تمارے دل پہ ہوگا یہ اثر آہستہ آہستہ
کہ تم بن جاؤ گے میرے مگر آہستہ آہستہ

تماری دوستی تو بے وفا لوگوں سے اب بھی ہے
تمیں بھی آئے گا اب یہ ہنر آہستہ آہستہ
وہ جس لڑکی کو تم اب دوست کہتے پھر رہے ہو"نا"
وہ بن جائے گی دل کی معتبر آہستہ آہستہ
ہزاروں جام اس کے آگے کچھ بھی تو نہیں ساقی
اٹھاتی ہے وہ جب اپنی نظر آہستہ آہستہ
تمارے خط ،یہ نقشِ عاشقی سب کچھ جلائیں گے
جلا ڈالیں گے ہم دل کا نگر آہستہ آہستہ
ہاں جاری ہے مشقت عشق کی کھتی میں اپنی بھی
ملے گا ہم کو بھی اپنا ثمر آہستہ آہستہ
سفر میں ہمسفر اپنی ہی مرضی کا ہو انزل جب
دعا ہوگی، کٹے اپنا سفر آہستہ آہستہ
انزل حسین انزل
اس ابتدا کی سلیقے سے انتہا کرتے
وہ ایک بار ملے تھے تو پھر ملا کرتے
کواڑ گرچہ مقفل تھے اس حویلی کے
مگر فقیر گزرتے رہے صدا کرتے
ہمیں قرینۂ رنجش کہاں میسر ہے
ہم اپنے بس میں جو ہوتے ترا گلا کرتے
تری جفا کا فلک سے نہ تذکرہ چھیڑا
ہنر کی بات کسی کم ہنر سے کیا کرتے
تجھے نہیں ہے ابھی فرصت کرم نہ سہی
تھکے نہیں ہیں مرے ہاتھ بھی دعا کرتے
انہیں شکایت بے ربطی سخن تھی مگر
جھجک رہا تھا میں اظہار مدعا کرتے
چقیں گری تھیں دریچوں پہ چار سو انورؔ
نظر جھکا کے نہ چلتے تو اور کیا کرتے
انور مسعود
کچھ تو میرے یقین کی وسعت قلیل تھی
کچھ وہ میرے گمان سے آگے نکل گیا
میں نے تو صرف ہائے کہا لوگ رو پڑے
لہجہ میرے بیان سے آگے نکل گیا
تو بھی گلی کے سامنے کھڑکی نہ رکھ سکا
میں بھی تیرے مکان سے آگے نکل گیا
میں نے الله کا نام اٹھا کر بھری اڑان
یکلخت آسمان سے آگے نکل گیا
اس درجہِ کمال پہ پہنچی تھی جستجو
رکیے کے ہر نشان سے آگے نکل گیا
ذریت لاریب توقیر 🖤
No comments:
Post a Comment