HD

Sunday, 2 April 2023

ہم تربوز“ خریدتے ہیں مثلاً پانچ کلو کا ایک دانہ.. جب اسے کھاتے ہیں

🙇‍♀️🙇🏻‍♂️

*عقل والوں کے لیے زبردست مثال ہے۔
 Published from Blogger Prime Android App
ہم ”تربوز“ خریدتے ہیں مثلاً پانچ کلو کا ایک دانہ.. جب اسے کھاتے ہیں تو پہلے اس کاموٹا چھلکا اتارتے ہیں.. پانچ کلو میں سے کم ازکم ایک کلو چھلکا نکلتا ہے.. یعنی تقریبا بیس فیصد.. کیا ہمیں افسوس ہوتا ہے؟ کیا ہم پریشان ہوتے ہیں؟ کیا ہم سوچتے ہیں کہ ہم تربوز کو چھلکے کے ساتھ کھا لیں؟..
نہیں بالکل نہیں. یہی حال مالٹے کا ہے.
ہم خوشی سے چھلکا اتار کر کھاتے ہیں.. حالانکہ ہم نے چھلکے سمیت خریدا ہوتا ہے.. مگر چھلکا پھینکتے وقت تکلیف نہیں ہوتی..
ہم مرغی خریدتے ہیں.. زندہ، ثابت.. مگر جب کھانے لگتے ہیں تو اس کے بال، کھال اور پیٹ کی آلائش نکال کر پھینک دیتے ہیں.. کیا اس پر دکھ ہوتا ہے؟. نہیں.
تو پھر چالیس ہزار میں سے ایک ہزار دینے پر.. ایک لاکھ میں سے ڈھائی ہزار دینے پر کیوں ہمیں بہت  تکلیف ہوتی ہے؟.. حالانکہ یہ صرف ڈھائی فیصد بنتا ہے.. یعنی سو روپے میں سے صرف ڈھائی روپے..
یہ تربوز، کیلے، آم اور مالٹے کے چھلکے اور گٹھلی سے کتنا کم ہے.. اسے ”زکواۃ“ فرمایا گیا ہے.. یہ پاکی ہے.. مال بھی پاک.. ایمان بھی پاک.. دل اور جسم بھی پاک اور معاشرہ بھی خوش حال،
*اللہ سمجھ عطاء 

No comments:

Post a Comment