زندگی میں پہلی بار ایک نظم احباب کی نظر 🥰

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے زندگی کی تھکن
کسی طویل مسافت کے بعد اترے گی
ابھی تو ہجر کا موسم اترنے والا ہے
پھر اس کے بعد محبت کی یاد اترے گی
وگرنہ گھومنے کو ساری دنیا پیاری ہے
مگر سکون جو ملتا ہے صرف تیری گلی
تو میرے واسطے خوشبو ہے کچی کلیوں کی
ترا سلیم ہوں میں تو مری انار کلی
ہزاروں وسوسے دل میں لیے ہوئے ہوں میں
اور ایک یہ ہے کہ تو مجھ کو چھوڑ جائے گی
تمہارے بعد کوئی ایسا شخص ملنا نہیں
جو میرے پہلو میں بیٹھے گی مسکرائے گی
میں پھول بھیجتی لڑکی کو کیسے سمجھاؤں
یہ آگ عشق کی نسلیں تباہ کرتی ہے
میں شہر والی محبت سے بھی تو واقف ہوں
مگر جو گاؤں کی لڑکی نباہ کرتی ہے
میں روز صبح کو کالج پہنچ کے دیکھتا ہوں
یہ کون کھڑکی پہ آکر گلاب رکھتا ہے
جو کشمکش کے زمانے سے اک طرف ہوکر
یہ کون ہم سے محبت کے خواب رکھتا ہے
میں کہکشاں میں ستارا تلاش کرتا ہوں
وہ اک ستارہ جو میرے نصیب کا ہوگا
میں اس مکاں میں دسمبر کی راتیں کاٹوں گا
جو اس کے گھر کی گلی کے قریب کا ہوگا
ہم ایک دوسرے سے اتنا عرصہ روٹھے ہیں
بچھڑ تو سکتے تھے لیکن بچھڑ نہیں پائے
ہمارے گاؤں میں چلتی ہے ایسی سرد ہوا
تمہاری یاد کے پتے بھی جھڑ نہیں پائے
جہاں میں جس نے بھی میری مخالفت کی ہے
تمام اپنے ہیں میرے کوئی پرایا نہیں
ابھی بھی وقت ہے چاہو تو لوٹ سکتے ہو
پھر اس کے بعد نہ کہنا مجھے بتایا نہیں
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے زندگی کی تھکن
کسی طویل مسافت کے بعد اترے گی
ابھی تو ہجر کا موسم اترنے والا ہے
پھر اس کے بعد محبت کی یاد اترے گی
وگرنہ گھومنے کو ساری دنیا پیاری ہے
مگر سکون جو ملتا ہے صرف تیری گلی
تو میرے واسطے خوشبو ہے کچی کلیوں کی
ترا سلیم ہوں میں تو مری انار کلی
ہزاروں وسوسے دل میں لیے ہوئے ہوں میں
اور ایک یہ ہے کہ تو مجھ کو چھوڑ جائے گی
تمہارے بعد کوئی ایسا شخص ملنا نہیں
جو میرے پہلو میں بیٹھے گی مسکرائے گی
میں پھول بھیجتی لڑکی کو کیسے سمجھاؤں
یہ آگ عشق کی نسلیں تباہ کرتی ہے
میں شہر والی محبت سے بھی تو واقف ہوں
مگر جو گاؤں کی لڑکی نباہ کرتی ہے
میں روز صبح کو کالج پہنچ کے دیکھتا ہوں
یہ کون کھڑکی پہ آکر گلاب رکھتا ہے
جو کشمکش کے زمانے سے اک طرف ہوکر
یہ کون ہم سے محبت کے خواب رکھتا ہے
میں کہکشاں میں ستارا تلاش کرتا ہوں
وہ اک ستارہ جو میرے نصیب کا ہوگا
میں اس مکاں میں دسمبر کی راتیں کاٹوں گا
جو اس کے گھر کی گلی کے قریب کا ہوگا
ہم ایک دوسرے سے اتنا عرصہ روٹھے ہیں
بچھڑ تو سکتے تھے لیکن بچھڑ نہیں پائے
ہمارے گاؤں میں چلتی ہے ایسی سرد ہوا
تمہاری یاد کے پتے بھی جھڑ نہیں پائے
جہاں میں جس نے بھی میری مخالفت کی ہے
تمام اپنے ہیں میرے کوئی پرایا نہیں
ابھی بھی وقت ہے چاہو تو لوٹ سکتے ہو
پھر اس کے بعد نہ کہنا مجھے بتایا نہیں
No comments:
Post a Comment