HD

Monday, 21 August 2023

اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے  تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے 

مسیحا

مرے مسیحا۔۔۔۔!
تمھارے ہاتھوں کی نرم پوروں 
کو جیسے اذنِ شفاء ملا ہے
تمھاری  بابت مجھ ایسے بھٹکے ہوئے مسافر
 کو راستے میں خدا ملا ہے 

مرے مسیحا۔۔۔!
ہیں  عامیانہ سی سوچ والے یہ دنیا والے
میں ان کو کیسے بتاؤں جا کر 
کہ ایک قطرے کو چھو کے کیسے
کسی نے دریا  بنا دیا ہے

ہیں عامیانہ سی سوچ والے جہان والے
مری متاعِ حیات ان کو
 سمجھ آئے تو کیسے آئے ۔۔۔
انہیں بتاؤں تو کس طرح سے۔۔۔۔
کہ کون گَنجِ وفا ملا ہے 
دریدہ دامن سے گرتے لمحوں کو گننے والا 
یہ جانتا ہے کہ کیا ملا ہے

مرے مسیحا۔۔۔۔۔!
تمھاری چوکھٹ پہ آ کے وحشت 
سکوں کی چادر لپیٹتی ہے
تمھاری نظرِ کرم کی رحمت
بکھرتے جذبوں ، بکھرتے خوابوں کو
اک جگہ  پر سمیٹتی ہے

مرے مسیحا۔۔۔۔!
حیات کیا ہے، ممات کیا ہے 
یہ آدمی گر تمام خلقت، 
میں معتبر ہے تو کس طرح سے ۔۔۔۔
میں اس خرابے میں اجلی سانسیں
اگر جو مانگوں تو کس خدا سے۔۔۔۔

تمھاری قربت سے قبل مجھ کو نہیں پتہ تھا
مرے مسیحا۔۔۔!  میں باطنی طور مر چکا تھا

مرے مسیحا ۔۔۔!
خزاں کے موسم میں میری خاطر دھنک بنے ہو
وہ جس نے میرے سفاک یاروں کے روشنی میں
 دکھائے چہرے وہی دیئے ہو
تمھارا ممنون ہوں مسیحا۔۔۔۔!
 کہ تم اندھیروں میں روشنی بن کے آ ملے ہو

مرے مسیحا ۔۔۔!
مری دعا ہے جہان فانی کے آخری روز کو بھی دیکھو
خدائے برتر سے زندگی کا ثبات پاؤ
مرے مسیحا مری دعا ہے 
ہمیشگی کی حیات پاؤ
 ہمیشگی کی حیات پاؤ 

نوشیروان اسفند
 شاعر:جواد شیخ
Published from Blogger Prime Android App
آپ جیسوں کے لیئے اِس میں رکھا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔
لیکن ایسا تو نہ کہیئے کہ وفا کچھ بھی نہیں۔

آپ کہیئے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگر۔۔۔
اِس تعلق میں اذیت کے سِوا کچھ بھی نہیں۔

میں کسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔۔۔
یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیئے' یا کچھ بھی نہیں۔

کیسے جانا ہے'کہاں جانا ہے' کیوں جانا ہے ۔۔۔۔
ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتہ کچھ بھی نہیں۔

میں نے دنیا سے الگ رہ کے بھی دیکھا جواد۔۔۔
ایسی منہ زور اُداسی کی دوا کچھ بھی نہیں۔
خلع کا دستخط اس بات کے موازی ہے
خدا کے بھیس میں بیٹھا تھا جو مجازی ہے!

ہمیں صلیب پہ ہونے سے قبل لگتا تھا
کہ ہم سے بندے بھی راضی، خدا بھی راضی ہے!

جو ننھے بچوں کی پشتوں پہ بانس توڑتا ہو
ہماری سمت سے رد ہے، بھلے نمازی ہے!

جدید شعر کی بابت میں کر رہے ہیں جو آپ
زبان سازی نہیں ہے، زباں درازی ہے!

مرے محلے کا ذہنی مریض لڑکا بھی
پولیس گردی میں جب سے مرا ہے غازی ہے!

