HD

Monday, 6 February 2023

ٹھیک  ہے خود کو ہم بدلتے ہیں شکریہ مشاورت کا چلتے ہیں  اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں ہم کہاں ٹالنے سے ٹلتے ہیں

ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
شکریہ مشاورت کا چلتے ہیں 

اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں
ہم کہاں ٹالنے سے ٹلتے ہیں

ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد
دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں

ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی 
ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اُس سے جلتے ہیں

ہے اُسے دُور کا سفر درپیش
ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں

تم بنو رنگ، تم بنو خوشبو
ہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں

میں اسی طرح تو بہلتا ہوں
اور سب جس طرح بہلتے میں

ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی
چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں

ہم کوئی بد معاملہ تو نہیں
زخم کھاتے ہیں ، زہر اُگلتے ہیں

شام فرقت کی لہلہا اُٹھی
وہ ہوا ہے کہ زخم پھلتے ہیں

جون ایلیا
Published from Blogger Prime Android App
‏ذرا جـو سمـجھ آنـے لگـتی ہـے کتـاب حـیات
زنـدگـی اکثـر نیـا ورق پلـٹ دیتـی ہـے۔

کچھ دیکھ  رہے ہیں  دلِ بسمل کا  تڑپنا 
کچھ غور سے قاتل کا ہُنر دیکھ رہے ہیں

داغ دہلوی

"پتھر"

ریت سے بُت نہ بنا، اَے مِرے اچّھے فَنکار
ایک لَمحے کو ٹھہر، میں تُجھے پتھر لا دوں

مَیں تِرے سامنے اَنبار لگا دوں_
لیکن
کون سے رَنگ کا پَتّھر تِرے کام آئے گا؟

سُرخ پَتّھر_؟ جِسے دِل کہتی ہے یہ بےدِل دنیا
یا وہ پَتّھرائی ہُوئی آنکھ کا نِیلا پَتّھر
جِس میں صَدیوں سے تَحیُّر کے پڑے ہوں ڈورے؟

کَیا تُجھے رُوح کے پَتّھر کی ضَرُورَت ہوگی؟
جِس پہ حق بات بھی پَتّھر کی طَرح گِرتی ہے

ایک وہ پَتّھر ہے، جِسے کہتے ہیں تہذِیبِ سفید
اُس کے مَرمَر میں سِیاہ خُون جَھلَک جاتا ہے
ایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مَگَر
ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تَو وہ ہاتھ آتا ہے

جِتنے معیار ہیں اِس دَور کے سب پَتّھر ہیں
جِتنے اَفکار ہیں اِس دَور کے سب پَتّھر ہیں

شعر بھی، رَقص بھی، تَصوِیر و غِنا بھی پَتّھر
میرا اِلہام، تِرا ذہنِ رَسا بھی پَتّھر 
اِس زَمانے میں تَو ہر فَن کا نِشاں پَتّھر ہے
ہاتھ پتھر ہیں تِرے، میری زباں پَتّھر ہے
ریت سے بُت نہ بنا، اَے مِرے اَچھّے فَنکار۔۔۔!

احمدندیمؔ قاسمی

No comments:

Post a Comment