محبت بھی مصیبت ہے کریں کیا
مگر اپنی ضرورت ہے کریں کیا
ہمارے پاس ایک لمحہ نہیں ہے
اسے فرصت ہی فرصت ہے کریں کیا
تجھے کھونے کا ڈر اپنی جگہ ہے
تجھے پانے کی حسرت ہے کریں کیا
مسلسل دیکھنے سے مت خفا ہو
یہی اپنی عبادت ہے کریں کیا
ہمیں مرنا پڑا خوش فہمی میں
اسے ہنسنے کی عادت ہے کریں کیا
ہم اس سے بچ کے چلنا چاہتے ہیں
مگر وہ خوبصورت ہے کریں کیا
ہمیشہ سچ نکل جاتا ہے منہ سے
کچھ ایسی ہی طبیعت ہے کریں کیا
ستم دل پر نہ کوئی ہم بھی سہتے
مگر اس کی حکومت ہے کریں کیا

اختر شمار
بھیگے رستوں پہ ترے ساتھ ٹہلنا تھا مجھے
ایسے موسم میں بھلا چھوڑ کے جاتا ہے کوئی
کاشف غلام رسول
ایک مدت سے تجھے دل میں بسا رکھا ہے
میں تجھے یاد دہانی سے الگ رکھتا ہوں
وہ سنے گا تو چھلک اٹھیں گی آنکھیں اس کی
اس لیے خود کو کہانی سے الگ رکھتا ہوں
وہ جو بچپن میں ترے ساتھ پڑھا کرتا تھا
ان کتابوں کو نشانی سے الگ رکھتا ہوں
تذکرہ اس کا غزل میں نہیں کرتا ہوں رئیسؔ
میں اسے لفظ و معانی سے الگ رکھتا ہوں
رئیس انصاری
ساڈی قسمت جو تیکوں نئیں بھاندے
اپنڑی ماء کنڑ تاں چن دے ٹوٹے ہیں
خالد ندیم شانی 🤍
دنیا کے لئے کچھ بھی سہی پر تیرے لیے ہم
مخلص کسی ماں کی دُعاؤں کی طرح ہیں !
عمیر نجمی
زباں سے نہیں
کہاں کہاں سے ہمارا ہے تو کہاں سے نہیں
تو کیا بس اتنا تمہیں اعتبار ہے ہم پر
فلاں فلاں سے رکھو رابطہ فلاں سے نہیں

اظہر فراغ
یہ جفائے غم کا چارہ ، وہ نِجات دل کا عالم
ترا حُسن دستِ عیسٰی ، تری یاد رُوئے مریمؑ
دل و جاں فدائے راہے کبھی آ کے دیکھ ہمدم
سرِ کُوئے دل فِگاراں شبِ آرزو کا عالم
تری دِید سے سوا ہے ترے شوق میں بہاراں
وہ چمن جہاں گِری ہے تری گیسوؤں کی شبنم
یہ عجب قیامتیں ہیں تری رہگُزر میں گُزراں
نہ ہُوا کہ مَر مِٹیں ہم ، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم
لو سُنی گئی ہماری ، یُوں پِھرے ہیں دن کہ پِھر سے
وہی گوشۂ قفس ہے ، وہی فصلِ گُل کا ماتم
No comments:
Post a Comment