مَیں کیوں نہ ترکِ تعلق کی ابتدا کرتا
وہ دُور دیس کا باسی تھا کیا وفا کرتا؟
وہ میرے ضبط کا اندازہ کرنے آیا تھا
مَیں ہنس کے زخم نہ کھاتا تو اور کیا کرتا؟
ہزار آئینہ خانوں میں بھی مَیں پا نہ سکا
وہ آئینہ جو مجھے خود سے آشنا کرتا
درِ قفس پہ قیامت کا حبس تھا ورنہ
صبا سے ذکر تیرا مَیں بھی سُن لیا کرتا
میری زمیں تُو اگر مجھ کو راس آ جاتی
مَیں رفعتوں میں تجھے آسمان سا کرتا
غمِ جہاں کی محبت لُبھا رہی تھی مجھے
مَیں کس طرح تیری چاہت پہ آسرا کرتا؟
اگر زبان نہ کٹتی تو شہر میں محسن
مَیں پتھروں کو بھی اِک روز ہمنوا کرتا
.....

وعدۂِ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم
خاک بولیں گے کہ دفنائے ہوئے لوگ ہیں ہم
یوں ہر ایک ظلم پہ دم سادھے کھڑے ہیں جیسے
کسی دیوار میں چنوائے ہوئے لوگ ہیں ہم
اس کی ہر بات پہ لبیک بھلا کیوں نہ کہیں
زر کی جھنکار پہ بلوائے ہوئے لوگ ہیں ہم
جس کا جی چاہے وہ انگلی پہ نچا لیتا ہے
جیسے بازار سے منگوائے ہوئے لوگ ہیں ہم
ہنسی آئے بھی تو ہنستے ہوئے ڈر لگتا ہے
زندگی یوں تیرے زخمائے ہوئے لوگ ہیں ہم
آسمان اپنا، زمیں اپنی، نہ سانس اپنی تو پھر
جانے کس بات پہ اترائے ہوئے لوگ ہیں ہم
جس طرح چاہے بنا لے ہمیں وقت قتیل
درد کی آنچ پہ پگھلائے ہوئے لوگ ہیں ہم
( قتیل شفائی)
No comments:
Post a Comment