★گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا: کیلوں اور سیب کا کیا بھاؤ لگایا ہے؟ دکاندار نے جواب دیا: کیلے 80 روپے درجن اور سیب
۔
120 روپے کلو۔
اسی اثناء میں ایک عورت بھی دکان میں داخل ہوئی اور کہا: مجھے ایک درجن کیلے اور کچھ سیب چاہیئں، کیا بھاؤ ہے؟ دکاندار نے کہا: کیلے 20
روپے درجن اور سیب 40 روپے کلو۔ عورت نے الحَمدٌ لِلّہ پڑھا۔
دکان میں پہلے سے موجود گاہک نے کھا جانے والی غضب ناک نظروں سے دکاندار کو دیکھا، اس سے پہلے کہ کچھ اول فول کہتا: دکاندار نے گاہک کو اشارہ کرتے ہوئے تھوڑا انتظار کرنے کو کہا۔

عورت خریداری کر کے خوشی خوشی دکان سے نکلتے ہوئے بڑبڑائی: اللّہ تیرا شکر ہے، میرے بچے انہیں کھا کر بہت خوش ہونگے۔
عورت کے جانے کے بعد، دکاندار نے پہلے سے موجود گاہک کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا: اللّہ گواہ ہے، میں نے تجھے کوئی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔
یہ عورت چار یتیم بچوں کی ماں ہے۔ کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے کو تیار نہیں ہے۔ میں نے کئی بار کوشش کی ہے اور ہر بار ناکامی ہوئی ہے۔ اب مجھے یہی طریقہ سوجھا ہے کہ جب کبھی آئے تو اسے کم سے کم دام لگا کو چیز دے دوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا بھرم قائم رہے
اور اسے لگے کہ وہ کسی کی محتاج نہیں ہے۔ میں یہ تجارت اللّہ کے ساتھ کرتا ہوں اور اسی کی رضا و خوشنودی کا طالب ہوں۔
دکاندار کہنے لگا: یہ عورت ہفتے میں ایک بار آتی ہے۔ اللّہ گواہ ہے جس دن یہ آ جائے، اُس دن میری بیکری بڑھ جاتی ہے اور اللّہ کے غیبی خزانے سے منافع دو چند ہوتا ہے۔
No comments:
Post a Comment