تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھا
ہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیں
سنا جو تو نے بہ دل وہ پیام کس کا تھا
اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں
لحاظ آپ کو وقت خرام کس کا تھا
گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے
تباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جانا
خیال خام یہ سودائے خام کس کا تھا
انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور
جو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
"ﻣﻨﮕﺘﯽ"

ﮨﺘﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﮔﻞ ﮐﺮ ﻏﯿﺮﺕ ﻣﻨﺪ
ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﮕﯿﺮ ﻓﺤﺎﺷﮧ ﻧﺌﯿﮟ
ﭼﻠﻮ ﺗﻨﮓ ﺣﺎﻻﺕ ﺩﯼ ﺟﯿﻞ ﺍﭺ ﮬﺎﮞ
ﭘﺮ ﺍﻟﮩﮍ ﺷﻮﺥ ﺭﻗﺎﺻﮧ ﻧﺌﯿﮟ
ﺑﮭﮑﺎ ﻭﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﺪﮮ ﺑﺎﻻﮞ ﻧﻮﮞ
ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮏ ﺑﮏ ﺍﺗﮭﺮﻭ ﺭﻭﻧﺪﯼ ﮬﺎﮞ
ﻟﻮﮐﯽ ﻭﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮬﺲ ﭘﻮﻧﺪﻥ
ﮨﺮ ﻣﻮﮌ ﺗﮯ ﺟﺪﻭﮞ ﮐﮭﻠﻮﻧﺪﯼ ﮬﺎﮞ
ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮨﺮ ﮔﺰ ﺷﻮﻕ ﺍﺩﺃ ﺩﺍ ﻧﺌﯿﮟ
ﻣﯿﻨﻮﮞ کاسہ ﻭﻗﺖ ﻧﭙﺎﯾﺄ ﮬﮯ
ﻣﯿﻨﻮﮞ ﺩﺭ ﺩﺭ ﭘﮭﺮﻧﺎ ﻋﺎﺩﺕ ﻧﺌﯿﮟ
ﻣﯿﻨﻮﮞ ﺩﺭ ﺩﺭ ﺑﺨﺖ ﭘﮭﺮﺍﯾﺎ ﮬﮯ
ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻢ ﻓﺮﻭﺵ ﻓﺤﺎﺷﮧ ﻧﺌﯿﮟ
ﺑﺲ ﺭﺏ ﺩﮮ ﻧﺎﮞ ﺗﮯ ﻣﻨﮕﺪﯼ ﮬﺎﮞ
ﻧﺎﮞ ﮐﺴﮯ ﺩﯼ ﺳﯿﺞ ﺗﮯ ﺳﻮﻧﺪﯼ ﮬﺎﮞ
ﻧﺎﮞ ﮔﮭﻨﮕﺮﻭ ﺑﮭﻦ ﮐﮯ ﻧﭽﺪﯼ ﮬﺎﮞ
ﺗﻮﮞ ﺷﮩﺮ ﺩﺍ ﺣﺎﮐﻢ ﮐﺠﮫ ﻧﺎﮞ ﺩﮮ
ﭘﺮ ﺍﯾﮉﺍ ﻏﻠﻂ ﺧﯿﺎﻝ ﻧﺎﮞ ﮐﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﺷﺮﻡ ﺣﯿﺎ ﺩﯼ ﭼﺎﺩﺭ ﻧﻮﮞ
ﺍﻧﺞ ﭘﯿﺮﺍﮞ ﮨﯿﭩﮫ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﻧﺎﮞ ﮐﺮ
ﺭﮐﮫ ﺳﺎﻧﺒﮫ ﮐﮯ ﻗﺎﺳﻢ ﺩﻭﻟﺖ ﻧﻮﮞ
ﺩﻭ ﭨﮑﯿﺄﮞ ﻧﺎﻝ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻧﺎﮞ ﻣﻨﮓ
ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﻞ ﮬﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻨﺠﺮﯼ ﻧﺌﯿﮟ
ﺧﯿﺮﺍﺕ دے بدلے رات نہ منگ
غزل
(جاوید اختر)
آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے
پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی، اب تو جب دیکھئے مسکرانے لگے
ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا، محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھا
آپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا، ملنے جلنے لگے، آنے جانے لگے
ہم نے جب آپ کی دیکھیں دلچسپیاں، آگئیں چند ہم میں بھی تبدیلیاں
اک مصور سے بھی ہوگئی دوستی، اور غزلیں بھی سننے سنانے لگے
آپ کے بارے میں پوچھ بیٹھا کوئی، کیا کہیں ہم سے کیا بدحواسی ہوئی
کہنے والی جو تھی بات ہو نہ سکی، بات جو تھی چھپانی، بتانے لگے
عشق بے گھر کرے، عشق بے در کرے، عشق کا سچ ہے کوئی ٹھکانا نہیں
ہم جو کل تک ٹھکانے کے تھے آدمی، آپ سے مل کے کیسے ٹھکانے لگے
تم محبت میں کرو گے وفا مطلب کچھ بھی
اُس نے یوں طنز کیا اور کہا مطلب کچھ بھی
میں کہ ہر لمحہ میسر ہوں تجھے جانِ جاں
پھر بھی تم کرنے لگے ہو گلہ مطلب کچھ بھی
ھم بصدناز دِل و جاں میں بسائے بھی گئے
پھِر گنوائے بھی گئے اور بھُلائے بھی گئے
جان ایلیا
تیرے چند لمحے مجھے درکار ھیں لیکن
شرط یہ ھے کہ گھڑیاں نہیں دیکھیں گے
جب میں نے اسے دیکھے بغیر پہلی دفعہ اسکی آواز سنی تو سوچا کوئی اتنا خوبصورت کیسے ہو سکتا ہے
دیکھا ہے ماہ تاب نے جلتے ہوئے ہمیں
دشتِ جنوں کے عکس میں ڈھلتے ہوئے ہمیں
بچھتی گئی نگاہ میں تاروں کی رہ گزر
جگنو بلا رہے ہیں مچلتے ہوئے ہمیں
پھسلا تھا پاؤں خواب کی گیلی زمین پر
دیکھا نہ پھر کسی نے سنبھلتے ہوئے ہمیں
دہلیز پر کھڑی تھیں ہزاروں کہانیاں
کیا کیا نہ یاد آیا نکلتے ہوئے ہمیں
کرنا ہے زندگی کا مسلسل محاسبہ
ڈرنا نہیں ہے خود کو بدلتے ہوئے ہمیں
یخ بستہ ٹہنیوں کا بدن، آرزو کی آنچ
کچھ روز تو لگیں گے پگھلتے ہوئے ہمیں
نیلمؔ سرابِ زیست کے لمحے حباب سے
محسوس ہو رہے ہیں پھسلتے ہوئے ہمیں
No comments:
Post a Comment