HD

Monday, 20 February 2023

لہجے میں جی حضوری ہے میٹھی زبان ہے اور یوں منافقین کی چلتی دکان ہے

مسندِ ناز پہ جب وہ ستم ایجاد آیا
ٹُوٹ کر ایک جہان برسرِ فریاد آیا
Published from Blogger Prime Android App
کام ایمان کے آخر مِرا الحاد آیا
دیکھ کر اُس بُتِ کافر کو، خُدا یاد آیا

ایک جان اور دو قالب بھی رہے ہیں ہم تم
ہائے! کیا دَور تھا تم کو بھی کبھی یاد آیا؟

قتل ہونے کے لئے میں نے جُھکا دی گردن
مُسکراتا ہُوا اِس شان سے جلّاد آیا

ہم بہت روئے ہیں صیاد کے گھر میں گِھر کر
چار تنکوں کا نشیمن جو ہمیں یاد آیا

جُستجو میں تِری جو شخص گیا، شاد گیا
جو تِرے شہر سے آیا ہے، وہ برباد آیا

اِتنا اترائیں بہاروں پہ نہ اہلِ گُلشن
ہم بھی تھے مائلِ پرواز کہ صیّاد آیا

کار فرما ہے کسی مصلحتِ خاص کی رَو
ورنہ میرا یہ مقدر، کہ تمہیں یاد آیا؟

ذہنِ انساں پہ یہ بیکار ہیں سارے پہرے
اُسے پابند کرے کون، جو آزاد آیا

داد ہو یا کہ ہو بیداد، ستم ہو کہ کرم
کُچھ بھی ہو، میرا مقدّر کہ تمہیں یاد آیا

قیس و فرہاد کو یک گُونہ رہا مجھ سے خُلوص
جب بھی دیکھا تو پُکار اُٹھے کہ اُستاد آیا

وہ بھی مِلتا جو گَلے سے تو خوشی عید کی تھی
کوئی رہ رہ کے نصِیرؔ آج بہت یاد آیا
تو وجہِ سوز نہیں، تو بھی گر ملا ہوتا
ہمارے ساتھ کوئی اور حادثہ ہوتا

سبھی کہانیاں، افسانے مر چکے ہوتے
اگر زمانے میں ہر شخص با وفا ہوتا

عجیب لوگ ہیں جینا سزا بتاتے ہیں
ہمیں بھی ملتا یہ موقع اگر سزا ہوتا

دل و دماغ  کی بنتی نہیں غنیمت ہے
یہ ایک ہوتے نیا مسئلہ کھڑا ہوتا

یہ بات طے ہے کمی کچھ مجھی میں ہے ورنہ
یوں میرا ساتھ نہ ہر ایک چھوڑتا ہوتا

میں اک وجود ہوں سو آپ کا نہ ہو پایا
میں ایک خواب جو ہوتا تو آپ کا ہوتا 

ہزار فتنوں ، فسادوں سے بچ گیا ہوں میں
خدا جو ایک نہ ہوتا تو جانے کیا ہوتا

لہجے میں جی حضوری ہے میٹھی زبان ہے
اور یوں منافقین کی چلتی دکان ہے

مشکل سے دیکھ پائیں گے نیچے کھڑے یہ لوگ
ایسی بلندیوں پہ مری اب اڑان ہے 

حالت پہ جا نہ تُو میری آنکھوں کو پڑھ کے دیکھ 
یہ جیتنے کے بعد کی انتم تھکان ہے 

تیرا لحاظ رکھ کے میں گر تو پڑی مگر 
اب اٹھ نہ پاؤں گی؟ تیرا وہم و گمان ہے

کوئی تو بھر رہا ہے تری زندگی میں رنگ 
جو سادگی سے ان دنوں تو بدگمان ہے 

آتا ہے تیر جو بھی لگتا نہیں کہیں
دشمن کے ہاتھ میں بڑی گھٹیا کمان ہے

پہچانتی ہوں میں تیرے ہر ایک لفظ کو 
کس نے رٹا دیا تجھے اپنا بیان ہے

رہتا ہے جیسے چاند تاروں کے بیچ میں 
ایسے ہی کچھ گھروں میں اک میرا مکان ہے

کل تک تو میری جاں ترا کچھ اور تھا بیان 
مٹھو تو آج بولتا کس کی زبان ہے۔۔۔ 

شمائلہ فاروق

No comments:

Post a Comment