HD

Tuesday, 4 April 2023

وہ لمس بھری رات ابھی ٹھہری ہوئی ہے  بے ساختہ جب چوم لئے ہاتھ کسی کے

 تُو میرا نہیں تو پھر یہ رابطہ کیوں ھے
نشاطِ وصل میں ھجر کی سزا کیوں ھے

وہ چلا گیا ھے مگر پھر بھی ثبت ھے
دل پہ اُس کا نقشِ کفِ پا کیوں ھے

بجھائی تھی اگرچہ ھم نے آتشِ عشق
دل پھر سرِ عام جلا کیوں ھے

جب تیری خوشبو کی طلب نہیں تو پھر
موسم کے ھاتھ میں کاسہ کیوں ھے

تُو بے طلب ھے اگر اے میرے خوش فہم
پھر تیری آنکھ میں یہ گھٹا کیوں ھے

اجنبی کو شہر سے خود رخصت کر کے
بے چین راستوں کی ھوا کیوں ھے

یہ میرا پیار میری لغزش سہی مگر
تُو جہاں کی نظر میں بے خطا کیوں ھے
Published from Blogger Prime Android App

کوفیوں جیسے مومنین  کے نام 
  یہ غزل ہے  منافقین   کے  نام 
 
  ایک نعرہ خرد کی حالت میں 
دن بہ دن بڑھتے جاہلین کے نام 

خاک کے ساتھ ہو گیا ہوں خاک 
 اور میں کیا کروں زمین کے نام 

 اک طوائف کے جسم پر لکھے ہیں 
 شہر کے سارے صالحین کے نام 

  ضبط کے ضابطے گماں کے سپرد
  آہیں گریہ لہو  یقین  کے  نام 

   یا مرا نام ہی  نہیں  ہے  کوئی 
  یا کوئی  لے  گیا ہے چھین کے نام 

  کرنے والا ہوں  جلد   اپنا  جنوں
  تیرے جیسے کسی ذہین  کے نام 

  روز لکھتا ہوں پانیوں  پر  میں 
  کربلا تیرے زائرین   کے  نام 
   
  یہ مرا   آخری  تماشا  ہے 
  سب کی سب  داد  شائقین کے نام 

   دل پہ لکھے ہوئے ہیں میں نے فقیہہ 
   آٹھ دس  اچھے حاسدین کے نام ♡
شب بھر مرے ہاتھوں میں رہے ہاتھ کسی کے 
وہ ہاتھ وہ خوشبو سے بنے ہاتھ کسی کے

جس دن سے اُنہیں چھو لیا خوشبو نہیں جاتی 
وہ ریشمی مہندی سے کِھلے ہاتھ کسی کے

وہ لمس بھری رات ابھی ٹھہری ہوئی ہے 
بے ساختہ جب چوم لئے ہاتھ کسی کے
میثم علی آغا
لاٸقِ پیار کسی طور مری ذات نہ تھی 
تجھ سے پہلے تو مری بات کوٸ بات نہ تھی

تجھ سے ملنے پہ یہ نعمت بھی ملی ہے مجھکو 
مرے حصے میں کوٸ پیار کی خیرات نہ تھی

تب تلک پھول نہیں کھلتے تھے اس ٹہنی پر 
جب تلک تم سے مری جان ملاقات نہ تھی

تو ملا ہے تو یہ دنیا بھی ہے جنت جیسی 
تجھ سے پہلے تو یہ خوشیوں کی بھی بہتات نہ تھی

شاعری مجھ سے محبت کا سبب  بننے لگی
میں سمجھتا تھا کہ یہ رمزِ کرامات نہ تھی

تو تسلسل سے مری روح پہ برسی ورنہ 
دھوپ کے ہوتے ہوۓ سر پہ یوں برسات نہ تھی

تو نے بتلایا محبت کے معانی  کیا ہیں 
ورنہ قسمت میں کوٸ ایسی تو سوغات نہ تھی

لفظ میں پیار کا لکھتے ہوۓ گھبراتا تھا
کیوں کہ قسمت میں کوٸ پیار کی تورات نہ تھی

تب تلک میں بھی کرامت کا نہیں تھا قاٸل 
جب تلک زیست میں نفرت کی ہوٸ مات نہ تھی

تجھ سے پہلے کہ وہ دکھ تجھ کو بتاٶں کیسے
رب کی طرح میں اکیلا تھا جو تو ساتھ نہ تھی

پیار نے مجھ کو امیری کا شرف بخشا ہے 
ورنہ باسم مری قسمت میں یہ  "کاٸنات" نہ تھی

کوئی نظر کوئی معیار سے گرا ہوا ہے
ہمارے چاروں طرف ہیں عجب گرے ہوئے لوگ

عجیب لگتی ہے ایسے میں خود اٹھان اپنی
جگہ جگہ نظر آتے ہیں جب گرے ہوئے لوگ

گرے جو نظروں سے، مردُم شماری ہو ان کی
پتہ چلے کہ ہیں کتنے ارب گرے ہوے لوگ

اُس ایک شخص میں کوئی تو بات ہے آخر
لگے ہیں جس کو گرانے میں سب گرے ہوئے لوگ

شاہد ماک
 ایک مدت بعد گزرا ہوں تمہارے شہر سے 
 رونقیں ویسی کی ویسی ہیں ابھی تک خیر سے 

 یہ جو سبزہ سا اگا رہتا ہے اس صحرا کے بیج 
 اس جگہ پر خون ٹپکا تھا پُنل کے  پیر سے 

