HD

Saturday, 15 March 2025

سائنس کس نے ایجاد کی؟ عبد السلام

سائنس کس نے ایجاد کی؟
عبد السلام
Published from Blogger Prime Android App
 زمانہ قدیم سے ہی انسانوں نے کائنات اور اس کے طبعی قوانین کو سمجھنے کی کوشش کی۔ لیکن یہ کوششیں کسی منظم سائنسی علم کی شکل میں نہیں تھیں۔ ابتدائی ادوار میں یہ علمی جستجو زیادہ تر فلسفے کے تحت آتی تھی ۔

جہاں کائنات کی تشریح عقلی استدلال اور قیاس پر مبنی تھی۔ بعد ازاں مختلف تہذیبی ادوار میں اس علم کو کچھ حد تک منظم کیا گیا، لیکن اسے ایک الگ سائنسی شعبے کی حیثیت حاصل نہیں تھی۔
اسلامی علوم کے سنہری دور میں مختلف تہذیبوں خصوصاً یونانی اور ہندوستانی علوم کو یکجا کیا گیا اور اس دور کے علماء نے مشاہدے اور تجربے کو علم کا ایک اہم ذریعہ سمجھنا شروع کیا۔ 

خاص طور پر ابن الہیثم نے سائنسی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے تجربات کیے، آلات بنائے، اور قوانینِ قدرت کو جانچنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے کچھ لوگ انہیں پہلا حقیقی سائنسدان بھی مانتے ہیں۔

 پھر بھی اس دور کی علمی کاوشیں اب بھی فلسفے کے دائرے میں ہی آتی تھیں کیونکہ مشاہدہ اور تجربہ محض علمی معاونت کے طور پر استعمال ہوتے تھے نہ کہ بنیادی شرط کے طور پر۔
یورپ میں نشاۃ ثانیہ کے دور میں سائنس کی ترقی نے ایک نیا موڑ لیا۔ گلیلیو، نیوٹن، اور فرانسس بیکن جیسے مفکرین نے سائنسی علم کو زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھایا۔ 

انہوں نے سائنسی طریقہ کار کی بنیاد رکھی جس میں مشاہدہ، تجربہ، اور شواہد کی اہمیت کو مرکزی مقام حاصل ہوا۔ اس دور میں واضح ہو گیا کہ سائنس اور فلسفہ دو مختلف شعبے ہیں جہاں سائنس میں کسی نظریے کو درست ثابت کرنے کے لیے تجرباتی شواہد لازمی ہوتے ہیں ۔

جبکہ فلسفہ عقلی استدلال اور معقولیت کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے چاہے مشاہدہ موجود ہو یا نہ ہو۔
بیسویں صدی میں کارل پوپر نے سائنس کے فلسفے کو باقاعدہ طور پر پیش کیا اور سائنسی نظریات کو جانچنے کے لیے falsifiability کے اصول کو متعارف کروایا۔ 

اس اصول کے مطابق کوئی بھی نظریہ تبھی سائنسی کہلایا جا سکتا ہے جب اسے تجرباتی طور پر غلط ثابت کرنے کا امکان موجود ہو۔ کارل پوپر کے کام نے سائنس اور فلسفہ کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی اور سائنسی علم کو ایک الگ اور خود مختار شعبے کے طور پر تسلیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 

یوں سائنس فلسفے سے الگ ہو کر ایک مستقل اور منظم علم کی صورت اختیار کر گئی جس کی بنیاد مشاہدہ، تجربہ، اور تجرباتی شواہد پر ہے۔
اب یہ یہاں پر ہر کوئی اپنے نکتہ نظر سے یا تو قدہم یونان کو سائنس کی ابتداء مان سکتا، یا پھر اسلام کے سنہری دور کو یا پھر یورپ کی نشاۃ ثانیہ کو یا پھر بیسویں صدی کے طیے شدہ اصولوں کو۔ ایک فیصلہ آپ پر ہے۔
جبکے  ڈیب سیک کے مطابق سائنس کسی ایک شخص کی ایجاد نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی تاریخ کے ارتقاء کا نتیجہ ہے۔ قدیم تہذیبوں جیسے میسوپوٹیمیا، مصر، ہندوستان، چین، اور یونان نے سائنسی علم میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد میں، اسلامی دورِ زریں میں مسلم سائنسدانوں نے سائنس کو مزید ترقی دی، اور پھر یورپ میں نشاۃ الثانیہ اور سائنسی انقلاب کے دوران جدید سائنس کی بنیاد رکھی گئی۔ اس طرح، سائنس مختلف تہذیبوں اور مفکرین کے اجتماعی کوششوں کا مرہونِ منت ہے۔

No comments:

Post a Comment