دُکھ دے کر سوال کرتے ہو
تم بھی غالب کمال کرتے ہو
دیکھ کر پُوچھ لیا حال میرا
چلو کچھ تو خیال کرتے ہو
شہرِ دِل میں یہ اُداسیاں کیسی
یہ بھی مجھ سے سوال کرتے ہو
مرنا چاہیں بھی تو مر نہیں سکتے
تم بھی جینا محال کرتے ہو
اب کِس کِس کی مثال دوں تم کو
ہر ستم بےمثال کرتے ہو
مرزا غالب

ایک بے چہرہ سی امید ھے ، چہرہ چہرہ
جس طرف دیکھیے ، آنے کو ھے آنے والا
دُور کے چاند کو ، ڈھونڈو نہ کسی آنچل میں
یہ اُجالا نہیں آنگن میں سَمانے والا
اِک مسافر کے سفر جیسی ھے سب کی دُنیا
کوئی جلدی میں ، کوئی دیر سے جانے والا
ندا فاضلی
......
..........
غزل والوں کا اسلوب ۔۔۔۔ سمجھتے ہوں گے
چاند کہتے ہیں کسے خوب سمجھتے ہوں گے
میں سمجھتا تھا محبت کی زباں خوشبو ہے
پھول سے لوگ اسے خوب سمجھتے ہوں گے
غزل والوں کا اسلوب ۔۔۔۔ سمجھتے ہوں گے
چاند کہتے ہیں کسے خوب سمجھتے ہوں گے
میں سمجھتا تھا محبت کی زباں خوشبو ہے
پھول سے لوگ اسے خوب سمجھتے ہوں گے
.........................................................
یہ لمحے عشق و مستی کے، سدا پابند نہیں رہتے
سدا خوشیاں نہیں رہتیں، ہمیشہ غم نہیں رہتے
ذرا دیکھو کہ دروازے پہ دستک کون دیتا ہے
محبت ہو تو کہہ دینا یہاں اب ہم نہیں رہتے
مجھے کیا خبر وہ عشق تھا
نماز تھی کہ ۔۔۔۔۔۔۔ سلام تھا
میرا اشک اشک تھا مقتدی
تیرا حرف حرف ۔۔ امام تھا
...............................
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو میری ضرورت ہے
حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے
صرف احساس کی ضرورت ہے
اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے
قابل اجمیری
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو میری ضرورت ہے
حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے
صرف احساس کی ضرورت ہے
اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے
قابل اجمیری
No comments:
Post a Comment