یہ نظم سابق افغان صدر ڈاکٹر نجیب احمد زئی شہید کی بیوی ڈاکٹر فتانہ نجیب نے اپنے بہادر شوہر کے نام فارسی میں لکھی ہے
اس کا اردو ترجمہ حاضر خدمت ہے
یاد رہے یہ براہ راست فارسی سے نہیں بلکہ پشتو ترجمے سے ترجمہ ہے
جو پیارے دوست وقاص یوسفزئی کے اصرار پر کیا گیا ہے
کتاب اموسین سے انتخاب
—————————————————————

تمہیں خواب میں دیکھتی رہی ہوں
تمیں خواب میں دیکھتی رہی
میرے من مندر کے دیوتا نجیب!
میں تمہیں روز خواب میں دیکھتی رہی
کہ تم اپنے زخم زخم پھولوں کے غنچے
میری آنکھوں پر
میرے ہونٹوں پر
میری زلفوں پر
رکھ رہے ہو
قطار در قطار
زخم زخم پھول
زخم زخم
شگفیں
میں تمہیں خواب میں دیکھتی رہی
کہ میں
تمیں آخری سفر کےلئے
الوداع
کہنے آئی ہوں
اور تمیں
اس بے بادباں
اس بے لنگر
کشتی کی طرف
روتے روتے لے کر جارہی ہوں
اور
ہزاروں درد
لاکھوں زخم
اور بے شمار داغوں کے ساتھ
تم سے پوچھ رہی ہوں
مجھے بتائیں
میری ادھوری زندگی
اور ہمارے لاڈلے بچوں کے نام
کہ میری آخری امید کی کونپل
کہاں پھوٹے گی
تم نے اپنی حسرت بھری
پر عزم آنکھوں سے دیکھا
تم جو ملکوں کی قسمت کے امانت گر تھے
تم جو اپنے ملک میں مسافر تھے
تم پچم اور پورپ کی اندھیوں طرف تاکتے رہیں
اور وطن کے
ہاں اپنی دھرتی کے
پر غرور بادلوں
اور پر عزم گھٹاؤں
کو آوازیں دیتے رہے
کہ
اپنے دیو
پھیلا دوں
اور سمندر کے کنارے
سب کچھ تباہ کردو
تم جنگوں کے محاذوں کے مسافر
بغیر الوداع کہے
بغیر آخری بوسہ دئیے ہوئے
موجوں کے آغوش میں چلے گئے
اور میں !
ابھی تک
سمندر کے اس اداس کنارے پر
جس پر سرکش موجوں
کے ہاتھوں تباہی سےا کچھ بھی نہیں بچا ہے
ایک مبہم سی امید کے ساتھ
تمہیں آخری الوداع کہنے کے امید میں
ریت پر بیھٹی ہوں !!!
(ہمدرد یوسفزئی کی وال سے )
No comments:
Post a Comment