میخانہ طرف آیا، یاراں! دل و جاں انگیز
وہ تشنہ لباں ہم دَم، نہ جُرعہ کشاں انگیز
پہنچا ہے میانِ شہر، بادل زدگانِ شہر
وہ عشرتیاں آشوب، وہ حسرتیاں انگیز
شوریدہ سَراں درپس، خونیں جگراں درپیش
گل گشت کو نکلا ہے، وہ جانِ جہاں انگیز
حلقے میں در آیا ہے کیا کوئی فراغت دوست؟
ہے سخت براشفتہ، وہ محنتیاں انگیز
خود مست ہے اور کتنا، تر دست ہے اور کیسا
وہ خود نگراں افگن، وہ منتظراں انگیز
ہے دَیر بھی فریادی، کعبہ بھی ہے زِنہاری
کس دُھوم سے آیا وہ، یزداں شکناں انگیز
اے دل وہ بُتِ شنگل، کیا طُرفہ ادا ہوگا
میں ذکر سے جس کے ہوں، یاں مجلسیاں انگیز
کب تجھ کو دمکنا ہے، کب تجھ کو مہکنا ہے
اے رنگ یقیں افرروز، اے بوے گماں انگیز
جون ایلیا

وہی حساب تمنا ہے اب بھی آ جاؤ
وہی ہے سر وہی سودا ہے ، اب بھی آ جاؤ
جسے گئے ہوے خود سے ایک زمانہ ہوا
وہ اب بھی تم میں بھٹکتا ہے اب بھی آ جاؤ
وہ دل سے ہار گیا ہے پر اپنی دانست میں
وہ شخص اب بھی یگانہ ہے اب بھی آ جاؤ
میں خود نہیں ہوں کوئی اور ہے میرے اندر
جو تم کو اب بھی ترستا ہے اب بھی آجاؤ
میں یاں سے جانے ہی والا ہوں اب ، مگر اب تک
وہی ہے گھر وہی حجرہ ہے ، اب بھی آ جاؤ
وہی کشاکش احساس ہے با ہر لمحہ
وہی ہے دل وہی دنیا ہے ،اب بھی آ جاؤ
تمہیں تھا ناز بہت جسکی نام داری پر
وہ سارے شہر میں رسوا ہے اب بھی آ جاؤ
یہاں سے ساتھ ہی خوابوں کے شہر جاینگے
وہی جنوں وہی صحرا ہے اب بھی آ جاؤ
مری شراب کا شہرہ ہے اب زمانہ میں
سو یہ کرم ہے تو کس کا ہے اب بھی آ جاؤ
یہ طور !جان جو ہے میری بد شرابی کا
مجھے بھلا نہیں لگتا ہے اب بھی آ جاؤ
کسی سے کوئی بھی شکوہ نہیں مگر تم سے
ابھی تلک مجھے شکوہ ہے اب بھی آ جاؤ
وہ دل کہ اب ہے لہو تھوکنا ہنر جسکا
وہ کم سے کم ابھی زندہ ہے ، اب بھی آ جاؤ
نہ جانے کیا ہے کہ اب تک مرا خود اپنے سے
وہی جو تھا وہی رشتہ ہے اب بھی آ جاؤ
وجود ایک تماشا تھا ہم جو دیکھتے تھے
وہ اب بھی ایک تماشا ہے اب بھی آجاؤ
ہے میرے دل کی گزارش کہ مجھ کو مت چھوڑو
یہ میری جاں کا تقاضا ہے اب بھی آ جاؤ
کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا
وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آ جاؤ
وہ جون کون ہے جانے جو کچھ نہیں سنتا
ہے جانے کون جو کہتا ہے، اب بھی آ جاؤ
جون ایلیا
یہ پیہم تلخ کامی سی رہی کیا
محبت زہر کھا کر آئی تھی کیا
مجھے اب تم سے ڈر لگنے لگا ہے
تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا
شکستِ اعتمادِ ذات کے وقت
قیامت آرہی تھی، آگئی کیا
مجھے شکوہ نہیں بس پوچھنا ہے
یہ تم ہنستی ہو، اپنی ہی ہنسی کیا
ہمیں شکوہ نہیں، اک دوسرے سے
منانا چاہیے اس پر خوشی کیا
پڑے ہیں ایک گوشے میں گماں کے
بھلا ہم کیا، ہماری زندگی کیا
میں رخصت ہو رہا ہوں، پر تمہاری
اداسی ہوگئی ہے ملتوی کیا
میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں
فقط کچھ دوست ہیں، اور دوست بھی کیا
محبت میں ہمیں پاسِ انا تھا
بدن کی اشتہا صادق نہ تھی کیا
نہیں رشتہ سموچا زندگی سے
نجانے ہم میں ہے اپنی کمی کیا
ابھی ہونے کی باتیں ہیں، سو کر لو
ابھی تو کچھ نہیں ہونا، ابھی کیا
یہی پوچھا کیا میں آج دن بھر
ہر اک انسان کو روٹی ملی کیا
یہ ربطِ بےشکایت اور یہ میں
جو شے سینے میں تھی، وہ بجھ گئی کیا
جون ایلیا
دل میں اور دنیا میں اب نہیں ملیں گے ہم
وقت کے ہمیشہ میں اب نہیں ملیں گے ہم
اپنی بے تقاضائی اپنی وضع ٹھیری ہے
حالِ پُر تقاضا میں اب نہیں ملیں گے ہم
بُود یا نبود اپنی اِک گمان تھی اپنا
یعنی ’’یا‘‘ میں اور ’’یا‘‘ میں اب نہیں ملیں گے ہم
اب نہیں ملیں گے ہم کوچۂ تمنا میں
کوچۂ تمنا میں اب نہیں ملیں گے ہم
ایک خواب تھا دیروز اک فُسون تھا امروز
اور کسی بھی فردا میں اب نہیں ملیں گے ہم
اب جنون ہے اپنا گوشہ گیرِ تنہائی
سو دیار و صحرا میں اب نہیں ملیں گے ہم
حرف زَن نہ ہوں گے لب جاوداں خموشی میں
ہاں کسی بھی معنی میں اب نہیں ملیں گے ہم
زندگی شتاباں ہے شہرِ خفتہ کی جانب
شہرِ شور و غوغا میں اب نہیں ملیں گے ہم
ایک حالِ ب حالی دل کا طَور ٹھہرا ہے
حالِ حالت افزا میں اب نہیں ملیں گے ہم
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment