ﮐَﻮﻥ ﮨَﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍَﺏ ﻣَﻨﻈُﻮﺭِ ﻧَﻈَﺮ
ﮐِﺲ ﮐَﯿﻠِﺌَﯿﮯ ﺍِﺣﺘﯿَﺎﻁ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﻮ
ﮐﻮﻥ ﺭِﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍَﺏ اندﺭُﻭﻥِ ﺩِﻝ
ﮨَﻢ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺍِﺟﺘَﻨﺎﺏ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﻮ

.....................................
دیکھ کے اپنا حال کبھی تو ایسا بھی جی اُمڈا
جیسے سبز گھنے پیڑوں پر بادل ٹوٹ پڑے
آج تو دل کی دھڑکن سے آواز کچھ ایسی آئی
جیسے کوئی پھول کِھلے یا چھالا پھوٹ پڑے
رام ریاض
..................................................
وہ ریت دوسروں کے مقدر کی ریت تھی
سو ہم نے اپنے نام کا صحرا الگ کیا
جب بھی کہیں حساب کیا زندگی کا دوست
پہلے تمہارے نام کا حصہ الگ کیا
پھر یوں ہوا کہ بھول گئے اس کا نام تک
جتنا قریب تھا اسے اتنا الگ کیا
احمد رضوان
...............................................
بُھلانا ، یاد کرنا اور پھر تم کو بُھلا دینا
تمہارے بعد بھی کچھ سلسلے اچھے نکل آئے
مسائل کو گرہ دیں تو لہو رِستا ہے پوروں سے
ہمارے چاکِ دامن سے یہ کیا دهاگے نکل آئے
عباس تابش
.........
......................................
جن کی حسرت میں دل رسوا نے غم کھائے بہت
سنگ ہم پر ان دریچوں نے ہی برسائے بہت
روشنی معدوم گہرے ہو چلے سائے بہت
جانے کیوں تم آج کی شب مجھ کو یاد آئے بہت
قسمت اہل قفس پھولوں کی خوشبو بھی نہیں
یوں تو گلشن میں صبا نے پھول مہکائے بہت
مہتاب ظفر
..................................................
بھٹکے ہوئے پھرتے ہیں کئی لفظ جو دل میں
دنیا نے دیا وقت ، تو لکھیں گے کسی دن
جاتی ھے کسی جھیل کی گہرائی کہاں تک !
آنکھوں میں تیری ڈوب کے، دیکھیں گے کسی دن
خوشبو سے بھری شام میں، جگنو کے قلم سے
اک نظم ، تیرے واسطے ، لکھیں گے کسی دن
...........................................................
جانا ٹھہرا ھے، تو آداب و سلیقے سے نکل
سانس کی گٹھڑی اٹھا، عمر کے میلے سے نکل
تُو ہتھیلی پہ دھری خاک سے بڑھ کر کیا ھے
یہ جو ہونے کا تجھے وہم ھے، ہونے سے نکل
عصر ہو جائے تو پھر دھوپ ٹھہرتی کب ھے
اب فقط لمحوں کو گن، سال مہینے سے نکل
.......................................................
پریتم ایسی پریت نہ کریو
جیسی کرے کھجُور
دُھوپ لگے تو سایہ نہ ھی
بھُوک لگے، پھل دُور
پریت کبیرا، ایسی کریو
جیسی کرے کپاس
جیو تو تن کو ڈھانکے
مرو تو، نہ چھوڑے ساتھ
پریت نا کریو پنچھی جیسی
جل سوکھے، اُڑ جائے
پریت تو کریو مچھلی جیسی
جل سوکھے، مر جائے...!
بھگت کبیر
..........................
ہاتھ میں ہاتھ تک سفر ہو گا
اس سے آگے تو دردِ سر ہو گا
ملنا ہو تو ابھی ملو ہم سے
آج سا شوق کل کدھر ہو گا
رنگ خوشبو تو اڑ گئے ہوں گے
پھول ضدی تھا ڈال پر ہو گا
وجہ کس نے کہا فقط تم ہو
کچھ نہ کچھ ہم میں بھی ہنر ہو گا
پڑھتا ہو گا وہ سب خطوط مرے
کس اذیت میں نامہ بر ہو گا
نام میرا بھی ساتھ لکھ دیجے
آپ کا نام معتبر ہو گا
دل کی باتیں ہیں اور دیواریں
ایک وحشت میں سارا گھر ہو گا
وہ جو تکتا ہے ایک ٹک مجھ کو
میری حالت سے با خبر ہو گا
میری باتوں میں حل نہ ہو شاید
اک نیا زاویہ مگر ہو گا
۔۔۔۔۔۔ اتباف ابرک
اضافی اشعار
مجھ سے وہ یوں مکر نہیں سکتا
اس کے پیچھے بھی چارہ گر ہو گا
ریل رکتی ہے دل دہلتا ہے
ختم شاید یہیں سفر ہو گا
یونہی بس ہانکتا میں رہتا ہوں
میرے کہنے سے کیا اثر ہو گا
......................................
غزل
عشقِ حصولِ یار میں پاگل بنے رہے،
مطلب کہ ہم بیکار میں پاگل بنے رہے،
گردش کے مارے ہجر سے چھپتے رہے بہت،
پھر بھی ترے حصار میں پاگل بنے رہے،
چند دن تمہارے جھوٹ سے ہو کر کے مبتلا،
کُچھ پل تیرے قرار میں پاگل بنے رہے،
برسوں کی ایک یاد نے مسمار کر دیِا،
پتھر تیرے خمار میں پاگل بنے رہے،
جینے کی آرزو نہ رہی پھر بھی ہم رہے!
ہم قرب کے شمار میں پاگل بنے رہے،
ہرنی بھی گئی شیر بھی فاقوں سے مر گیا!
اور ہم اِسی شکار میں پاگل بنے رہے،
اِک کھیل جس کو نامِ محبت دیا گیا،
ہم اُس کے کاروبار میں پاگل بنے رہے۔
فیصل شہزاد
No comments:
Post a Comment