کیا بتاؤں کہ جو ہنگامہ بپا ہے مجھ میں
ان دنوں کوئی بہت سخت خفا ہے مجھ میں
اک چبھن ہے کہ جو بے چین کیے رہتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا ہے مجھ میں
عرفان ستار
اب اس مـقـام پـہ لا کـر کھـڑا کیـا ہـے اسـے،،،
وہ میرے ساتھ چلے گی یـا عزرائیل کے ساتھ
----------------------------------

ہمیـں بـزرگـوں نـے تلقیـن کـی اپیـل کے ساتھ،،،
کـہ ساتھ رہنـا تو رہنـا کسـی اصیـل کے ساتھ،،،
دِلـوں میـں خـوف بٹھـانـا تـو بـدمعـاشـی ہـے،،،
دلـوں میـں بـات بٹھـاؤ کسـی دلیـل کے ساتھ،،،
اب اس مـقـام پـہ لا کـر کھـڑا کیـا ہـے اسـے،،،
وہ میرے ساتھ چلے گی یـا عزرائیل کے ساتھ
میرا وکیل خدا ہـے سـو مجھ سـے مت الجھو،،،
جو بات کرنـی ہـے کر لو مرے وکیل کـے ساتھ
مجھـے گلـے سـے لگـا کـر کسـی کـو روتـا ہـے،،،
لگـاتـا پھـول ہـے لیـکن پـرانـے کیـل کـے سـاتھ،،،
میں ایک رَتی بھی جنت سـے کم نہیں لوں گا،،،
گزارا کر کے میں آیا ہوں جس بخیل کے ساتھ
"افکار علوی"
وحشتِ دل کو رہِ صبر پہ لانے والے
اے خدا جیتے رہیں شعر سنانے والے
فائدہ ڈھونڈنے والوں سے الجھ پڑتے ہیں
ہم ترے ہجر میں نقصان اٹھانے والے
اک جگہ روک زمیں اور اترنے دے مجھے
کرہ ء ارض کو تیزی سے گھمانے والے
اب تو پیوند ہیں باقی نہ نشاں ، دیکھ تو لو
ہونہہ ، بڑے آئے مرے زخم دُکھانے والے
خوش مجھے دیکھ کے افسردہ ہوا ؟ اچھا ہے
قہقہے تھے ہی مرے آگ لگانے والے
وہ مرا رب ہے جو غفّار بھی ، رحمان بھی ہے
اے مجھے خوفزدہ کرنے ، ڈرانے والے
تیری خواہش ہے اگر ترکِ تعلق تو بجا
ہم تو ہر حال میں ہیں ساتھ نبھانے والے
کومل جوئیہ
نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے
کہو کوئی کیسے محبت چھپا لے
کرے کوئی کیا گر وہ آئیں یکایک
نگاہوں کو روکے کہ دل کو سنبھالے
چمن والے بجلی سے بولے نہ چالے
غریبوں کے گھر بے خطا پھونک ڈالے
قیامت ہیں ظالم کی نیچی نگاہیں
خدا جانے کیا ہو جو نظریں اٹھا لے
کروں ایسا سجدہ وہ گھبرا کے کہہ دیں
خدا کے لیے اب تو سر کو اٹھا لے
تمہیں بندہ پرور ہمیں جانتے ہیں
بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے
بس اتنی سی دوری یہ میں ہوں یہ منزل
کہاں آ کے پھوٹے ہیں پاؤں کے چھالے
قمرؔ میں ہوں مختار تنظیم شب کا
ہیں میرے ہی بس میں اندھیرے اجالے
تسکین نہ ہو جس میں وہ راز بدل ڈالو,
جو راز نہ رکھ پائے ہمـــــراز بدل ڈالو,
تم نے بھی سنی ہوگی بڑی عام کہاوت ہے
انجــــــــام کا ہو خطرہ آغـــــــــاز بدل ڈالو
پر سوز دلوں کو جو مســــــــکان نہ دے پائے
سر ہی نہ ملے جس میں وہ ســــاز بدل ڈالو
دشمــــــــن کے ارادوں کو ہے ظاہر اگر کرنا
تم کھیـــــــــــــل وہی کھیلو انداز بدل ڈالو
اے دوست کرو ہمـــت کچھ دور سویـرا ہے
گر چاہتے ہو منــــــــــــــــزل پرواز بدل ڈالو
واقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سے
اس راز کو پوچھو کسی بربادِ نظر سے
اک اشک نکل آیا یے یوں دیدہء تر سے
جس طرح جنازہ کوئی نکلے بھرے گھر سے
رگ رگ میں عوض ِ خوں ، مے دوڑ رہی ہے
وہ دیکھ رہے ہیں مجھے ، مخمور نظر سے
اس طرح بسر ہوتے ہیں دن رات ہمارے
اک تازہ بلا آئی جو اک ٹل گئی سر سے
صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی
واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے
مل جائیں ابد سے مرے اللہ یہ لمحے
وہ دیکھ رہے ہیں مجھے مانوس نظر سے
