HD

Tuesday, 15 August 2023

هم نے جذبات کو سینے میں دبا رکھا ہے  دل نے اس پر  بڑا  طوفان اٹھا رکھا ہے 

 ‏ہم نے جذبات کو سینے میں دبا رکھا ہے
 دل نے اس پر  بڑا  طوفان اٹھا رکھا ہے 

تو مجھے چھوڑ چکا جا بھی چکا ہے لیکن
 خود کو اب تک تیری دنیا میں بسا رکھا ہے

 بے وفائی تیرا لہجہ تیرے جھوٹے وعدے
 ایک مسکان نے ہر دکھ کو چھپا رکھا ہے 

پرسکوں بیٹھے ہیں یوں تو تیرے آنے پر بھی
 دل  کی دھڑکن  نے  مگر  شور  مچا رکھا ہے

 ہم نے دشمن کا برا بھی نہیں چاہا ہے کبھی
 لب  پہ  ہر  اک  کے  لیے  حرف  دعا رکھا ہے

 جاؤ اے اہل جہاں ڈھونڈ کے لاؤ اس کو
 جس  کے  غم نے ہمیں بیمار بنا رکھا ہے

منتظر آج بھی اس کی ہیں یہ کافر آنکھیں
اب تلک راہ میں پلکوں کو بچھا رکھا ہے

عاصمہ فراز
میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
مرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میں

سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں

صحرا کی بود و باش ہے اچھی نہ کیوں لگے
سوکھی ہوئی گلاب کی ٹہنی گلاس میں

چمکے نہیں نظر میں ابھی نقش دور کے
مصروف ہوں ابھی عمل انعکاس میں

دھوکے سے اس حسیں کو اگر چوم بھی لیا
پاؤ گے دل کا زہر لبوں کی مٹھاس میں

تارہ کوئی ردائے شب ابر میں نہ تھا
بیٹھا تھا میں اداس بیابان یاس میں

جوئے روان دشت ابھی سوکھنا نہیں
ساون ہے دور اور وہی شدت ہے پیاس میں

رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا
پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں

کانٹوں کی باڑ پھاند گیا تھا مگر شکیبؔ
رستہ نہ مل سکا مجھے پھولوں کی باس میں
Published from Blogger Prime Android App
شکیب جلالی
 ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں
‏میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں

‏میں نے پلکوں سے در  یار پہ دستک دی ہے
‏میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

‏میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
‏ہم  سے کہتے  ہیں  وہی  عہد  وفا  یاد  نہیں

‏کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں
‏کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں

‏صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے
‏کب  ہوا  کون  ہوا  کس  سے  خفا  یاد  نہیں

‏زندگی  جبر  مسلسل  کی  طرح کاٹی ہے
‏جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

‏آؤ  اک  سجدہ  کریں  عالم مدہوشی میں
‏لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں

‏ساغر صدیقی
[تازہ غزل 
  آپ کہتے ہیں کم بناوٹی ہیں 
   اکثر  اہل قلم بناوٹی ہیں 
 
 چور شاعر کرم کی بات کرے 
 گویا باہم  بہم بناوٹی ہیں  

 مٹی سونے کے بھاو بیچتا ہے 
 جانتا ہے بھرم بناوٹی ہیں 

  کہتے پاۓ گٸے ہیں آپس میں 
  بات سچ ہےکہ ہم بناوٹی ہیں 

    جعلسازی ہے شاعری ان کی 
    درد نقلی ہیں ، غم بناوٹی ہیں 
  
   ان کا دست دعا بھی مصنوعی 
   جیبیں نقلی  شکم بناوٹی ہیں 

   فیسٹیول اور مشاعروں والو 
  آپ مولا  قسم بناوٹی ہیں 
 
  جن کے پیسوں کی آپ پیتے ہیں 
 ان کے دیر و حرم بناوٹی ہیں 

 پہلے ہوتے تھے زیاہ تر عشاق 
  آج کل تو صنم بناوٹی ہیں
یہ خوف دِل میں نگاہ میں اضطراب کیوں ھے
طلوعِ محشر سے پیشتر یہ عذاب کیوں ھے

کبھی تو بدلے یہ ماتمی رُت اُداسیوں کی
میری نگاہوں میں ایک سا شہر خواب کیوں ھے

کبھی کبھی تیری بے نیازی سے خوف کھا کر
میں سوچتا ہُوں کہ تُو میرا انتخاب کیوں ھے

فلک پہ بکھری سیاہیاں اب بھی سوچتی ہیں
زمیں کے سر پہ یہ چادر آفتاب کیوں ھے

ترس گئے میرے آئینے اُس کے خال و خد کو
وہ آدمی ھے تو اس قدر لاجواب کیوں ھے

اُسے گنوا کر پھر اُس کو پانے کا شوق کیسا
گناہ کر کے بھی انتظارِ ثواب کیوں ھے

تیرے لیے اُس کی رحمتِ بے کنار کیسی
میرے لیے اُس کی رنجش بے حساب کیوں ھے

اُسے تو محسن بلا کی نفرت تھی شاعروں سے
پھر اُس کے ہاتھوں میں شاعری کی کتاب کیوں ھے

سید محسن نقوی
 گردن کا طوق پاؤں کی زنجیر کھینچتے
پھر نقشِ خوش خرامیِ تقدیر کھینچتے

دستِ دعا کو تھام لیا تم نے ورنہ ہم
حرفِ دعا کو تا دمِ تاثیر کھینچتے

سب کو یہ زعم تھا کہ تقدّس مآب ہیں
ہم کیوں حصارِ آیہِ تطہیر کھینچتے

اہلِ جنوں نے معرکے وہ سر کئے جہاں
اہلِ خِرَد کا کام تھا شمشیر کھینچتے

بہتر یہ ہوتا آپ کماں کھینچنے سے قبل
پہلی عنایتوں کے تو کچھ تِیر کھینچتے

کیسا نظامِ عدل میاں ! سُن لِیا کرو!
ہم در بہ در گئے ہیں یہ زنجیر کھینچتے

لے لے کے اُن کا نام مجھے دیکھتے ہیں لوگ
ایسے میں کاش وہ مری تصویر کھینچتے

خود سے نکل کے دیکھتے گر عکسِ حُسنِ یار
آئینے نقشِ حیرتِ تصویر کھینچتے

تِنکے نکالنے میں رہے چشمِ غیر سے
ضامنؔ! وہ اپنی آنکھ کا شہتیر کھینچتے

ضامن جعفری

No comments:

Post a Comment