HD

Thursday, 13 April 2023

‏شوق  برہنہ پا  چلتا  تھا  اور  رستے  پتھریلے  تھے گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے

کہاں میں جاؤں غم عشق رائیگاں لے کر 

یہ اپنے رنج یہ اپنی اداسیاں لے کر 

جلا ہے دل یا کوئی گھر یہ دیکھنا لوگو 

ہوائیں پھرتی ہیں چاروں طرف دھواں لے کر 

بس اک ہمارا لہو صرف قتل گاہ ہوا 

کھڑے ہوئے تھے بہت اپنے جسم و جاں لے کر 

نئے گھروں میں نہ روزن تھے اور نہ محرابیں 

پرندے لوٹ گئے اپنے آشیاں لے کر 

سمندروں کے سفر جن کے نام لکھے تھے 

اتر گئے وہ کناروں پہ کشتیاں لے کر 

تلاش کرتے ہیں نو ساختہ مکانوں میں 

ہم اپنے گھر کو پرانی نشانیاں لے کر 

انہیں بھی سہنے پڑے تھے عذاب موسم کے 

چلے تھے اپنے سروں پر جو سائباں لے کر 

ہوا میں ہلتے ہوئے ہاتھ پوچھتے ہیں زبیرؔ 
Published from Blogger Prime Android App
تم اب گئے تو کب آؤ گے چھٹیاں لے کر
 خود سے فرصت ہی میسر نہیں ہوتی ورنہ
ہم کسی اور کے ہوتے تو تمھارے ہوتے

تجھے بھی غم نے اگر ٹھیک سے برتا ہوتا
تیرے چہرے پہ خد و خال ہمارے ہوتے

لگ گئی اور کہیں عمر کی پونجی ورنہ
ذندگی ہم تیری دہلیز پہ ہارے ہوتے

خرچ ہو جاتے اسی ایک محبت میں کبیر
دل اگر اور بھی سینے میں ہمارے ہوتے❤
یونہی چپ چاپ دکھ سہے جاناں
ان کی یادوں میں گم رہے جاناں

رات کٹتی یوں بھی کانٹوں پر
کام آنکھوں کا بس بہے جاناں

خواہشیں حسرتیں نہ بن جائیں
دل سے کہنا کی بس کہے جاناں۔
 یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں 
خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے
قتیل شفائی
‏تُو بتا آنکھ نیا خواب کہاں سے دیکھے
‏روز شب تجھ کو بھلانے میں گزر جاتی ہے
زندگی  بوجھ  بتاتا  تھا  بچھڑنے  والا
‏یہ تو بس ایک بہانے میں گزر جاتی ہے

محبتوں میں نئے طرزِ انتقام کی شام
کسی کے ساتھ گزاری ، کسی کے نام کی شام
اظہر فراغ
اِک تیز تیر تھا ــــــ کہ ، لگا اور نکل گیا
ماری جو چیخ ریل نے ، جنگل دہل گیا

تھی شام زہر رنگ میں ڈوبی ہُوئی کھڑی
پھر اِک ذرا سی دیر میں ،  منظر بدل گیا

مدّت کے بعد ــــ آج اُسے دیکھ کر ”مُنیرؔ“
اِک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا
 بات کر لیتے ہیں شاید کوئی حل مل جائے
آج مشکل ہے تو کہنا مجھے کل مل جائے

ممکن ہے کہ وہ اِک روز مجھے کرلے قبول
عین ممکن ہے مجھے صبر کا پھل مل جائے
ماہی
 ڈبل قافیہ غزل

🍂غزل🍂

خوشیوں میں زخموں کی جو برسات سجا دی اچھا ہے
تم نے میری جیت میں اپنی مات ملا دی اچھا ہے

میں نے تیرے خاطر اپنے اپنے چھوڑے اور تونے
اپنے خاطر میری اپنی ذات بھلا دی اچھا ہے

دنیا والے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ اپنا کوئی نہیں
تم نے بھی جاتے جاتے اوقات دکھا دی اچھا ہے

تجھ کو تو میں دن کے لمحوں کی بینائی جانتی تھی 
تو نے ہی میرے ہاتھوں میں رات تھما دی اچھا ہے

تم سے کیا امید رکھیں ہم زخموں کے پیراہن کی
جب بھی پوچھا پیار ہے؟ تم نے بات گھما دی اچھا ہے

میرے دشمن کو دشمن نہ سمجھا اس سے یاری کی
میرے یاروں کے سنگ مل کر گھات لگادی اچھا ہے 

زویا تیرا جینا مرنا میرے واسطے کچھ بھی نئیں
تو نے مرنے سے پہلے یہ بات بتادی اچھا ہے

زویا شیخ
 رات سوتے ہوئے بے ساختہ تمہاری یاد آئے
 نیند ترس جائے مجھے جب تمہاری یاد آئے

