تُم بتـــؔـاؤ گے مُجھے آگ کـی حِــدَّت کتنی
عشــق ہوجائے تو ہو جــاتی ہے شِـــؔـدَّت کتنی
لوگ مِلتے ہیں بِچــؔـــھڑتے ہیں چلے جـاتے ہیں
ہاں مگر مِل کــؔے بِچھڑنے کی ہے عِــدَّت کتنی
جب سے گے ہیں آپ تب سے میں خوش نہیں
میں خوش نہیں جناب سچ میں! میں خوش نہیں
ممکن ہے میرے بعد بھی خوش رہو گے تم
یہ وہ خوشی کی بات ہے جس سے میں خوش نہیں
میری ہنسی خوشی سے جلتے ہیں چند لوگ
اس واسطے میں خوش ہوں ویسے میں خوش نہیں
ہماری نیند ہے پوری نہ خواب پورے ہیں
ادھورے لوگ ہیں لیکن عذاب پورے ہیں

کہاں ہیں کیسے ہیں کیوں ہیں اگر مگر شاید
تمہارے پاس تو سارے جواب پورے ہیں
تمہارے بعد ہمیں یہ کبھی لگا ہی نہیں
کہ ہم جہاں ہیں وہاں دستیاب پورے ہیں
ہم کہیں اور ہیں موجود ضرورت کے سبب
ہم وہاں پر نہیں ہوتے کہ جہاں ہم خوش ہوں
مر مر کے مسافر نے بسایا ہے تجھے
رُخ سب سے پھرا کے منہ دکھایا ہے تجھے
کیونکر نہ لپٹ کر سوؤں تجھ سے اے قبر
میں نے بھی تو جاں دے کے پایا ہے تجھے
ہر ایک حـرف ہو امکان ! تیرے جیسا ہو
مِــــــری کتــاب کا عنوان تیرے جیسا ہو
ہزار بار گـــــــــوارا ہے پارســــــائی کو
جو میـری ذات پہ بہـــتان تیرے جیسا ہو
میں عمـر قیــد بصد ناز کاٹ سکتی ہوں
مِرے نصیــب میں زندان تیرے جیسا ہو
مجھے قبـــول ہے ، بارِ دِگــر عنایت ہو
مگر یہ شرط ہے' احسان ترے جیسا ہو
شـفا بھی دیتا ہے یہ معجـــزہ مَحبّت کا
کســی مریـض کا ایمـان تیرے جیسا ہو
ظرف نگاہ چاہیے دیدار کے لئے
رخ کو پس نقاب چھپایا نہ کیجیے
بیمار غم کا کوئی مداوا نہ کیجیے
یعنی ستم گری بھی گوارا نہ کیجیے
رسوائی ہے تو یہ بھی گوارا نہ کیجیے
یعنی پس خیال بھی آیا نہ کیجیے
دل شوق سے جلائیے انکار ہے کسے
لیکن جلا جلا کے بجھایا نہ کیجیے
پردہ نگاہ کا ہے تو کیسی خصوصیت
اپنی نگاہ ناز سے پردا نہ کیجیے
کل غیر کی گلی میں قیامت کا ذکر تھا
شرمائیے حضور بہانا نہ کیجیے
بس آپ کا ستم ہی کرم ہے مرے لیے
للہ غیر سے مجھے پوچھا نہ کیجیے
پابندۂ وفا ہے تو پھر مدعا سے کام
مر جائیے کسی کی تمنا نہ کیجیے
طالبؔ حدیث عشق توجہ طلب سہی
یوں داستاں بنا کے سنایا نہ کیجیے
بدن کے بوجھ کو خود پر اٹھائے پھرتے ہیں
زمیں پہ لوگ نہیں ، صرف سائے پھرتے ہیں
ہر ایک شخص کوکہنا پڑا کہ خوش ہیں بہت
اُجڑ کے حُرمتِ دل کو ، بچائے پھرتے ہیں
گنوا نہ دیں کہیں عجلت پرستیوں میں تجھے
یہ سوچ کر تجھے خود سے، لگائے پھرتے ہیں
یوں اضطراب میں "دن اور رات" گھومتےہیں
کہ جیسے گردشِ غم کے ، ستائے پھرتے ہیں
