رقیب سے

آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا
آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے
جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے
تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
تجھ پہ برسا ہے اسی بام سے مہتاب کا نور
جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے
تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے
فیض احمد فیض
قفسِ زِنداں میں تیری یاد کا کاسہ لے کر
ہِجر کے دیپ جَلاتے ہیں٬ جِدھر جاتے ہیں
تم کو ہے راس، کسی وَصل کا کاندھا لیکن
لوگ جو دِل سے اُترتے ہیں٬ کِدھر جاتے ہیں ؟🖤
سڑکوں پہ رات کاٹ لی گھر تو نہیں گئے
تیرے بغیر دیکھ لے۔۔۔! مر تو نہیں گئے
یہ کیا تمہارے چہرے کی رنگت بدل گئی
خوش باش ہم کو دیکھ کر ڈر تو نہیں گئے۔!!.🖤
.تجھ سے ربط نہیں بڑھانے میں نے
تجھ سے خوشبو کے ناطے ہیں
شہرِ دل کا مستقل باسی ہے تُو
ورنہ لوگ تو آتے جاتے ہیں 🖤
No comments:
Post a Comment