منتیں کر کے خود کو مناتا رہا ! مسکراتا رہا
یار خوش تھے سو میں گیت گاتا رہا ، مسکراتا رہا !
میرے دشمن کی ماں نے مرے حق میں رو کر گواہی لکھی
یہ ہمارے لیے زخم کھاتا رہا ! مسکراتا رہا
تیری آنکھیں کہیں بجھ نہ جائیں مجھے چیختا دیکھ کر
اس لیے اپنے آنسو چھپاتا رہا ! مسکراتا رہا
تُو نہیں تھا ! مگر یہ دلاسہ ضروری تھا میرے لیے
تُو یہیں ہے ! میں خود کو بتاتا رہا ! مسکراتا رہا
میری نسبت بھی اک صبر والے دئیے کے گھرانے سے تھی
ظلم سہتا رہا ! سر کٹاتا رہا ! مسکراتا رہا !
میرے ہونے سے کتنے نہ ہوتے ہوؤں کی دکانیں چلِیں
پوچھ اُن سے جنہیں میں بناتا رہا ! مسکراتا رہا
میں نے ہجرت تو کی، دستِ ظالم پہ بیعت نہ کی دوستا
تُو تو بس اپنی گردن جھکاتا رہا ! مسکراتا رہا
کاروانِ محبت کے سالار کا عزم دیکھو علی
کوئی آتا رہا ، کوئی جاتا رہا! مسکراتا رہا
,ہم ایک دوسرے کی جدائیاں ہیں اور ایک دوسرے کا وصال بن کر بیٹھے ہیں، کوئی پہلے اور کوئی بعد میں چلا جائے گا !

واصف علی واصف
تمہارا ہجر بدن میں تھکن اتار گیا
عجب سی دیدۂ نم میں جلن اتار گیا
میں جس کی شہہ پہ دنیا سے لڑ رہا تھا وہی
زمین قدموں سے سر سے گگن اتار گیا
وہ گاؤں گھومے اور آخر اُنہیں یہ کہنا پڑا
تیرے علاوہ یہاں دیکھنے کو کچھ بھی نہیں!
تیری آنکھوں کی سہولت ہو میسّر جِسکو
وہ بھلا چاند ، ستاروں کو کہاں دیکھے گا
رُوبرُو عِشق ہو اور عِشق بھی تیرے جیسا
پھر کوئی دِل کےخسارے کو کہاں دیکھے گا
میرے لبوں پہ تبسم ہے موجزن اب تک
کہ دل کا ٹوٹنا ذرا سی بات ہو جیسے۔۔۔۔۔!!!!
نظر سے دور ہو کر بھی وہ تیرا روبرو ہونا
۔ کسی کے پاس ہونے کا سلیقہ ہو تو ایسا ہو
یہ سوزِ دروں، یہ اشکِ رواں، یہ کاوشِ ہستی کیا کہیے
مرتے ہیں کچھ دن جی لیں ہم، جیتے ہیں کہ آخر مرنا ہے
جوان لڑکا ہوں اپنا تمام دن تیرے
کسی خیال میں کھوئے گزار دیتا ہوں
مجھے نہ دیکھ محبت بھری نگاہوں سے
میں ایسا قرض بہت جلد اتار دیتا ہوں
مَیں تَہی دست کہاں یاد بھی دے پایا اُسے
وہ تو کچھ دے ہی گیا ، رنجِ جدائی ہی سہی
آنے جانے کو عجب کھیل بنا رکھا ہے
اک تماشہ ہے جو سانسوں نے لگا رکھا ہے
ہم ہیں اُکتائے ہوئے پھر بھی یہی کہتے ہیں
یار کے غم نے یوں پابندِ وفا رکھا ہے
روح تک چھائے ہوئے شخص تجھے لگتا ہے
دست بردار ہوئے تجھ سے تو جی پائیں گے
روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام
اللہ رے جسمِ یار کی خوبی کہ خودبخود
رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام
دیکھو تو جسمِ یار کی جادو نگاہیاں
ہوئی اک نظر سےبےہوش انجمن تمام
حسرت موہانی
محبت اب نہیں ہو گی یہ کچھ دن بعد ہو گی
گزر جائے گیں یہ دن ان کی یاد میں ہو گی
منیر
گو میں رہا رہین ہائے ستم روزگار
مگر تیری یاد سے غافل نہیں رہا
مرزا غالب
لفظوں سے خاک درد کو حسن بیاں ملے🤍
اے کاش چند پل مرے دل کو زباں ملے
وہ روبرو ہوئے تو لرزنے لگا وجود.
سوچا تھا لپٹ جاونگا اب کے جہاں ملے
ہوش کا کتنا تناُسب ہو بتا دے مُجھ کو،
اور اس عشق میں درکار ہے وحشت کتنی...؟
دیکھ یہ ہاتھ میرا اور بتا دست شناس،
رزق کتنا ہے مُقدر میں..؟ مُحبت کتنی.
