HD

Sunday, 2 April 2023

میں پھول بھیجتی لڑکی کو کیسے سمجھاؤں 

زندگی میں پہلی بار ایک نظم احباب کی نظر 🥰
Published from Blogger Prime Android App
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے زندگی کی تھکن
کسی طویل مسافت کے بعد اترے گی
ابھی تو ہجر کا موسم اترنے والا ہے
پھر اس کے بعد محبت کی یاد اترے گی

وگرنہ گھومنے کو ساری دنیا پیاری ہے
مگر سکون جو ملتا ہے صرف تیری گلی
تو میرے واسطے خوشبو ہے کچی کلیوں کی
ترا سلیم ہوں میں تو مری انار کلی

ہزاروں وسوسے دل میں لیے ہوئے ہوں میں 
اور ایک یہ ہے  کہ تو مجھ کو چھوڑ جائے گی
تمہارے بعد کوئی ایسا شخص ملنا نہیں
جو میرے پہلو میں بیٹھے گی مسکرائے گی

میں پھول بھیجتی لڑکی کو کیسے سمجھاؤں 
یہ آگ عشق کی نسلیں تباہ کرتی ہے
میں شہر والی محبت سے بھی تو واقف ہوں
مگر جو گاؤں کی لڑکی نباہ کرتی ہے

میں روز صبح کو کالج پہنچ کے دیکھتا ہوں
یہ کون کھڑکی پہ آکر گلاب رکھتا ہے
جو کشمکش کے زمانے سے اک طرف ہوکر
یہ کون ہم سے محبت کے خواب رکھتا ہے

میں کہکشاں میں ستارا تلاش کرتا ہوں
وہ اک ستارہ جو میرے نصیب کا ہوگا
میں اس مکاں میں دسمبر کی راتیں کاٹوں گا
جو اس کے گھر کی گلی کے قریب کا ہوگا

ہم ایک دوسرے سے اتنا عرصہ روٹھے ہیں
بچھڑ تو سکتے تھے لیکن بچھڑ نہیں پائے 
ہمارے گاؤں میں چلتی ہے ایسی سرد ہوا
تمہاری یاد کے پتے بھی جھڑ نہیں پائے

جہاں میں جس نے بھی میری مخالفت کی ہے
تمام اپنے ہیں میرے کوئی پرایا نہیں
ابھی بھی وقت ہے چاہو تو لوٹ سکتے ہو
پھر اس کے بعد نہ کہنا مجھے بتایا نہیں

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے زندگی کی تھکن
کسی طویل مسافت کے بعد اترے گی
ابھی تو ہجر کا موسم اترنے والا ہے
پھر اس کے بعد محبت کی یاد اترے گی

وگرنہ گھومنے کو ساری دنیا پیاری ہے
مگر سکون جو ملتا ہے صرف تیری گلی
تو میرے واسطے خوشبو ہے کچی کلیوں کی
ترا سلیم ہوں میں تو مری انار کلی

ہزاروں وسوسے دل میں لیے ہوئے ہوں میں 
اور ایک یہ ہے  کہ تو مجھ کو چھوڑ جائے گی
تمہارے بعد کوئی ایسا شخص ملنا نہیں
جو میرے پہلو میں بیٹھے گی مسکرائے گی

میں پھول بھیجتی لڑکی کو کیسے سمجھاؤں 
یہ آگ عشق کی نسلیں تباہ کرتی ہے
میں شہر والی محبت سے بھی تو واقف ہوں
مگر جو گاؤں کی لڑکی نباہ کرتی ہے

میں روز صبح کو کالج پہنچ کے دیکھتا ہوں
یہ کون کھڑکی پہ آکر گلاب رکھتا ہے
جو کشمکش کے زمانے سے اک طرف ہوکر
یہ کون ہم سے محبت کے خواب رکھتا ہے

میں کہکشاں میں ستارا تلاش کرتا ہوں
وہ اک ستارہ جو میرے نصیب کا ہوگا
میں اس مکاں میں دسمبر کی راتیں کاٹوں گا
جو اس کے گھر کی گلی کے قریب کا ہوگا

ہم ایک دوسرے سے اتنا عرصہ روٹھے ہیں
بچھڑ تو سکتے تھے لیکن بچھڑ نہیں پائے 
ہمارے گاؤں میں چلتی ہے ایسی سرد ہوا
تمہاری یاد کے پتے بھی جھڑ نہیں پائے

جہاں میں جس نے بھی میری مخالفت کی ہے
تمام اپنے ہیں میرے کوئی پرایا نہیں
ابھی بھی وقت ہے چاہو تو لوٹ سکتے ہو
پھر اس کے بعد نہ کہنا مجھے بتایا نہیں

No comments:

Post a Comment