ختم ہونے جا رہی ہے رائیگانی شکریہ
شکریہ اے دل اے میرے یار جانی شکریہ
دشت میں کھلنے لگا ہے عشق کا تازہ گلاب
مسکرا کر دیکھئے گا مہربانی شکریہ
آخرش تو نے کہیں سے تو مجھے آواز دی
دل پہ پتھر رکھ کے میری بات مانی شکریہ
جاگ اے قسمت کہ تیری گود میں سر رکھ دیا
سہل کر دے مجھ پہ تھوڑی زندگانی شکریہ
آپ نے راشدؔ خزاں میں سبز کر ڈالا مجھے
آپ کے آنے سے آئی شادمانی شکریہ

دوستان!چاۓ پی؛ کتابیں پڑھ
دشمنان! چاۓ پی؛ کتابیں پڑھ
جب کس نے علاجِ غم پوچھا
کہ دیا! چاۓ پی؛ کتابیں پڑھ
سوچ مت آج کل کے بارے میں
مسکرا! چاۓ پی؛ کتابیں پڑھ
چل آ اک ایسی " نظم "کہوں
جو"لفظ"کہوں وہ ہو جائے،،
بس"اشک"کہوں تو اک آنسو
تیرے گورے"گال"کو دھو جاۓ،،
میں" آ " لکھوں تو آ جائے
میں"بیٹھ"لکھوں تو آ بیٹھے،،
میرے"شانے"پر سر رکھے تو
میں"نیند"کہوں تو سو جائے،،
میں کاغذ پر تیرے"ہونٹ"لکھوں
تیرے" ہونٹوں" پر مسکان آئے،،،
میں" دل " لکھوں تو دل تھامے
میں" گم " لکھوں وہ کھو جائے،،
تیرے" ہاتھ " بناوں پنسل سے
پھر" ہاتھ " پہ تیرے ہاتھ رکھوں،
کچھ" الٹا سیدھا" فرض کروں
کچھ" سیدھا الٹا " ہو جائے،،،
میں " آہ " لکھوں تو ہائے کرے
بےچین لکھوں"بےچین" ہو تُو،،
پھر میں بےچین کا" ب" کاٹوں
تجھے " چین" زرا سا ہو جائے،،
ابھی"ع" لکھوں تو سوچے مجھے
پھر "ش"لکھوں تیری نیند اُڑے،،
جب"ق" لکھوں تجھے کچھ کچھ ہو
میں"عشق" لکھوں تجھے ہو جائے
آ گئے ترے در پہ ایک التجا لے کر
درد کی عطا لے کر درد لا دوا لے کر
زندگی مروت ہے حادثوں کا رونا کیا
خاک میں ملا دے گی بے خودی انا لے کر
ظلمتیں ہیں نفرت کی بھیڑ ہے قیامت کی
اور پھر رہی ہوں میں عشق کی ضیاء لے کر
کیوں اٹھائے پھرتے ہو بوجھ ان جفاوں کا
وقت پھر کھڑا ہوگا حشر میں صلہ لے کر
باب ضبط خستہ پر جب اجل نے دی دستک
وہ پلٹ کے آئے ہیں پھر سے ابتداء لے کر
آبلے پریشاں ہیں اور لہو لہو رستے
ہم چلے تھے گھر سے تو آپ کا پتہ لے کر
چل دئے نسیم آخر وہ انا کے رستے پر
آج تک کھڑے ہیں ہم دشت میں وفا لے کر
No comments:
Post a Comment