HD

Sunday, 9 April 2023

محبت میں کرو گے  وفا مطلب کچھ  بھی اُس نے یوں طنز کیا اور کہا مطلب  کچھ بھی

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ  تھا  رقیب  تو  آخر وہ نام کس کا تھا

وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ  کام  کس  نے  کیا ہے  یہ  کام  کس  کا  تھا

وفا   کریں  گے  نباہیں  گے  بات  مانیں  گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون  ہوا  ہے  مقام کس کا تھا

نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری   بزم   میں   کل  اہتمام   کس   کا   تھا

تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو  وہ  تذکرۂ  ناتمام   کس   کا  تھا

ہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیں
سنا جو  تو  نے  بہ  دل وہ پیام کس کا تھا

اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں
لحاظ  آپ  کو  وقت  خرام   کس   کا  تھا

گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا

اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے
تباہ حال  بہت  زیر  بام  کس کا تھا

وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جانا
خیال خام  یہ  سودائے  خام  کس  کا تھا

انہیں صفات  سے  ہوتا ہے آدمی مشہور
جو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا

ہر  اک  سے  کہتے  ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
"ﻣﻨﮕﺘﯽ"
Published from Blogger Prime Android App
ﮨﺘﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﮔﻞ ﮐﺮ ﻏﯿﺮﺕ ﻣﻨﺪ
ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﮕﯿﺮ ﻓﺤﺎﺷﮧ ﻧﺌﯿﮟ

ﭼﻠﻮ ﺗﻨﮓ ﺣﺎﻻﺕ ﺩﯼ ﺟﯿﻞ ﺍﭺ ﮬﺎﮞ
ﭘﺮ ﺍﻟﮩﮍ ﺷﻮﺥ ﺭﻗﺎﺻﮧ ﻧﺌﯿﮟ

ﺑﮭﮑﺎ ﻭﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﺪﮮ ﺑﺎﻻﮞ ﻧﻮﮞ
ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮏ ﺑﮏ ﺍﺗﮭﺮﻭ ﺭﻭﻧﺪﯼ ﮬﺎﮞ

ﻟﻮﮐﯽ ﻭﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮬﺲ ﭘﻮﻧﺪﻥ
ﮨﺮ ﻣﻮﮌ ﺗﮯ ﺟﺪﻭﮞ ﮐﮭﻠﻮﻧﺪﯼ ﮬﺎﮞ

ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮨﺮ ﮔﺰ ﺷﻮﻕ ﺍﺩﺃ ﺩﺍ ﻧﺌﯿﮟ
ﻣﯿﻨﻮﮞ کاسہ ﻭﻗﺖ ﻧﭙﺎﯾﺄ ﮬﮯ

ﻣﯿﻨﻮﮞ ﺩﺭ ﺩﺭ ﭘﮭﺮﻧﺎ ﻋﺎﺩﺕ ﻧﺌﯿﮟ
ﻣﯿﻨﻮﮞ ﺩﺭ ﺩﺭ ﺑﺨﺖ ﭘﮭﺮﺍﯾﺎ ﮬﮯ

ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻢ ﻓﺮﻭﺵ ﻓﺤﺎﺷﮧ ﻧﺌﯿﮟ
ﺑﺲ ﺭﺏ ﺩﮮ ﻧﺎﮞ ﺗﮯ ﻣﻨﮕﺪﯼ ﮬﺎﮞ

ﻧﺎﮞ ﮐﺴﮯ ﺩﯼ ﺳﯿﺞ ﺗﮯ ﺳﻮﻧﺪﯼ ﮬﺎﮞ
ﻧﺎﮞ ﮔﮭﻨﮕﺮﻭ ﺑﮭﻦ ﮐﮯ ﻧﭽﺪﯼ ﮬﺎﮞ

ﺗﻮﮞ ﺷﮩﺮ ﺩﺍ ﺣﺎﮐﻢ ﮐﺠﮫ ﻧﺎﮞ ﺩﮮ
ﭘﺮ ﺍﯾﮉﺍ ﻏﻠﻂ ﺧﯿﺎﻝ ﻧﺎﮞ ﮐﺮ

ﻣﯿﺮﮮ ﺷﺮﻡ ﺣﯿﺎ ﺩﯼ ﭼﺎﺩﺭ ﻧﻮﮞ
ﺍﻧﺞ ﭘﯿﺮﺍﮞ ﮨﯿﭩﮫ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﻧﺎﮞ ﮐﺮ