میں تمہاری آواز کو ترستا ہوں جاناں
بیٹھے بیٹھے جب بھی تمہاری یاد آئے

مجھے ہے خوف کہ تُو بچھڑ نہ جائے مجھ سے
پھر اس بہانے سے یکدم تمہاری یاد آئے

آج دل بہت اداس ہے کہ رات خواب میں 
تمہیں نہ دیکھوں تو  تمہاری یاد آئے

میری یہ خواہش کہ تم سرہانے آئو 
اب بھی سمجھے دلِ ناداں تمہاری یاد آئے

میں اس سے کہتا ہوں نیاز لوٹ آئو میری طرف
پھر یہ کہتا ہوں نہیں تم نہیں تمہاری یاد آئے

نیاز حسین

‏شوق  برہنہ پا  چلتا  تھا  اور  رستے  پتھریلے  تھے
گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے

خار چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گیلے تھے
شاخ  سے  ٹوٹ  کے  گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے

سرد ہواؤں سے تو تھے ساحل کے ریت کے یارانے
لو کے تھپیڑے سہنے والے صحراؤں کے ٹیلے تھے

تابندہ تاروں کا تحفہ صبح کی خدمت میں پہنچا
رات نے چاند کی نذر کیے جو تارے کم چمکیلے تھے

سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بین لیے
آبادی  میں  رہنے   والے   سانپ   بڑے  زہریلے  تھے

تم  یوں  ہی  ناراض  ہوئے   ہو   ورنہ  مے  خانے  کا  پتا
ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے

کون  غلام  محمد  قاصرؔ  بے چارے  سے  کرتا  بات
یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے

غلام محمد قاصر
غلام محمد قاصر
ہے عکس روئے یار دل داغ دار میں
کچھ تیرگی نہیں ہے ہمارے مزار میں

کچھ ایسے محو ہو گئے اقرار یار میں
لطف انتظار کا نہ ملا انتظار میں

دوچند اس سے حسن پہ ان کو غرور ہے
جتنا نیاز و عجز ہے مجھ خاکسار میں

وہ پیاری پیاری شکل وہ انداز دل فریب
رہتا نہیں ہے دیکھ کے دل اختیار میں

ایسی بھری ہیں یار کے دل میں کدورتیں
نامہ لکھا ہے مجھ کو تو خط غبار میں

ہم کچھ وصف کاکل پیچاں نہ لکھ سکے
مضموں الجھ رہے ہیں قلم مشکبار میں

کچھ بھی نہ اس کی وعدہ خلافی کا رنج ہو
آ جائے موت ہی جو شب انتظار میں

اے موت تو ہی آ نہ آئیں گے وہ کبھی
آنکھیں ہیں اک عرصے سے وا انتظار میں

سمجھو کہ کس کو کہتے ہیں تکلیف انتظار
بیٹھو کبھی جو دیدۂ خوننابہ یار میں

سودائے زلف و رخ میں غضب کا ہے انتظار
اب آ گئے ہیں گردش لیل و نہار میں

بیٹھے ہیں آج آپ تو پہلو میں غیر کے
ہم ہوں گے کل عروس اجل کے کنار میں

مٹ کر ہوں خاک سرمہ کی مانند بھی اگر
پھر بھی کبھی سمائیں نہ ہم چشم یار میں

کہنے لگے کہ آپ کی نیت تو ٹھیک ہے
بیتاب مجھ کو دیکھ کے بوس و کنار میں

شکوہ کریں تو کیا کریں جور و جفا کا ہم
سب عمر کٹ گئی ستم روزگار میں

مرنے کے بعد بھی ہے وہی کشمکش خدا
میں قبر میں ہوں دل مرا ہے کوئے یار میں

تقدیر کے لکھے کو مٹانا محال ہے
کیا دخل ہے مشیت پروردگار میں

بجلی سی کوند جاتی ہے گھونگھٹ کی آڑ میں
کیا شوخیاں ہیں اس نگہ شرمسار میں

دعوائے عاشقی پہ یہ کہنے لگا وہ بت
اللہ کی شان !آپ بھی ہیں اس شمار میں

پامال کیجئے گا سمجھ کر خدا اسے
ہے آپ ہی کا گھر دل بے اختیار میں

سودا نیا ، جنوں ہے نیا ، ولولے نئے
اب اور ہی بہار ہے اب کے بہار میں

دل پر لگی وہ چوٹ کہ اف کر کے رہ گئے
ٹوٹا جو گرکے جام کوئی بزم یار میں

گر ان پہ اختیار نہیں ہے نہیں سہی
غم ہے یہی کہ دل بھی نہیں اختیار میں

اے دل خدا کی یاد میں اب صرف عمر ہو
کچھ کم پھرے صنم کدۂ روزگار میں
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

بشیر بدر
اک ترا لمس اداسی میں سہارا تھا مجھے 
تو جو بچھڑا تو کبھی چین میسر نہ ہوا 
زوہیب ادب

No comments:

Post a Comment