ابھی تلک تو ہم اسباب ڈھو رهے تھے، فقط
ذرا سی مل گئی فرصت، سرائے پھرتے ہیں
هو اپنے باپ کی جاگیر ، یہ محبت بھی
بُرے دنوں میں اسے، یُوں بچائے پھرتے ہیں
بِچھے گی ان کےبھی دل میں کبھی صفِ ماتم
خوشی خوشی ہمیں اب جو گنوائےپھرتے ہیں
حضور ! کس لئے کچے ہیں آپ کانوں کے ؟
ہر ایک شخص کی باتوں میں آئے پھرتے ہیں
عجیب زعمِ بصارت کے مارے لوگ ہیں یہ
چراغ ہاتھ میں ہیں اور بُجھائے پھرتے ہیں
۔۔۔۔۔ کومل جوئیہ ۔۔۔۔۔
محبت بے تحاشا تھی ، اذیت بھی مثالی ہے
ہمارے ہاتھ میں اپنے بدن کی پائمالی ہے
وہ رزقِ دید کی خیرات اب بٹتی ہے غیروں میں
سنا ہے شہرِ قربت میں بلا کی قحط سالی ہے
اسے کب علم ہو گا عشق کیا تاوان لیتا ہے
وہ اک کم سِن سی لڑکی ہے طبیعت لا اُبالی ہے
اسے کہنا کہ سر آنکھوں پہ اب ترک تعلق بھی
اسے کہنا کبھی پہلے تمہاری بات ٹالی ہے ؟
سو اب جو پھول اگنے ہیں وہ دنیاوی نہیں ہونگے
ترے پیروں کی مٹی چھان کر گملوں میں ڈالی ہے
ابھی ممکن نہیں عادی دھڑکنا سیکھ جائے دل
ابھی دل سے تمہارے ہجر کی وحشت نکالی ہے
تجھ سے مری یہ عاجزی دیکھی نہیں جاتی
مجھ سے تری یہ بےبسی دیکھی نہیں جاتی
تو سامنے میرے کسی سے یوں نا ملا کر
تیری کسی سے دل لگی دیکھی نہیں جاتی
آۓ مجھے ہو ملنے مگر چپ سے ہو بیٹھے
کچھ بول یہ اب خامشی دیکھی نہیں جاتی
اب دیکھ مرے ہونٹ ، کبھی تو نے کہا تھا
ہونٹوں پہ ترے تشنگی دیکھی نہیں جاتی
تاریک ہے ساری یہ مری زندگی اب تو
جب سے گئے ہو روشنی دیکھی نہیں جاتی
کیا عشق جتاؤں میں وہ کہتی ہے کہ ناشر
اب مجھ سے تری عاشقی دیکھی نہیں جاتی
مشاہدحسین ناشر
خواب پلکوں کی ہتھیلی پہ چنے رہتے ہیں
کون جانے وہ کبھی نیند چرانے آئے
مُجھ پہ اُترے وہ میرے الہام کی بارش بن کر
مُجھ کو اک بوند سمندر میں چُھپانے آئے
جب میں سنوروں تو وہ گُلنار کرے میرا تبسم
جب میں ہنس دوں تو وہ غنچہ سا چٹخنا چاہے
جب میں تنہا ہوں میرا ہاتھ پکڑ لے آ کر
جب میں چُپ ہوں تو وہ بادل سا برسنا چاہے
میری برسوں کی اُداسی کو صلہ کُچھ تو ملے
اس سے کہہ دو وہ میرا قرض چُکانے آئے
وہ میرے کانپتے ہونٹوں کی صدائیں سُن لے
یا میرے ضبط کو اظہار کا لہجہ دے دے
یا مُجھے توڑ دے اک گہری نظر سے چھو کر
یا مُجھے چوم کے تخلیق کو سانچا دے دے
میری ترتیب اٹھا جائے خُدا کی مانند
اور مٹ جاوں تو پھر مُجھ کو بنانے آئے
خواب پلکوں کی ہتھیلی پہ چُنے رہتے ہیں
کون جانے وہ کبھی نیند چُرانے آئے
خلیل الرحمان قمر
No comments:
Post a Comment