اب اُسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار میرا
سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا
تم تکلّف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز،
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
احمد فراز

"آپ جنہیں چاہتے ہیں انھیں پھولوں اور چاکلیٹ کی جگہ کتابوں کے تحفے دیں اِس سے نسلیں پروان چڑھے گی۔"
~ ایلا ڈسن
یونہی چپ چاپ دکھ سہے جاناں
ان کی یادوں میں گم رہے جاناں
رات کٹتی یوں بھی کانٹوں پر
کام آنکھوں کا بس بہے جاناں
خواہشیں حسرتیں نہ بن جائیں
دل سے کہنا کی بس کہے جاناں۔
مطرب سے کہو آج اس انداز سے گائے
ہر دل کو لگے چوٹ سی ہر آنکھ بھر آئے
فراق گور کھپوری
: دیکھ لو شکل میری کس کا آئینہ ہوں میں
یار کی شکل ہے اور یار میں فنا ہوں میں
بشر کے روپ میں اک راز کبریا ہوں میں
سمجھ سکے نا فرشتے کہ اور کیا ہوں میں
میں وہ بشر ہوں فرشتے کریں جنہیں سجدہ
اب اس سے آگے خدا جانے اور کیا ہوں میں
پتہ لگائے کوئی کیا میرے پتے کا پتہ
میرے پتے کا پتہ ہے کہ لاپتہ ہوں میں
مجھی کو دیکھ لیں اب تیرے دیکھنے والے
تو آئینہ ہے مرا تیرا آئینہ ہوں میں
میں مٹ گیا ہوں تو پھر کس کا نام ہے بیدم
وہ مل گئے ہیں تو پھر کس کو ڈھونڈتا ہوں میں
حضرت بیدم شاہ وارثیؒ
رخسار پہ پسینہ, تیز دھڑکن, ہلکا سا احساسِ حیا,اُف
اس پہ کیا کچھ بیت گیا اک میرے گلے لگانے سے..!!
"پتھر"*
ریت سے بُت نہ بنا، اَے مِرے اچّھے فَنکار
ایک لَمحے کو ٹھہر، میں تُجھے پتھر لا دوں
مَیں تِرے سامنے اَنبار لگا دوں_ لیکن
کون سے رَنگ کا پَتّھر تِرے کام آئے گا؟
سُرخ پَتّھر_؟ جِسے دِل کہتی ہے بےدِل دنیا
یا وہ پَتّھرائی ہُوئی آنکھ کا نِیلا پَتّھر
جِس میں صَدیوں سے تَحیُّر کے پڑے ہوں ڈورے؟
کَیا تُجھے رُوح کے پَتّھر کی ضَرُورَت ہوگی؟
جِس پہ حق بات بھی پَتّھر کی طَرح گِرتی ہے
ایک وہ پَتّھر ہے، جِسے کہتے ہیں تہذِیبِ سفید
اُس کے مَرمَر میں سِیہ خُون جَھلَک جاتا ہے
ایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مَگَر
ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تَو وہ ہاتھ آتا ہے
جِتنے معیار ہیں اِس دَور کے سب پَتّھر ہیں
جِتنے اَفکار ہیں اِس دَور کے سب پَتّھر ہیں
شعر بھی، رَقص بھی، تَصوِیر و غِنا بھی پَتّھر
میرا اِلہام، تِرا ذہنِ رَسا بھی پَتّھر
اِس زَمانے میں تَو ہر فَن کا نِشانہ پَتّھر ہے
ہاتھ پتھر ہیں تِرے، میری زباں پَتّھر ہے
ریت سے بُت نہ بنا، اَے مِرے اَچھّے فَنکار !
*احمدندیمؔ قاسمی*
تو تماشا نہ بن بنایا کر
خواب دیکھا نہ کر دکھایا کر
تجھ سے باہر بھی ایک دنیا ہے
خود سے باہر بھی خود کو لایا کر
لوگ کھلتے نہیں کناروں پر
ان کو طوفاں میں آزمایا کر
ایک دن جان مانگ لے گا وہ
یوں نہ ہر بات مان جایا کر
عام مٹی نہیں ، محبت ہے
اس کو ہر چاک پر نہ لایا کر
خرچ سارا نہ ہو جا دنیا پر
کچھ نہ کچھ خود پہ بھی لگایا کر
ہار جانے کا حوصلہ بھی رکھ
آخری تیر بھی چلایا کر
گھر بنانا ہے تو ضروری ہے
گھر سے باہر نہ گھر بنایا کر
تو شجر ہے یہی ہے ظرف ترا
اپنے دشمن پہ بھی تو سایا کر
۔۔۔۔ اتباف ابرک
تمھاری غزال نما گردن پہ جو تل ہے
زہر قاتل ہے کہ جیسے
بھنورا شمع کو چومتا ہے،
اور جان،جان پر قربان کر دیتا ہے
بارہا میری انگلیوں نے طواف کیا ہے جس کا
تمھاری گردن کا لمس
زاہدوں کو کافر کر دے
خوشبو تمھارے جسم کی
ہر خوشبو سے بہتر ہے
میرا والہانہ پن
تمھاری خود سپردگی کے آگے کچھ بھی نہیں
تیری سانسوں کا تسلسل
دھڑکنوں کو بے ترتیب کرنے کو کافی ہے
تمھارے جسم کی اک اک ادا،
میرے ذہن پر یوں نقش ہےکہ،
اگر میں اسے بیان کر دوں
تو تخیل جاوداں ہو جائے
بے مثل شاعری تخلیق ہو
ہر لفظ حسن بیاں ہو جائے
میں آنکھیں بند کر کے
جو تجھے محسوس کروں
تو سنگتراش اپنی انگلیاں کاٹ دیں
تیرا مجسمہ جمالیات کی نئی سند بن جائے
گر میں تجھےپتھر پر تحریر کروں
تو مائیکلو اینجلو اور
یونان کے سبھی دیوی دیوتاؤں کے مجسمے
تیرے مرید ہو جائیں
گر میں تجھے کاغذ پر تصویر کروں
تو مونا لیزا کی تصویر مانند پڑ جائے
پکاسو تجھے دیکھنے کی طلب کرے
اور تیرا اسیر ہو جائے
جان جاں
ایسا کوئی لفظ
کوئی فن ابھی بنا ہی نہیں
جو تجھے بیاں کر پائے ....
Dujana
تیرے جانے کے بعد کہا کچھ نہیں ھوا
تجھ کو لگا کہ یار مجھے دکھ نہیں ھوا
مرنا ہی چاہیے تھا مجھے ان دنوں مگر
ہلکا سا تھا بخار مجھے کچھ نہیں ھوا۔
سرور ہے تیری باتوں میں
تیرے لہجے میں قرار ہے
تیری آنکھ میں نشہ ہے کوئی
تیری نظر میں ایک خمار ہے
میں پڑھ کر تجھے بہکتی جاتی ہوں
میر خود پر اب رہا نہ اختیار ہے
کوئی تو جادو چلا ہے تیرا مجھ پر
تیری ذات میں کوئی سحر کوئی اسرار ہے
No comments:
Post a Comment