نظم/ انتظار
سُنو اب لوٹ آو نہ
دیکھو
لوٹ آنے کی امیدوں نے مجھے
اتنا تڑپایا
کہ مجھے خود سے ہمدردی کے
آخری ذرات کا بھی خاتما کرنا پڑا
تم نہیں جانتی انتظار کس چڑیا کا نام ہ
ے
ےجو پروں کہ باوجود اُڑ نہیں سکتی
تمہارے انتظار میں کتنی ہی آنکھیں نیند سے بوجھل
گھر کو آتے راستوں کو تکتی رہیں
کتنے جوانوں نے تمہارے انتظار میں
بالوں میں سفیدی سجا لی
زندانوں میں موجود قیدیوں نے
کئی سال اپنے کان دیواروں سے لگاۓ رکھے
تاکہ وہ تمہارے قدموں کی آہٹ سُن سکیں
اس انتظار میں کتنے لوگوں نے اپنی بینائی کھو دی
اور کتنے قیدی قوت سماعت سے محروم ہو گے
مگر تیرا کہیں پتا نہ چل سکا
اس انتظار کی چکّی میں پستے لکھاریوں نے
اپنے قلم توڑ دیے اور اپنی
تحریروں کو آگ میں پھینک کر
تیرے انتظار میں بیٹھے رہے
کتنے مصلّے تیری آمد کی دعاؤں میں رات بھر
آنسوں سے بھیگتے رہے
تالابوں پہ بیٹھے ہنس
تیرے انتظار میں بوڑھے ہو گئے
کتنی کونجھیں تیرے انتظار میں
پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھی بیٹھی مر گئیں
قبروں کے کتبوں پہ لکھے نام اس بات کی گواہی ہیں
کہ تیرے انتظار نے کتنی زندگیاں نگل ڈالیں
سردیوں کی طوفانی بارشیں
ویران جنگلوں میں جلتی آگ
سگریٹوں سے نکلتا دھواں
آئینوں میں قید مسکراہٹیں
سب تیرے انتظار میں رہے مگر تیرا کہیں پتا نہ چل سکا
جنگوں میں لڑتے سپاہی تیرا نام لے لے کر حملہ کرتے رہے
کتنی سرحدیں تیری آمد کہ انتظار میں
قبرستانوں کی شکل اختیار کر گئیں
کتنی حویلیاں تیرے قدموں کی آہٹ
اپنے سینوں پہ محسوس کرنے کی طلب میں
کھنڈرات میں بدل گئیں
کتنے دریا اس انتظار میں بوڑھے ہوۓ
کہ تو آ کر انکا پانی میٹھا کر دے
اتنے ارمان لیے
سمندر، دریا، قیدی، سپاہی، ہنس،
کونجھیں، مولوی اور پادریوں نے خودکشیاں کر لیں
مگر تو اپنی ہٹ دھرمی پہ
قائم رہی
اور خلا باز آج تک تیرا پتا معلوم نہ کر سکے۔
منظر لطیف
No comments:
Post a Comment