**جنڈ**
برصغیر کا مقامی اور قدیم درخت جو آج کل بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے جس کا نام ہے جنڈ (کھیجڑی)۔ پنجابی میں جنڈ۔ سندھی میں کانڈی(کنڈی)۔ گجراتی میں سمی یا شمی۔

یہ درخت کافی مشہور ہے۔
مرزا صاحبہ کی کہانی بھی اسی درخت سے جڑی ہے ۔
امریتا دیوی اور اس کی تین بیٹیوں کی کہانی بھی اسی درخت سے جڑی ہے جنہوں نے اس درخت سے لپٹ کر اپنی جانیں دے دی تھیں۔
آپ میں سے کافی لوگوں نے ایک گانا سنا ہوگا سمی میری وار میں واریاں اس گانے کی کہانی بھی اسی درخت سے جڑی ہے۔
یہ درخت سندھ بلوچستان کہ صحرائی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور پنجاب میں خاص کر جنوبی پنجاب کے صحرائی اور نیم صحرائی علاقوں میں عام پایا جاتا تھا لیکن اب نہ پید ہو چکا ہے شاید ہی کہیں شادر نادر نظر آئے۔
بچپن میں ہمارے گھر کے قریب ایک جگہ پر موجود تھا جہاں پر پیپل اور جنڈ ایک ساتھ تھے دونوں کے تنے آپس میں جڑے ہوئے تھے بقول بزرگوں کے ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ وہاں نہیں جانا کیونکہ وہاں جنات رہتے ہیں ۔

صحرائے تھر کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ جس کے پاس ایک اونٹ ایک بکری اور ایک جنڈ کا درخت ہو تو سخت سے سخت حالات میں بھی اس تک موت نہیں پہنچ سکتی واللہ اعلم ۔
جنڈ کا درخت جیٹھ ہاڑ کے مہینے میں بھی سر سبز رہتا ہے جب ریگستانوں میں کوئی بھی درخت سرسبز نہیں رہتا تب یہ جانوروں اور انسانوں کے لیے راحت کا باعث بنتا ہے۔ اور جانوروں کو چارہ فراہم کرتا ہے اس کے پتوں کو لنگ یا لانگی کہا جاتا ہے جو جانور بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔
اس کی پھلی کو سانگری کہتے ہیں جو پکنے کے بعد میٹھی ہو جاتی ہے جس کی سبزی بھی بنائی جاتی ہے اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری جگہوں پر استعمال کی جاتی ہے۔ یہ درخت پورا کا پورا جانداروں کے لیے فائدہ مند ہے اس کی پھلی اس کے پتے اس کی چھال وغیرہ سب کچھ مختلف عوامل میں استعمال ہوتے ہیں ۔

کچھ لوگ پہاڑی کیکر کو جنڈ کا درخت کہتے ہیں حالانکہ دونوں کی الگ پہچان ہے جو اس کے پتوں اور پھولوں سے پہچان کی جا سکتی ہے ۔
اس کی لکڑی بہت مضبوط ہوتی ہے پہلے زمانے میں اس کی لکڑی سے کھیتی باڑی کے لیے اوزار بنائے جاتے تھے اور گھروں کی چھتوں کے لیے چھتیر وغیرہ بنائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ اس کی لکڑی سے فرنیچر بنایا جاتا ہے اور اگ جلانے کے کام بھی آتی ہے۔
جھنڈ درمیانے قدکاٹھ کا درخت ہے جو 35 40 فٹ اونچا ہو سکتا ہے اور اس کی جڑ بہت گہرائی تک جاتی ہے جو اپنی ضرورت کا پانی کھینچ لاتی ہے اور آس پاس کی زمین کو بھی زرخیز کرتی ہے اس کی مرکزی جڑ کو 100 فٹ سے نیچے تک دیکھا گیا ہے ۔
جنڈ کے درخت 🌲 کے بارے میں آپ میں سے جو بھی کوئی معلومات رکھتا ہے وہ شیئر کریں۔
No comments:
Post a Comment