ہاں میں نے اسکو ق۔تل کیا سینے اور سر پر گو۔لی ماری ، کیونکہ وہ اسی قابل تھا ۔۔۔۔۔لاہور کے علاقہ شاہدرہ میں ہوٹل کے ایک کمرے میں اپنے دوست کو ق۔تل کرنے والی ایم اے کی طالبہ کا دبنگ موقف سامنے آگیا ۔۔۔ پچھلے ماہ شاہدرہ میں ایک ہوٹل میں گو۔لی چلنے کی آواز آئی
، انتظامیہ کمرے چیک کرتی رہی کہ گو۔لی کہاں چلی اس کام میں ایک گھنٹے سے زاید کا وقت لگا اس دوران ملزمہ علینہ اپنے دوست کو ق۔تل کرکے باآسانی فرار ہو گئی اسکے ہوٹل میں آنے اور جانے کا ثبوت سی سی ٹی وی ویڈیوز سے مل گیا ۔۔۔ 72 گھنٹے بعد پولیس نے ملزمہ کو اسکے گھر سے گرفتار کرلیا ، ملزمہ سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے پولیس کو بتایا ہاں میں نے ق۔تل کیا ہے کیونکہ اس منحوس کو ق۔تل کرنا میرے اوپر واجب ہو چکا تھا ، یہ شخص مجھے نوچ رہا تھا ، 1 سال پہلے اسکے ساتھ رابطہ ہوا سمجھی کہ اچھا انسان ہے اس کے ساتھ دوستی میں کیا مضائقہ ہے لیکن وہ تو ایک جنونی ہوس کا پجاری نکلا ، ہر دوسرے دن ملاقات پر مجبور کرتا ملاقاتوں میں غیر اخلاقی تصویریں اور ویڈیوز بنا لیتا ، جب اس کی ہوس بڑھنے لگی تو میں ملنے سے انکار کرتی جس پر وہ دھم۔کی دیتا کہ نہ آئی تو تمہاری ویڈیوز وائرل کردونگا پھر کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو گی ۔۔۔ میں نے پھر بھی کوشش کی ،اسے پیشکش کی جس روپ میں چاہو مجھے سامنے پاؤ لیکن میری ویڈیوز ڈیلیٹ کردو لیکن کوشش کے باوجود اپنی تصویریں اور ویڈیوز ڈیلیٹ نہ کروا سکی ۔اسکے بعد طے کر لیا کہ اس بے غیرت کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ، یوٹیوب سے پستو۔ل چلانا سیکھا ۔ پستو۔ل گھر سے لائی جو کہ والد کا اور لائسنسی تھا اوردوست کے بلانے پر ہوٹل گئی ، آخری بار کوشش کی کہ وہ میری ویڈیوز ڈیلیٹ کردے لیکن اس کا جواب تھا مجھے وہ کام مت کہو جو میں نہیں کرونگا ، بس پھر فیصلہ کر لیا اس کے سر اور سینے میں گو۔لیاں ماریں اور آدھے گھنٹے بعد اسکے مرنے کی تسلی کرکے ہوٹل سے نکل گئی ، ہوٹل والوں نے دروازہ ناک کیا تھا لیکن میں نے کہا گو۔لی کی آواز ہمارے روم سے نہیں اوپر سے آئی ہے ۔۔۔ یوں وہ کمرہ تلاش کرتے رہے اور مجھے باہر نکلنے کا موقع مل گیا ۔۔۔۔۔ ذرائع کے مطابق ایم اے کی طالبہ علینہ کے اعترافی بیان کے بعد اسے چالان کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے ۔
daily workar
pless sher
HD
Sunday, 26 April 2026
Friday, 17 April 2026
جرم دستک دیتا ہے۔خبردار کرتا ہے۔ لیکن انسان اس خطرے کو بھانپ کر بھی انجانا بننے کا ناٹک کرتا ہے
#بیوی_کے_ہاتھوں_شوہر_کا_خاتمہ
جرم دستک دیتا ہے۔خبردار کرتا ہے۔ لیکن انسان اس خطرے کو بھانپ کر بھی انجانا بننے کا ناٹک کرتا ہے۔
بس یہی کچھ 5C-1 میں بیوی کے ہاتھوں مرنے والے ریحان کیساتھ بھی ہوا...
صدف اپنے پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی... 13/14سال پہلے فیصل نامی شخص سے ارینج میرج ہوئی دو ایک بچہ ہوا شادی کے دو سال کے اندر ہی فیصل سے مبلغ 50لاکھ روپے عوض صدف کی خلاصی ہوئی...
تقریبا دس سال تک صدف اپنے ماں باپ کے گھر رہی... اور چار ساڑھے سال سے ریحان نامی شخص سے اسکا افئیر تھا... ریحان پر صدف کا سحر اسقدر طاری تھا کہ وہ حقیقت سے انکاری تھا۔
ظاہر ہی لڑکی طلاق یافتہ ہو تو اسکے جذبات خواہشات کو پورا کرنے والا کوئی ہونا ہی چاہئے... ریحان کے ماں باپ نے ریحان کی کہی اور منگنی بھی کی مگر صدف کے سحر نے وہ رشتہ ختم کروا ہی دیا...
آخرکار آج سے ٹھیک پانچ مہینے قبل ریحان نے صدف سے شادی کی اور اسے گھر لے آیا...
ادھر صدف شادی سے پہلے ہی شیزان عرف سجو نامی شخص سے بھی رابطے روا رکھے ہوئے تھی...
سجو کا بے وقت کال کرنا صدف کا ناخوش رہنا گم سم رہنا ریحان نے اپنے گھر لانے کیبعد ہی نوٹ کیا...
صدف ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی لہذا اس نے ریحان کا بیجا پابند کرنا ، شک کرنا گوارہ نہ کیا اور سیدھا ماں کے پاس جاکر ریحان سے علیحدگی کا اظہار کیا...
ماں نے کہا کہ اگر تو نے پھر طلاق لی تو پوری برادری تُھو تُھو کرے گی... لہذا ایسا کر کہ اپنے عاشق شیزان کو بلا اور اسکے ذریعے اپنا راستہ صاف کر...
صدف نے شیزان عرف سجو کو ایک اسٹیٹ پر بلوایا اور وہی یہ طے ہوا کہ سجو جو کہ بظاہر اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے تھا... اپنے بھائی کا لائسنس یافتہ پسٹل (جو کہ عمرے کے سفر پر ہے) اٹھایا
اور صدف کے بھائی جبران کیساتھ موقعے کا انتظار کرنے لگا...
ادھر صدف نے بھی جمعے کی صبح ریحان کو مسجد جانے کی تیاری کرتا دیکھ کر شیزان کو اشارہ دے دیا...
ریحان اور جبران نے ق ت ل کیا اور فرار ہوگئے۔
پولیس تفشیش شروع ہوئی تو پولیس کو صدف کی باڈی لینگویج سے ہی صدف پر شک ہوگیا تھا...ظاہر ہے مسجد کی بائیں جانب ہی ریحان کا گھر تھا... ریحان کی باڈی مسجد کی دہلیز پر پڑی ہے۔
ریحان کے بھائی بہن ریحان کی لاش کے پاس صدمے کی سی کیفیت میں تھے... مگر صدف گھر سے ٹس سے مس نہ ہوئی... پھر صدف کے گھر والو میں سے بھی کسی نے جنازے میں شرکت نہ کی... پولیس تفشیش میں صدف کے موبائل-فون میں شیزان کی کال ٹریس ہوئی تو اسنے تین دن بعد بھی وہی وقوعے میں پہنے کپڑے تک نہیں بدلے تھے... یہاں تک کے چہرے کو چھپانے والا ماسک تک اسکی جیب میں ہی موجود تھا۔
ریحان کو جرم کی دستک تب ہی ہوچکی تھی جب ریحان کی کہی اور منگنی ہوئی اور اسے صدف نے توڑنے کا کہا...
جرم کی دستک تبھی ہوچکی تھی جب لیٹ نائٹ صدف شیزان سے کالز پر باتیں کیا کرتی...
جرم کی دستک کو ریحان بآسانی سمجھ لیتا... جب دوران افئیر ہی صدف کے اور لڑکوں سے بھی روابط تھے۔
ریحان تو اس دُنیا سے چلا گیا مگر عقل کے اندھوں کو بتلاگیا ہے۔عورت کا چکر بابو بھیا اچھے اچھوں کی زندگی برباد کردیتا ہے۔
Wednesday, 15 April 2026
بیوی پڑوسی عاشق کے ساتھ مل کر شوہر کا گلا گھونٹ کر قتل کر
بیوی نے پڑوسی عاشق کے ساتھ مل کر شوہر کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا
ایک بار پھر سے ایک خاندانی قتل کا وحشتناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ بورے والا میں ایک خاتون نے اپنے پڑوسی عاشق کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق مرحوم راشد محمود (38 سال) اپنی بیوی سعدی (32 سال) اور تین بچوں کے ساتھ رہ رہے تھے۔ سعدیہ کا پڑوسی عمران (17 سال) کئی ماہ سے اس کے ساتھ ناجائز تعلقات میں مبتلا تھا۔ دونوں نے مل کر راشد کو راستے کا روڑا سمجھا اور اسے ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
گزشتہ رات جب راشد گھر واپس آیا تو سعدیہ نے اسے چائے میں نیند کی گولیاں کھلا دیں۔ جب وہ بے ہوش ہو گیا تو عمران گھر میں داخل ہوا۔ دونوں نے مل کر راشد کا گلا گھونٹا اور پھر چاقو سے متعدد وار کیے۔ لاش کو گھر کے اندر ہی چھپا دیا گیا۔
صبح جب راشد کے بھائی تشویش میں گھر آئے تو لاش دیکھ کر چیخ اٹھے۔ فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی تفتیش کی بنیاد پر سعدیہ اور عمران دونوں کو گرفتار کر لیا۔
پولیس نے سعدیہ کے موبائل سے عمران کے ساتھ ہونے والی "I love you" اور "آج رات اسے ختم کر دیں" والی واٹس ایپ چیٹس بھی برآمد کر لی ہیں۔
سعدیہ اور عمران دونوں کو پولیس حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان پر قتل، سازش اور ثبوت نابود کرنے کے الزامات عائد کر دیے گئے ہیں۔
علاقے میں شدید غم و غصہ پھیلا ہوا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ "گھر کی عورت ہی سب سے بڑا دشمن نکل آئی"۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور جلد ہی دونوں کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
#crimestory #murder #newstoday
Subscribe to:
Posts (Atom)