HD

Tuesday, 30 September 2025

ماں کے اچانک انتقال پر 2 سالہ بچہ کس طرح کئی دنوں تک گھر میں اکیلا رہ کر زندہ بچنے میں کامیاب ہوا؟

ماں کے اچانک انتقال پر 2 سالہ بچہ کس طرح کئی دنوں تک گھر میں اکیلا رہ کر زندہ بچنے میں کامیاب ہوا؟

چین کے صوبے Zhejiang کے علاقے Cangnan میں یہ واقعہ سامنے آیا۔

یہ 2 سالہ بچہ کئی دنوں تک کرائے کے فلیٹ میں اس وجہ سے تنہا اپنا خیال رکھتا رہا تھا کیونکہ اس کی 28 سالہ ماں کا اچانک انتقال ہوگیا تھا۔

اس کا علم گزشتہ دنوں اس وقت ہوا جب بچے کی ماں زینگ یو کا ایک دوست کئی دنوں تک رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔

اس کے بعد دوست کی جانب سے پولیس سے رجوع کیا گیا اور پولیس اہلکار خاتون کے گھر اسے دیکھنے کے لیے گئے۔

اہلکاروں نے خاتون کو گھر کے اندر مردہ دریافت کیا، جہاں اس کا 2 سالہ بیٹا متعدد دنوں سے اکیلا رہ رہا تھا۔
Published from Blogger Prime Android App
انہوں نے گھر میں جگہ جگہ کچرے کا ڈھیر دیکھا اور دریافت ہوا کہ 2 سالہ بچہ وہاں موجود مختلف اشیا جیسے جیلی، کدو، ہربل چائے یا ایسی دیگر اشیا کو کھا کر زندہ رہا۔

ان سب اشیا کا کچرا خاتون کے بیڈروم میں بکھرا ہوا تھا۔

جب پولیس وہاں پہنچی تو بچہ گندگی میں لت پت تھا اور وہ ایک ڈائیپر اور شرٹ پہنے ہوئے تھا۔
Published from Blogger Prime Android App
ایک ہمدرد پڑوسی خاتون نے فوری طور پر بچے کو لیا اور اسے صاف کرکے اس کے لیے کھانا تیار کیا جبکہ نئے کپڑے بھی فراہم کیے، جس کے بعد اسے اسپتال لے جایا گیا

زینگ اپنے بیٹے کو تنہا پال رہی تھیں اور انہیں زندگی میں متعدد مشکلات کا سامنا تھا۔

خاتون کے والدین ذہنی طور پر معذور تھے اور زندگی گزارنے کے لیے حکومتی امداد پر انحصار کرتے تھے۔

زینگ اور ان کی بہن کی پرورش ان کی دادی نے کی تھی۔

زینگ کے بیٹے کی پیدائش فروری 2023 میں ہوئی جس کے فوری بعد شوہر سے تعلق خراب ہوگیا اور آخری بار دونوں کے درمیان رابطہ فروری 2025 میں ہوا۔

زینگ کی صحت کافی خراب تھی اور وہ اکثر سوشل میڈیا پر بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر میں اضافے کے بارے میں پوسٹس کرتی تھیں۔

ان کے خاندان کا خیال ہے کہ زینگ کی موت کسی اچانک بیماری سے ہوئی۔

ابھی خاتون کی موت کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہے۔

البتہ طبی معائنے میں تصدیق ہوئی کہ بچہ جسمانی طور پر بالکل ٹھیک ہے اور اب اس کی دیکھ بھال باپ کی جانب سے کی جا رہی ہے۔

No comments:

Post a Comment