HD

Saturday, 15 March 2025

تقریبا ایک لیٹر خالص (distilled) پانی اور اس میں ملا ہوا 50 گرام گلوکوز، یہ ہے ہماری "گلوکوز کی بوتل" 

تقریباً ایک لیٹر خالص (distilled) پانی اور اس میں ملا ہوا 50 گرام گلوکوز، یہ ہے ہماری "گلوکوز کی بوتل" 
Published from Blogger Prime Android App
تو کیا ہوگا کہ اگر ہم اس گلوکوز کو نکال دیں اور پیچھے بچے ایک لیٹر خالص پانی جس میں کوئی نمکیات یا کوئی "متحل" (solute) نہیں ہے اور پھر اس خالص پانی کی "ڈرپ" کو ہم اپنی خون کی نالی (vein) میں لگا لیں، جیسے ہم عام ڈرپ لگاتے ہیں۔

اس صورت میں موت تقریباً یقینی ہوگی، کیونکہ ایک لیٹر خالص پانی بلکہ ایک لیٹر سے کافی کم خالص پانی بھی آپکے سرخ خلیوں کو "تباہ کردے گا۔

کیوں ؟ کیونکہ پانی کی ایک خصوصیت ہے کہ وہ "متحمل" (solute) کی طرف جاتا ہے، یعنی جہاں نمکیات یا پانی میں حل ہونے والے مادے کی مقدار زیادہ ہوگی تو پانی وہاں ہی جائے گا (خاص شرائط کے تحت)۔ جیسے کچن میں کریلوں یا کچھ اور سبزیوں پر نمک لگائیں تو ان کے اندر کا پانی باہر نکل آتا ہے۔ 

تو جب آپ خالص پانی خون میں داخل کریں گے، خالص پانی سے مراد ایسا پانی جس میں کوئی نمکیات یا حل شدہ چیز نہ ہو، تو یہ پانی خون میں جاکر اپنے آس پاس نمکیات کو تلاش کرے گا، اور جہاں نمکیات/solute کی مقدار زیادہ ہوگی وہاں گھس جائے گا، اور پانی کو سب سے قریب جو نمکیات/solute کا ذخیرہ ملے گا وہ ہوگا خون میں سفر کر رہے سرخ خلیے۔ 

تو سرخ خلیوں میں پانی کا اتنا دباؤ بن جائے گا کہ سرخ خلیے "پھٹ" جائیں گے۔ ان کے پھٹنے سے سرخ خلیوں کے کام میں جان لیوا حد تک کمی آسکتی ہے (یعنی جسم میں آکسیجن کی منتقلی)۔ نیز سرخ خلیوں سے نکلنے والی ہیموگلوبن گردوں کے کام کو شدید متاثر کرسکتی ہے اور ساتھ ہی سرخ خلیوں سے نکلنے والا پوٹاشیم دل کی حرکت کو جان لیوا طور پر متاثر کرسکتا ہے۔

یہ "گلوکوز کی بوتل" یعنی D5-Water ان خاص صورتوں میں استعمال ہوتی جیسا کہ جب جسم میں پانی کی کمی ہو ، مگر نمکیات کی کمی نہ ہو۔ اگر نمکیات کی کمی بھی ساتھ ہوگی تو "نارمل سیلائن" (NaCl 0.9%) استعمال ہوتی ہے، جو ویسے بھی اس D5-water سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ جیسے ان میں حل کرکے ادویات استعمال کرنے وغیرہ میں۔

البتہ جب D5-water استعمال ہوتی ہے تو زیادہ تر حالات میں اس میں شامل گلوکوز کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ یوں سرخ خلیوں کی تباہی سے بچا جائے (hemolysis)، جبکہ گلوکوز کا جسم کو توانائی دینے کا کام، ایک اضافی فائدہ ہوتا ہے۔

یہ سب کوئی راکٹ سائنس نہیں، بہت ہی بنیادی باتیں ہیں، فارغ بیٹھے اس ڈرپ کی تصویر دیکھ کر لکھ دیں، شاید آپکے لیے وقت کا ضیاع ہو۔۔۔

ڈیپ سیک کے مطابق 

اگر آپ خالص پانی (جس میں کوئی نمکیات یا حل شدہ مادے نہ ہوں) کو براہ راست خون کی نالی میں ڈرپ کے ذریعے داخل کریں، تو یہ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خالص پانی ہائپوٹونک (hypotonic) ہوتا ہے، یعنی اس میں نمکیات یا دیگر حل شدہ مادے نہیں ہوتے۔

انسانی جسم کے خلیات (cells) ایک خاص توازن (osmotic balance) برقرار رکھتے ہیں، جس میں خلیات کے اندر اور باہر مائعات اور نمکیات کی مقدار متوازن ہوتی ہے۔ اگر خالص پانی خون میں شامل کیا جائے، تو یہ پانی خلیات میں داخل ہو جائے گا کیونکہ خلیات کے اندر نمکیات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس عمل کو "osmosis" کہتے ہیں۔

خلیات میں پانی کے داخل ہونے سے وہ پھول سکتے ہیں اور اگر یہ عمل زیادہ دیر تک جاری رہے تو خلیات پھٹ سکتے ہیں (hemolysis)، خاص طور پر خون کے سرخ خلیات (red blood cells)۔ اس سے جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس میں گردے، دماغ، اور دل شامل ہیں۔ یہ حالت جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔

عام طور پر، طبی علاج میں استعمال ہونے والے ڈرپس میں نمکیات (saline) یا دیگر حل شدہ مادے ہوتے ہیں تاکہ خون کے ساتھ توازن برقرار رہے۔ اس لیے خالص پانی کا استعمال خون میں براہ راست نہیں کیا جاتا۔

اگر آپ کو کسی طبی مسئلے کے بارے میں سوال ہے تو کسی ماہر ڈاکٹر یا طبی پیشہ ور سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

No comments:

Post a Comment