(ماہ نور رانا)🌹
جس کا انکار بھی انکار نہ سمجھا جائے 
ہم سے وہ یار طرح دار نہ سمجھا جائے 

اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے 
تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے 

اب جو ٹھہری ہے ملاقات تو اس شرط کے ساتھ 
شوق کو در خور اظہار نہ سمجھا جائے 

نالہ بلبل کا جو سنتا ہے تو کھل اٹھتا ہے گل 
عشق کو مفت کی بیگار نہ سمجھا جائے 

عشق کو شاد کرے غم کا مقدر بدلے 
حسن کو اتنا بھی مختار نہ سمجھا جائے 

بڑھ چلا آج بہت حد سے جنون گستاخ 
اب کہیں اس سے سر دار نہ سمجھا جائے 

دل کے لینے سے سلیمؔ اس کو نہیں ہے انکار 
لیکن اس طرح کہ اقرار نہ سمجھا جائے

سلیم احمد
وہ ہمسفر تھا مگر اُس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا، جدائی نہ تھی

عداوتیں تھیں ، تغافل تھا ، رنجشیں تھیں مگر
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بےوفائی نہ تھی

بچھڑتے وقت اُن آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ، جو کسی کو کبھی سنائی نہ تھی

کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت
کبھی یہ مرحلہ ، جیسے کہ آشنائی نہ تھی

کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن
صدا تو آئی تھی، لیکن کوئی دہائی نہ تھی

عجیب ہوتی ہے راہ سخن بھی دیکھ نصیر
وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی

نصیر ترابی
 تو چاہتا ہے کسی اور کو پتا نہ لگے
 میں تیرے ساتھ پھروں اور مجھے ہوا نہ لگے

تمہارے تک میں بہت دل دکھا کے پہنچا ہوں
دعا کرو کہ مجھے کوئی  بددعا نہ لگے

تجھے تو چاہیے ہے اور ایسا چاہیے ہے
 جو تجھ سے عشق کرے اور مبتلا نہ لگے

میں تیرے بعد کوئی تیرے جیسا ڈھونڈتا ہوں 
 جو بے وفائی کرے اور بے وفا نہ لگے

میں اِس لیے بھی اُداسی میں ہنسنے لگتا ہوں 
 کہ مجھ میں اور کسی شخص کی فضا نہ لگے

ہزار عشق کرو لیکن اتنا دھیان رہے
 کہ تم کو پہلی محبت کی بددعا نہ لگے 

عباس تابش
‏اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں
عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو  نہیں

ایک   دن   آپ   کی   برہم   نگہی  دیکھ  چکے
روز   اک   تازہ   قیامت  ہو  ضروری  تو  نہیں

میری  شمعوں  کو  ہواؤں  نے   بجھایا   ہو  گا
یہ بھی ان کی ہی شرارت ہو ضروری تو نہیں

اہل  دنیا   سے  مراسم  بھی   برتنے  ہوں  گے
ہر  نفس صرف  عبادت  ہو  ضروری  تو نہیں

دوستی  آپ  سے  لازم  ہے  مگر  اس  کے لئے
ساری  دنیا  سے  عداوت  ہو  ضروری تو نہیں

پرسش حال کو تم  آؤ  گے  اس  وقت مجھے
لب ہلانے کی بھی طاقت ہو ضروری تو نہیں

سیکڑوں در  ہیں  زمانے  میں گدائی کے لئے
آپ  ہی  کا  در  دولت  ہو  ضروری  تو نہیں

باہمی  ربط  میں  رنجش بھی مزا دیتی ہے
بس محبت ہی محبت  ہو  ضروری  تو نہیں

ظلم  کے  دور   سے   اکراہ   دلی  کافی  ہے
ایک  خوں  ریز  بغاوت  ہو ضروری تو نہیں

ایک مصرعہ بھی جو زندہ رہے کافی ہے صباؔ
میرے ہر شعر کی شہرت ہو ضروری تو نہیں

صبا اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment