HD

Monday, 27 February 2023

تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں  موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں 

 اس گھڑى کا خوف لازم ہے کہ انور جس گھڑى..
دھر لیے جائیں گے سب اور سب دھرا رہ جائے گا....
(انور مسعود)
 
Published from Blogger Prime Android App
ﺍﭘﻨﮯ ﺍَﻃﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﺷﺎﻃِﺮ ہو ﮔﺎ,

ﺯﻧﺪﮔﯽ، ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ.
وحدت عشق کی تقسیم نہیں ہوتی ،
جاۓ سجدہ کبھی دو نیم نہیں ہوتی ،
 
اور ایک ہی بار لکھا جاتا ہے دستورِوفا ،
دل کے آٸین میں ترمیم نہیں  ہوتی......!!!
چلے جانے کی عُجلت میں
دِلوں پر جو گُزرتی ہے....
مُسافِر کب سمجھتے ہیں 
اُنہیں احساس کب ہوتا ہے !

زادِ رہ سمیٹیں تو کسی کا 
دل سِمٹتا ہے ... !
رَگوں میں خُون جَمتا ہے
کسی کے الوداعی ہاتھ ہِلتے ہیں
مگر دل ڈوب جاتا ہے !

مگر جانے کی عُجلت میں مُسافِر 
کب سمجھتے ہیں  ...!!!
 مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت 
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں 

ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے 
بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں 

زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ 
کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں 

اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں 
ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں 

لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا 
شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں 

تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں 
موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں 


ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ 
کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں

مرزا غالب

No comments:

Post a Comment