ﺭﮐﮫ ﺳﺎﻧﺒﮫ ﮐﮯ ﻗﺎﺳﻢ ﺩﻭﻟﺖ ﻧﻮﮞ
ﺩﻭ ﭨﮑﯿﺄﮞ ﻧﺎﻝ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻧﺎﮞ ﻣﻨﮓ

ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﻞ ﮬﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻨﺠﺮﯼ ﻧﺌﯿﮟ
ﺧﯿﺮﺍﺕ دے بدلے رات نہ منگ
غزل
(جاوید اختر)
آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے
پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی، اب تو جب دیکھئے مسکرانے لگے

ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا، محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھا
آپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا، ملنے جلنے لگے، آنے جانے لگے
‏‎ہم نے جب آپ کی دیکھیں دلچسپیاں، آگئیں چند ہم میں بھی تبدیلیاں
اک مصور سے بھی ہوگئی دوستی، اور غزلیں بھی سننے سنانے لگے

آپ کے بارے میں پوچھ بیٹھا کوئی، کیا کہیں ہم سے کیا بدحواسی ہوئی
کہنے والی جو تھی بات ہو نہ سکی، بات جو تھی چھپانی، بتانے لگے
‏‎عشق بے گھر کرے، عشق بے در کرے، عشق کا سچ ہے کوئی ٹھکانا نہیں
ہم جو کل تک ٹھکانے کے تھے آدمی، آپ سے مل کے کیسے ٹھکانے لگے

تم محبت میں کرو گے  وفا مطلب کچھ  بھی
اُس نے یوں طنز کیا اور کہا مطلب  کچھ بھی

میں کہ ہر لمحہ میسر  ہوں تجھے  جانِ  جاں
پھر بھی تم کرنے لگے ہو گلہ مطلب کچھ بھی
ھم بصدناز دِل و جاں میں بسائے بھی گئے
پھِر گنوائے بھی گئے اور بھُلائے بھی گئے
جان ایلیا
 تیرے  چند لمحے  مجھے  درکار ھیں  لیکن
شرط یہ ھے کہ گھڑیاں نہیں دیکھیں گے
جب میں نے اسے دیکھے بغیر پہلی دفعہ اسکی آواز سنی تو سوچا کوئی اتنا خوبصورت کیسے ہو سکتا ہے

 ‏دیکھا ہے ماہ تاب نے جلتے ہوئے ہمیں
‏دشتِ جنوں کے عکس میں ڈھلتے ہوئے ہمیں 

‏بچھتی گئی نگاہ میں تاروں کی رہ گزر 
‏جگنو بلا رہے ہیں مچلتے ہوئے ہمیں

‏پھسلا تھا پاؤں خواب کی گیلی زمین پر
‏دیکھا نہ پھر کسی نے سنبھلتے ہوئے ہمیں 

‏دہلیز پر کھڑی تھیں ہزاروں کہانیاں
‏کیا کیا نہ یاد آیا نکلتے ہوئے ہمیں

‏کرنا ہے زندگی کا مسلسل محاسبہ
‏ڈرنا نہیں ہے خود کو بدلتے ہوئے ہمیں 

‏یخ بستہ ٹہنیوں کا بدن، آرزو کی آنچ
‏کچھ روز تو لگیں گے پگھلتے ہوئے ہمیں

‏نیلمؔ سرابِ زیست کے لمحے حباب سے
‏محسوس ہو رہے ہیں پھسلتے ہوئے ہمیں

No comments:

Post a Comment