ہر اِک ہزار میں بس پانچ، سات ہیں ہم لوگ
نصابِ عشق پہ واجب زکوٰۃ ہیں ہم لوگ
دباؤ میں بھی جماعت کبھی نہیں بدلی
شُروع دن سے محبت کے ساتھ ہیں ہم لوگ
جو سیکھنی ہَو زبانِ سکوت، بسم اللہ!
خموشیوں کی مکمل لُغات ہیں ہم لوگ
کہانیوں کے وہ کردار جو لکھے نہ گئے
خبر سے حذف شُدہ واقعات ہیں ہم لوگ
یہ انتظار ہمیں دیکھ کر بنایا گیا
ظہورِ ہجر سے پہلے کی بات ہیں ہم لوگ
کسی کو راستہ دے دیں، کسی کو پانی نہ دیں
کہیں پہ نِیل ، کہیں پر فرات ہیں ہم لوگ
ہمیں جلا کے کوئی شب گُزار سکتا ہے
سڑک پہ بِکھرے ہوئے کاغذات ہیں ہم لوگ

عُمیر نجمیٗ
⚘♥︎‿♥︎⚘
واسطہ حُسن سے کیا، شدّتِ جذبات سے کیا
عشق کو تیرے قبیلے یا میری ذات سے کیا
میری مصروف طبیعت بھی کہاں روک سکی
وہ تو یاد آتا ہے اسکو میرے دن رات سے کیا
قطرہ قطرہ ڈھلتی ہیں پر جلتی ہیں
درد کی شمعیں مدھم مدھم آنکھوں میں
راہ کہاں سے پاتے ہیں کیوں آتے ہیں؟
ہنستے ہنستے آنسو یکدم آنکھوں میں
سعودعثمانی
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
جاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوے
سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر
تو اس قدِ دل کش سے جو گلزار میں آوے
تب نازِ گراں مایگیٔ اشک بجا ہے
جب لختِ جگر دیدۂ خوں بار میں آوے
دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
کچھ تجھ کو مزہ بھی مرے آزار میں آوے
اس چشمِ فسوں گر کا اگر پائے اشارہ
طوطی کی طرح آئینہ گفتار میں آوے
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب
اک آبلہ پا وادیِ پر خار میں آوے
مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تنِ نازک
آغوشِ خمِ حلقۂ زنار میں آوے
غارت گرِ ناموس نہ ہو گر ہوسِ زر
کیوں شاہدِ گل باغ سے بازار میں آوے
تب چاکِ گریباں کا مزہ ہے دلِ نالاں
جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سے
اے وائے اگر معرضِ اظہار میں آوے
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
میرزا اسد اللہ خان غالبؔ رحمۃ اللہ علیہ
کا با کمال اور ان کی ولایت کا شاہد کلام
بدگماں ہے تو، وضاحت نہیں دینی میں نے
جان دینی ہے مگر، اذیت نہیں دینی میں نے
آج اداسی ہے میرے دل میں، اتر آنکھ میں جھانک
کل تجھے اس کی بھی، اجازت نہیں دینی میں نے
: مِلنے کا جب کہا تو مِلا، دُکھ ہوا مجھے
میں نے بھی مِل کے منہ پہ کہا: "دُکھ ہوا مجھے! "
میں چاہتا تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ خوش رہے
لیکن وہ خوش ہوا تو بڑا دُکھ ہوا مجھے
سسّی کی داستان سنی تھی گزشتہ شب
میرے بلوچ دوست! ادا! دُکھ ہوا مجھے
اِک دُکھ تھا جس کا مجھ کو نہیں ہو رہا تھا دُکھ
لیکن جب اُس کو دُکھ نہ ہوا، دُکھ ہوا مجھے
اُس کے دیئے دُکھوں پہ الگ غمزدہ تھا میں
اور انتقام لے کے جُدا دُکھ ہوا مجھے
لگتا ہے میرے ردّعمل سے نہیں لگا
لیکن یقین کر! بخدا! دُکھ ہوا مجھے
تب یہ پتہ چلا کہ مجھے اُس سے عشق ہے
جب اُس کے دُکھ پہ اُس سے سِوا دُکھ ہوا مجھے
عمیر نجمی
برستی بارش میں بہتے آنسو چھپا نہ پایا تو کیا کروں گا
کسی نے پوچھا جو حال تیرا بتا نہ پایا تو کیا کروں گا
ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی چڑھا ہے خمار اس پر
نبھا کے وعدے جو کر رہا ہے نبھا نہ پایا تو کیا کروں گا
نہ دیکھوں جب تک تجھے میں جاناں قرار آئے نہ میرے دل کو
بچھڑ کے تم سے تمھاری صورت بھلا نہ پایا تو کیا کروں گا
کبھی جو مجھ پر بھی وہ ترس کھائیں پاس آئیں مزاج پوچھیں
زبان میری جو لڑکھڑائے سنا نہ پایا تو کیا کروں گا
لگائی تم نے جو آگ دل پر ابھی وہ دھیمے سلگ رہی ہے
وہ آگ ساغر میں مرتے دم تک بجھا نہ پایا تو کیا کروں گا
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اِتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبّے دُھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے ختمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں ، مہرباں راتوں کے بعد
دِل تو چاہا ، پر شکستِ دِل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے ، مناجاتوں کے بعد
اُن سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیے
اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات ، سب باتوں کے بعد
فیض احمد فیضؔ
مجموعہ کلام : ”شامِ شہرِ یاراں"
کس نئےخواب میں رھتا ہوں ڈبویا هوا میں
ایک مدت هوئی جاگا نہیں ، سویا هوا میں
میری سُورج سےملاقات بھی هو سکتی هے
سُوکھنے ڈال دیا جاؤں، جو دھویا هوا میں
مجھے باہر نہیں ، سامان کے اندر ڈھونڈو
مل بھی سکتاھوں کسی شےمیں سمویا هوا میں
شام کی آخری آھٹ پہ ، دهلتا هوا دل
صبح کی پہلی هواؤں میں بھگویا هوا میں
آسماں پر ، کوئی کونپل سا نکل آؤں گا
سالہا سال سے اس خاک میں بویا هوا میں
کبھی چاہوں، تو اب جا بھی کہاں سکتاهوں
اس طرح سے تیرےکانٹےمیں پِرویا هوا میں
مسکراتے هوئے ملتا هوں کسی سےجو ظفرؔ
صاف پہچان لیا جاتا هوں ، رویا هوا میں
*(ظفر اقبال)*
تُو چاہتا ہے کسی اور کو پتا نہ لگے
میں تیرے ساتھ پھروں اور مجھے ہوا نہ لگے
تمہارے تک میں بہت دل دکھا کے پہنچا ہوں
دعا کرو کہ مجھے کوئی بددعا نہ لگے
تجھے تو چاہیے ہے، اور ایسا چاہیے ہے
جو تجھ سے عشق کرے اور مبتلا نہ لگے
میں تیرے بعد کوئی تیرے جیسا ڈھونڈتا ہوں
جو بے وفائی کرے، اور بے وفا نہ لگے
میں اس لیے بھی اداسی میں ہنسنے لگتا ہوں
کہ مجھ میں اور کسی شخص کی فضا نہ لگے
ہزار عشق کرو، لیکن اتنا دھیان رہے
کہ تم کو پہلی محبت کی بددعا نہ لگے
No comments:
Post a Comment