جائیں تو کہاں جائیں کھڑے سوچ رہے ہیں
اٹھنے کو خمار اٹھ تو گئے ہم کسی در سے
خمار بارہ بنکوی
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے
جوش قدح سے بزم چراغاں کئے ہوئے
کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو
عرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کئے ہوئے
پھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دم
برسوں ہوئے چاک گریباں کئے ہوئے
دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کئے ہوئے
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے
رات دن بیٹھے رہتے ہیں تصور جاناں کئے ہوئے
غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کئے ہوئے
مرزا اسد اللہ خان غالب
مجھ کو انسانوں سے ہمدردی ہے ، اُنسیت ہے
کیونکہ اس دور میں بے چاروں کی اقلیت ہے
لوٹ آؤ مرے لوگو ! مرا دل پھٹ ہی نہ جائے
یومِ عاشور کی صورت کوئی کیفیت ہے
دیکھتا رہتا ہوں اُس چہرے کو خاموشی سے
سوچتا رہتا ہوں پھر، جو مِری حیثیت ہے
حسبِ معمول میں اُس کونے سے چپ چاپ اُٹھا
رو نہ دیتا جو کوئی پوچھتا ، خیریت ہے ؟
کیسی آزادی اگر تیرے قوانین چلیں
پوچھ گُچھ کیسی اگر 'تَن' مری ملکیت ہے
میں تیڈے نال وڈے خواب ڈٹھے ہان وے جان
بین کرنے ہوں تو 'ماں بولی' کو اہمیت ہے
جی ! محبت کا بڑا نام سنا ہے میں نے
کی نہیں ہے ابھی ، البتہ مری نیت ہے
افکار علوی
پت جھڑ میں بہاروں کی فضا ڈھونڈ رہا ہـے
پاگل ہـے جو دنیا میں وفا ڈھونڈ رہا ہـے
خود اپنے ہی ہاتھوں سے وہ گھر اپنا جلا کر
اب سر کو چھپانے کی جگہ ڈھونڈ رہا ہـے
کل رات کو یہ شخص ضیا بانٹ رہا تھا کیوں دن کے اجالے میں دیا ڈھونڈ رہا ہـے
شاید کے ابھی اُس پہ زوال آیا ہوا ہـے
جُگنُو جو اندھیرے میں ضیا ڈھونڈ رہا ہـے
کہتے ہیں کہ ہر جاہ پہ موجود خُدا ہـے
یہ سُن کے وہ پتّھر میں خُدا ڈھونڈ رہا ہـے
أسكو تو کبھی مُجھ سے محبت ہی نہیں تھی
کیوں آج وہ پھر میرا پتا ڈھونڈ رہا ہـے
کس شہرِ مُنافق میں یہ تُم آ گئے ساغرؔ
اک دوجے کی ہر شخص خطا ڈھونڈ رہا ہـے
🖍️ - ساغرؔ صدیقی ♥️🥀
ابن انشاء
ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی
سر زانو پہ رکھے ہوئے کیا سوچ رہی ہو؟
کچھ بات سمجھتی ہو محبت زدگاں کی؟
تم میری طرف دیکھ کے چپ ہو سی گئی تھیں
وہ ساعتِ خوش وقت نشاطِ گزراں کی
اک دن یہ سمجھتے تھے کہ پایانِ تمنا
اک رات ہے مہتاب کے ایامِ جواں کی
اب اور ہی اوقات ہے اے جانِ تمنا!
ہم نالہ کناں، بے گنَہاں، غم زدگاں کی
اس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو!
کہتے ہو کبھی جا کے وہاں بات یہاں کی ؟
برگشتہ ہوا ہم سے، یہ مہتاب تو پیارو!
بس بات سنی، راہ چلا، کاہکشاں کی
اللہ کرے میرؔ کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی
ہوتا ہے یہی عشق میں انجام سبھی کا
باتیں یہی دیکھی ہیں محبت زدگاں کی
پڑھتے ہیں شب و روز اسی شخص کی غزلیں
غزلیں یہ حکایات ہیں ہم دل زدگاں کی
تم چرخِ چہارم کے ستارے ہوئے لوگو!
تاراج کرو زندگیاں اہلِ جہاں کی
اچھا ہمیں بنتے ہوئے، مٹتے ہوئے دیکھو
ہم موجِ گریزاں ہی سہی، آبِ رواں کی
انشاؔ سے ملو، اس سے نہ روکیں گے وہ، لیکن
اُس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی
مشہور ہے ہر بزم میں اس شخص کا سودا
باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام، میاں کی
No comments:
Post a Comment