کیسے جانے کی ٹھان لی اس نے
کچھ بھی دیکھا نہ تھا ابھی اس نے
خوب اڑایا مجھے ہواؤں میں
پھر مری ڈور کاٹ دی اس نے
برتری میں بھی کردیا ظاہر
اپنا احساس۔ کمتری اس نے
خوف کھانے لگے ہیں پروانے
پال رکھی ہے چھپکلی اس نے
سر بھی کرلی پہاڑ کی چوٹی
اور کمر بھی نہیں کسی اس نے
پارس مزاری

میرے پہلو میں نہیں ، آپ کی مٹھی میں نہیں
بے ٹھکانے ہے بہت دن سے ،ٹھکانا دل کا
لے چلا ہے مرے پہلو سے بصد شوق کوئی
اب تو ممکن نہیں لوٹ کے آنا دل کا
ان کی محفل میں نصیر ! ان کے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ، ہاتھ سے جانا دل کا
پیر نصیر الدین نصیر
تُمھارے بعد زندگی کا حق ادا نہ ہو سکا
تُمھارے بعد میں بھی داستان سے نکل گیا
فیصل محمود
ہماری نیند اڑانے کہاں سے آتے ہیں
یہ خواب آنکھ میں جانے کہاں سے آتے ہیں
ہمارا دھیان کمانوں پہ ہے نہ تیروں پر
ہمیں پتہ ہے نشانے کہاں سے آتے ہیں
یہ خوشبؤوں کی طرح کون چاہتا ہے مجھے
یہ پھول میرے سرہانے کہاں سے آتے ہیں
پرندے شہر میں آئیں تو دانا ڈالا کرو
بیچارے اڑ کے نجانے کہاں سے آتے ہیں
حسین آنکھیں دہکتے بدن گلاب سے ہونٹ
زمین پر یہ خزانے کہاں سے آتے ہیں
یہ لوگ لاشیں اٹھانے کہاں سے آئے ہیں
وہ لوگ لاشیں گرانے کہاں سے آتے ہیں
ہوائے دشت مجھے روز پوچھتی ہے فقیہ
جناب خاک اڑانے کہاں سے آتے ہیں
فقیہ حیدر
غزل
کمرے کو بند کر کے جو تَالا لگا دیا
اب کھولنا نہیں اِسے ,یَارا ,لگا دیا
آخر کو زندگی سے مُجھے ہَارنا پڑا
جتنا بھی مُجھ میں زور تھا,سارا لگا دیا
کیسی مسافتیں ہیں تُو کمرے کو آ کے دیکھ
بیٹھے بِٹھائے مکڑی نے جَالا لگا دیا
یہ سوچ کر مَکاں کو پلستر نہیں کِیا
سب کچھ تو عارضی ہے,سو گارا لگا دیا
اُس کے بغیر میرے تو سب کام اُلٹ ہوئے
دیوار پر گھڑی کو بھی اُلٹا لگا دیا
فیصل محمود
No comments:
Post a Comment