسی شادیوں میں بھی گیا ہوں جس کے ولیمہ میں ڈھائی سے تین ہزار لوگ شامل ہوئے، مگر مصر میں سستی اور آسان شادیاں اتنی آسان ہیں کہ اگر کوئی کرنا چاہے تو اسے زیادہ سوچنا نہیں پڑے گا، رشتہ دار وغیرہ تک برا نہیں مانتے۔
شادیوں میں آسانی ہونی چاہئے، اور بیسوں قسم کے کھانوں کی جگہ ایک دو تین ہی قسم کے کھانے ہوں، زیادہ زیور نا ہوں، اور بے جا خرچوں سے بچتے ہوئے صرف "قبول" پر دھیان دینا چاہئے۔۔۔۔
(فیض العزیز الازہری)
No comments:
Post a Comment