 کر تو بیٹھا ہے محبت اک پری سے اور اب 
 ڈر رہا ہے خاک زادہ آسماں کے قہر سے 

 کہہ رہا تھا اب مری کوئی ضرورت بھی نہیں  
 مر رہا تھا سانپ اک دن آدمی کے زہر سے 

 کس طرح گزرے گی تیری عشق کے طوفان میں 
 ڈر گیا تو تو سمندر کی رواجی لہر سے 

 نوشاداکبر

جو بظاہر نظر آتا تھا میں ویسا سمجھا 
ترے چہرے کو ہی میں نے ترا چہرہ سمجھا

میری خاموشی ہے جس شخص کا پردہ اس نے
میری حیرت کو بڑھایا مجھے گونگا سمجھا

میں نے اک عمر تعلق کو نباہا لیکن
میرے اخلاص کو ہر شخص نے دھوکا سمجھا

جاں پہ بن آئی تو پھر کچھ نہ سمجھ میں آیا
ڈوبتے شخص نے ہر موج کو تنکا سمجھا

نہ توجہ تھی مری کم نہ سماعت میں کمی
ایک کم ظرف نے گویا مجھے بہرہ سمجھا

تیری اوقات کبھی پوچھی نہ پرکھا تجھ کو
تیری وسعت سے تجھے میں نے زیادہ سمجھا

رائیگاں ہو گیا میں جس کو سمجھتے کاتب
اس نے آخر مرا کردار تماشا سمجھا

سجاد کاتب
دکن کی سانولی

کون وہ محوِ خرام ہے اے ہم نشیں
دیکھ لیلیٰ تو نہیں، دیکھ رادھا تو نہیں
بنتِ زہرہ ہے، نہ جانے دخترِ مہتاب ہے
فیصلہ ہو کس طرح، کب دیکھنے کی تاب ہے
سانولی رنگت میں بھی یہ شانِ حسنِ تازہ کار
جس پہ صبحوں کے اجالے، جس پہ صبحیں بھی نثار
میں تو بس اتنا سمجھتا ہوں کہ وہ کوئی بھی ہو
دستِ فطرت نے مجسم کر دیا ہے شام کو"💛

سلیمان اریب
 خوب جھگڑا کریں، خوب گِریہ کریں!
آئو مل جُل کے پھر اِک تماشا کریں!!

دِل نہیں لگ رہا ہے کہیں بھی مرا
اِس اذیت میں تھوڑا اضافہ کریں!!

ٹوٹنا دل کا کوئی نئی بات ہے؟
بات بھی ہو کوئی جس کا چرچا کریں!!

خالی گھر میں نہیں روکنے کو کوئی!
توڑیں پھوڑیں بھلے، شور برپا کریں!

اب جو کم پڑ گیا ہے سبھی کچھ یہاں! 
 کس سے کہیے کہ صاحب مداوا کریں؟

یہ جو سینے میں جلتی ہوئی آگ ہے!
آئنہ ہے میاں، اِس کو دیکھا کریں!!

کوئی اُس باغ میں کاسنی بھید ہے!
کس سے کہیے بھلا، کس سے پوچھا کریں!

آگہی کا سفر بسکہ دُشوار ہے!
جو نہیں چل رہا اُس کو چلتا کریں!

خوبیوں میں خرابی یہی ہے مری
مَیں نے کب یہ کہا! مجھ کو اچھا کریں؟

اُس کی آنکھوں میں ڈوبیں، کنارے لگیں!
ایک ہی عشق ہو اور ایسا کریں!!!❤


 مرے خلاف محبت کے کان بھرتی تھی
وہ ساحرہ وہ شفق فام مجھ پہ مرتی تھی

میں تیرے سامنے برباد ہوگیا کیسے؟
تجھے تو میری اداسی اداس کرتی تھی

کبھی جو رات گئے وہ کواڑ کھلتا تھا 
گلی میں دور تلک چاندنی بکھرتی تھی

وہ چہرہ ایک صحیفہ تھا دیکھ کر، جس کو
نئے خیال نئی شاعری اُترتی تھی

بس اُس کے بعد کبھی اِس طرح نہیں سوچا
میں چاہتا تو مری زندگی سُدھرتی تھی

شروع دن سے ہی خستہ تھی یہ عمارت ِدل
خوشی تو ہاتھ لگاتے ہوئےبھی ڈرتی تھی

رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے
یہ مری آنکھ کا آنسو ہی ستارا ہے مجھے

میں کسی دھیان میں بیٹھا ہوں مجھے کیا معلوم
ایک آہٹ نے کئی بار پکارا ہے مجھے

آنکھ سے گرد ہٹاتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں
اپنے بکھرے ہوئے ملبے کا نظارا ہے مجھے

میں تو اب جیسے بھی گزرے گی گزاروں گا یہاں
تم کہاں جاؤ گے دھڑکا تو تمہارا ہے مجھے

اے مرے لاڈلے اے ناز کے پالے ہوئے دل
تو نے کس کوئے ملامت سے گزارا ہے مجھے

تو نے کیا کھول کے رکھ دی ہے لپیٹی ہوئی عمر
تو نے کن آخری لمحوں میں پکارا ہے مجھے

میں کہاں جاتا تھا اس بزم نظر بازاں میں
لیکن اب کے ترے ابرو کا اشارا ہے مجھے

جانے میں کون تھا لوگوں سے بھری دنیا میں
میری تنہائی نے شیشے میں اتارا ہے مجھے

فیض احمد فیض

No comments:

Post a Comment