HD

Thursday, 23 February 2023

کچھ اسطرح سے میں اپنی زندگی تمام کر دوں، وقت سحر تم کو  دیکھوں اور شام کر دوں

ہاتھ میں ہاتھ تک سفر ہو گا
اس سے آگے تو دردِ سر ہو گا

ملنا ہو تو ابھی ملو ہم سے
آج سا شوق کل کدھر ہو گا

رنگ خوشبو تو اڑ گئے ہوں گے
پھول ضدی تھا ڈال پر ہو گا

وجہ کس نے کہا فقط تم ہو
کچھ نہ کچھ ہم میں بھی ہنر ہو گا

پڑھتا ہو گا وہ سب خطوط مرے
کس اذیت میں نامہ بر ہو گا

نام میرا بھی ساتھ لکھ دیجے
آپ کا نام معتبر ہو گا

دل کی باتیں ہیں اور دیواریں
ایک وحشت میں سارا گھر ہو گا

وہ جو تکتا ہے ایک ٹک مجھ کو
میری حالت سے با خبر ہو گا

میری باتوں میں حل نہ ہو شاید
اک نیا زاویہ مگر ہو گا

Published from Blogger Prime Android App
*وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا*
*اب کس سے کہیں کوئی ہمارا بھی کبھی تھا*

*اترا ہے رگ و پے میں تو دل کٹ سا گیا ہے*
*یہ زہرِ جدائی کہ گوارا بھی کبھی تھا*

*ہر دوست جہاں ابرِ گریزاں کی طرح ہے*
*یہ شہر کبھی شہر ہمارا بھی کبھی تھا*

*تتلی کے تعاقب میں کوئی پھول سا بچہ*
*ایسا ہی کوئی خواب ہمارا بھی کبھی تھا*

*اب اگلے زمانے کے ملیں لوگ تو پوچھیں*
*جو حال ہمارا ہے تمہارا بھی کبھی تھا*

*ہر بزم میں ہم نے اسے افسردہ ہی دیکھا*
*کہتے ہیں فرازؔ انجمن آرا بھی کبھی تھا*
سفر منزل شب یاد نہیں 
لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں 

اولیں قرب کی سرشاری میں 
کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں 

دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی 
تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں 

وہ ستارا تھی کہ شبنم تھی کہ پھول 
ایک صورت تھی عجب یاد نہیں 

کیسی ویراں ہے گزر گاہ خیال 
جب سے وہ عارض و لب یاد نہیں 

بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار 
یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں 

ایسا الجھا ہوں غم دنیا میں 
ایک بھی خواب طرب یاد نہیں 

رشتۂ جاں تھا کبھی جس کا خیال 
اس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں 

یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم 
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں 

یاد ہے سیر چراغاں ناصرؔ 
دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں

ناصر کاظمی

وہ جو  دِل میں تیرا  مقــــــام ہے .

 کسی اور کو وہ  دیا نہیـــں۔

 وہ جو  رشتــــہ تجھ  سے ہے  بن گیا

 کســـــی اور سے وہ  بنا نہیں۔ 

 وہ جو  سکـــھ ملا تیری  ذات سے

 کســی اور سے وہ  ملا نہیــــں۔

 تُو بسا ہے  آنکھوں میں جس میں 
  
 کوئی اور  ایســـے_بسا  نہیــــں .    💫💞


کچھ اسطرح سے میں اپنی زندگی تمام کر دوں،
وقت سحر تم کو  دیکھوں اور شام کر دوں،

خواب میں بھی تیرے سوا کوئی دکھائی نہ دے،
عمر بھر کہ لیے آنکھوں کو تیرا ّغلام کر دوں،

تیرے پیار کی خوشبو سے مہکیں میری سانسیں،
اور جتنی ہیں میری سانسیں سب تیرے نام کردوں

عکس پانی پہ میں تحریر کروں..!!
زندگی آ تجھے تصویر کروں..!!

بُت بناؤں میں کوئی مٹی کا..!!
روح پھونکوں اسے تسخیر کروں..!!

خواب دیکھوں میں تری مرضی کا..!!
اپنی مرضی کی میں تعبیر کروں..!!

تجھ کو شہرت کی بلندی دے کر..!!
اپنی گمنامی کی تشہیر کروں..!!

اٹھے نہ تھے ابھی ہم حالِ دل سنانے کو
زمانہ بیٹھ گیا حاشیے چڑھانے کو

بھری بہار میں پہنچی خزاں مٹانے کو
قدم اٹھائے جو کلیوں نے مسکرانے کو

جلایا آتشِ گُل نے چمن میں ہر تنکا
بہار پھونک گئی میرے آشیانے کو

جمالِ بادہ و ساغر میں ہیں رُموز بہت
مری نگاہ سے دیکھو شراب خانے کو

قدم قدم پہ رُلایا ہمیں مقدر نے
ہم اُن کے شہر میں آئے تھے مسکرانے کو

نہ جانے اب وہ مجھے کیا جواب دیتے ہیں
سُنا تو دی ہے انہیں داستاں "سُنانے کو”

کہو کہ ہم سے رہیں دور، حضرتِ واعظ
بڑے کہیں کے یہ آئے سبق پڑھانے کو

اب ایک جشنِ قیامت ہی اور باقی ہے
اداؤں سے تو وہ بہلا چکے زمانے کو

شب فراق نہ تم آ سکے نہ موت آئی
غموں نے گھیر لیا تھا غریب خانے کو

نصیر! جن سے توقع تھی ساتھ دینے کی
تُلے ہیں مجھ پہ وہی انگلیاں اُٹھانے کو

 نصیر الدین نصیر

No comments:

Post a Comment