وقت ساکن ہے سانس جاری ہے
بس ترے بعد یوں گزاری ہے

کسی آہٹ پہ چونکنا کیسا
جب ہے معلوم، بے قراری ہے
رات کا روز یہ دلاسہ ہے
آج کی رات صرف بھاری ہے
مار ڈالا ہے ان طبیبوں نے
ہم سے کہتے تھے زخم کاری ہے
ہم تو ہارے ہیں زندگی سے مگر
زندگی موت سے نہ ہاری ہے
بارشیں موڑ لو مرے گھر سے
ابھی برسات پچھلی جاری ہے
ہم جو تیرے بغیر زندہ ہیں
سب دکھاوا ہے دنیا داری ہے
اشک شوئی سے اشک باری تک
کل یہی زندگی ہماری ہے
۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک
اضافی
سن لیا زندگی بہت میں نے
اب مرے بولنے کی باری ہے
خود سے ٹالا ہے ہر سکوں ہم نے
جب سے تیری نظر اتاری ہے
الفت کی چوٹ، آہ و فُغاں، سسکیاں تمام
وہ میرے نام کر گئے بے چینیاں تمام
ذہن و جگر میں جب بھی مچلتے ہیں زلزلے
تنگ آ کے چیخ پڑتیں ہیں خاموشیاں تمام
رکّھیں گے کب تلک مجھے یوں ہی قطار میں ؟
سن لیجئے حضور مری عرضیاں تمام
نفرت کو اپنے قلب سے باہر نکالیے
دریا میں پھینک آئیے یہ بَرچھیاں تمام
پھولوں میں تیرا رنگ، ہواؤں میں ہے مہک
جلوؤں میں تیرے جذب ہیں رعنائیاں تمام
شاید ابھی بھی آپ کو فرصت نہیں ملی
رکّھی ہیں طاقچے پہ میری چِٹّھیاں تمام
میں نے جو اک شجر کی حفاظت سنبھال لی
میرے ہی سَمت ہو گئیں پھر آندھیاں تمام
No comments:
Post a Comment