مجھ سے چھپنا تجھے زیبا نہیں اے پیکرِ حُسن
میں محبت ہی محبت ہوں محبت کی قسم
جگر مراد آبادی
ھے انتظار کال کا ھم سو نہیں رھے
اب تک تمھارے پانچ منٹ ھو نہیں رھے؟
یہ بھی ھمارے پیار کی پختہ دلیل ھے
تو دستیاب ھے تو تجھے کھو نہیں رھے
ھم لوگ علم بیچنے والے عظیم لوگ
عرصے سے بیج آگہی کا بو نہیں رھے
خود پر شدید جبر ھے ، یہ صبر تو نہیں
ھم ہنس رھے ہیں دوستا ھم رو نہیں رھے
تُو نے تو میری ذات کو یکسر بدل دیا
جتنے بھی مجھ میں عیب تھے " دیکھو " نہیں رھے
میں ان کے خواب دیکھنے والا قدیم شخص
میری نگاہِ یاد میں جو جو نہیں رھے
جس دن زمین خاک سے بیزار ھو گئی ؟
اپنے یہ فرضی جسم بھی ، پھر تو، نہیں رھے
ھائے کئی غزال بدن ، خوش گلو بشر
پھرتے تھے اس جہان میں سوچو،، نہیں رھے
: سزا پہ چھوڑ دیا کچھ جزا پہ چھوڑ دیا..!!
ہر ایک کام کو میں نے خدا پر چھوڑ دیا..!!
وہ مجھکو یاد رکھے گا یا پھر بھلا دے گا..!!
اُسی کا کام تھا اُسکی رضا پہ چھوڑ دیا..!!
اب اُسکی مرضی جلائے یا پھر بجھائے رکھے..!!
چراغ ہم نے جلا کر ہوا پر چھوڑ دیا..!!
اُس سے بات بھی کرتے تو کس طرح کرتے..!!
یہ مسئلہ تھا انا کا انا پہ چھوڑ دیا..!!
اسی لیئے تو وہ کہتے ہیں بے وفا ہم کو..!!
کہ ہم نے سارا زمانہ وفا پہ چھوڑ دیا..!! 🖤🥀
پرانے خط ہیں، دراز آدھی کھلی ہوئی ہے
ہوا کے اندر کسی کی خوشبو گھلی ہوئی ہے
میں کتنی مشکل سے خود کو اچھا بنا رہا ہوں
مجھے محبت بگاڑنے پہ تلی ہوئی ہے🖤🥀
ہم کہ معمور ہیں دنیاؤں کی دلجوئی پر
ہم کسے جا کہ بتائیں __جو ہمارا دکھ ہے
ہے کوئی اور مرے بعد __تری دنیا میں
میری دنیا میں ترے بعد دوبارہ دکھ ہے
بہت غور کیا ہے سو ہم اے جون،
طے کرکے اٹھے ہیں کہ تمنا نہ کریں گے،
جون
تجھ سے جو آنکھ ملائے وہی مستانہ بنے۔۔
اک نظر جو تجھے دیکھے وہی دیوانہ بنے۔۔
تیری بھیگی ہوئ زلفوں کے تقدس کی قسم
تو جہاں بال نچوڑے وہی میخانہ بنے۔۔۔
کہ جب یاری مجھے کرنی پڑی تھی
طرفداری مجھے کرنی پڑی تھی
محبت کا ادا کرنا پڑا حق
یہ جاں واری مجھے کرنی پڑی تھی
یہ آنکھیں ہیں بہک جانے کی خوگر
خبرداری مجھے کرنی پڑی تھی
تجھے تو زخم دینے کی تھی عادت
رفوکاری مجھے کرنی پڑی تھی
مرا بچپن کمانے میں تھا گزرا
یہ گھر داری مجھے کرنی پڑی تھی
محبت ڈھونگ تھی اُس کی مرے ساتھ
اداکاری مجھے کرنی پڑی تھی
مری باری تو میں نے کر لی لیکن
تری باری مجھے کرنی پڑی تھی
مجھے غربت کا کرنا سامنا تھا
تو تیاری مجھے کرنی پڑی تھی
لبوں پر لب محبت میں رکھے تھے
یوں افطاری مجھے کرنی پڑی تھی
تمہاری شوخؔ صورت دیکھتے ہی
غزل جاری مجھے کرنی پڑی تھی
شوخؔ جی
💝
[25/05, 10:36 am] +92 332 9332400: دیکھیں وہ آ کے میرا تماشا خدا کرے
میرے جُنوں میں رنگ وہ پیدا خدا کرے
تم پر جفا کرے ،کوئی تم سا خدا کرے
کچھ اور ہو نہ ہو ،مگر ایسا خدا کرے
لے اِنتقام کوئی ہمارا خدا کرے
تم سے بھی ہو وفا کا تقاضا، خدا کرے
دل ہے مُلول، اور نگاہیں اُداس ہیں
مِل جائے کاش! تیرا سہارا خدا کرے
مَیں نے کہا ،کہ مجھ پہ کبھی مہرباں تو ھوں
ہنس کر کہا ،خیال ہے اچّھا ” خدا کرے “
وہ مِل گئے، نگاہ مِلی ،دل سے دل مِلا
اب اِس کرم کے بعد کہو، کیا خدا کرے
دُنیا سجائی، ہم کو بنایا ،مٹا دیا
دیکھیں اب آگے اور بھی کیا کیا خدا کرے
دل کو یقیں ہے اُن کی ملاقات کا نصؔیر
اب دیکھیے کرم وہ کریں، یا خدا کرے
پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ
No comments:
Post a Comment