HD

Wednesday, 1 March 2023

ہم اس سے بچ کے چلنا چاہتے ہیں مگر وہ خوبصورت ہے کریں کیا 

محبت بھی مصیبت ہے کریں کیا 
مگر اپنی ضرورت ہے کریں کیا 

ہمارے پاس ایک لمحہ نہیں ہے 
اسے فرصت ہی فرصت ہے کریں کیا 

تجھے کھونے کا ڈر اپنی جگہ ہے 
تجھے پانے کی حسرت ہے کریں کیا 

مسلسل دیکھنے سے مت خفا ہو 
یہی اپنی عبادت ہے کریں کیا 

ہمیں مرنا پڑا خوش فہمی میں 
اسے ہنسنے کی عادت ہے کریں کیا 

ہم اس سے بچ کے چلنا چاہتے ہیں 
مگر وہ خوبصورت ہے کریں کیا 

ہمیشہ سچ نکل جاتا ہے منہ سے 
کچھ ایسی ہی طبیعت ہے کریں کیا 

ستم دل پر نہ کوئی ہم بھی سہتے 
مگر اس کی حکومت ہے کریں کیا

Published from Blogger Prime Android App

 اختر شمار
 بھیگے رستوں پہ ترے ساتھ ٹہلنا تھا مجھے
ایسے موسم میں بھلا چھوڑ کے جاتا ہے کوئی



کاشف غلام رسول

ایک مدت سے تجھے دل میں بسا رکھا ہے 
میں تجھے یاد دہانی سے الگ رکھتا ہوں 

وہ سنے گا تو چھلک اٹھیں گی آنکھیں اس کی 
اس لیے خود کو کہانی سے الگ رکھتا ہوں 

وہ جو بچپن میں ترے ساتھ پڑھا کرتا تھا 
ان کتابوں کو نشانی سے الگ رکھتا ہوں 

تذکرہ اس کا غزل میں نہیں کرتا ہوں رئیسؔ 
میں اسے لفظ و معانی سے الگ رکھتا ہوں

رئیس انصاری

ساڈی قسمت جو تیکوں نئیں بھاندے
اپنڑی  ماء  کنڑ  تاں چن دے ٹوٹے ہیں 

خالد ندیم شانی 🤍
 
دنیا کے لئے کچھ بھی سہی پر تیرے لیے ہم
مخلص کسی ماں کی دُعاؤں کی طرح ہیں !

عمیر نجمی
  زباں  سے نہیں
کہاں کہاں سے ہمارا ہے تو  کہاں سے  نہیں

تو  کیا  بس  اتنا  تمہیں اعتبار  ہے  ہم  پر 
فلاں فلاں سے رکھو رابطہ فلاں سے نہیں 

Published from Blogger Prime Android App
                     اظہر فراغ
 یہ جفائے غم کا چارہ ، وہ نِجات دل کا عالم
ترا حُسن دستِ عیسٰی ، تری یاد رُوئے مریمؑ

دل و جاں فدائے راہے کبھی آ کے دیکھ ہمدم
سرِ کُوئے دل فِگاراں شبِ آرزو کا عالم

تری دِید سے سوا ہے ترے شوق میں بہاراں
وہ چمن جہاں گِری ہے تری گیسوؤں کی شبنم

یہ عجب قیامتیں ہیں تری رہگُزر میں گُزراں
نہ ہُوا کہ مَر مِٹیں ہم ، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم

لو سُنی گئی ہماری ، یُوں پِھرے ہیں دن کہ پِھر سے
وہی گوشۂ قفس ہے ، وہی فصلِ گُل کا ماتم

No comments:

Post a Comment