HD

Thursday, 12 January 2023

 آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کے پاس بہترین لباس اور بہت ہی عمدہ سواریاں تھیں

*دشوار گزار گھاٹی*
حضرتِ سیدنا ابو حازم علیہ رحمۃ اللّٰهِ المُنعم فرماتے ہیں:'' جب حضرتِ سیدنا عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللّٰهِ المجید خلیفہ بن گئے تو ایک دن میں ان سے ملاقات کے لئے گیا۔ وہ کچھ لوگوں میں تشریف فرماتھے، میں انہیں نہ پہچان سکا لیکن انہوں نے مجھے پہچان لیا اور فرمایا:'' اے ابو حازم (علیہ رحمۃ اللّٰهِ المُنعم)! میرے قریب آؤ ، میں ان کے قریب گیا اور عرض کی:'' کیا آپ ہی امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز (علیہ رحمۃ اللّٰهِ المجید) ہیں؟'' انہوں نے فرمایا:'' جی ہاں میں ہی عمر بن عبدالعزیز ہوں۔''
میں بہت حیران ہوا اور عرض کی:'' جس وقت آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ مدینہ منورہ میں ہمارے امیر تھے اس وقت آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کا حسن و جمال عروج پر تھا، چہرہ انتہائی تاباں اور روشن تھا،
Published from Blogger Prime Android App
 آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کے پاس بہترین لباس اور بہت ہی عمدہ سواریاں تھیں، آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کے کثیر خدّام تھے، اور آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کی رہائش گاہ بہت ہی عمدہ تھی۔ اب آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کو کس چیز نے اس حال میں پہنچا دیا۔ حالانکہ اب تو آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ امیر المؤمنین ہیں، اب تو آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کے پاس زیادہ آسائشیں ہونی چاہيں تھیں۔'' امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللّٰهِ المجید یہ سن کر رونے لگے اور فرمایا:'' اے ابو حازم علیہ رحمۃ اللّٰهِ المُنعم! اس وقت میرا کیا حال ہوگا جب میں اندھیری قبر میں پہنچ جاؤں گا اور میری آنکھیں بہہ کر میرے رُخساروں پر آجائیں گی، میرا پیٹ پھٹ جائے گا، زبان خشک ہوجائے گی اور کیڑے میرے جسم پر رینگ رہے ہوں گے چاہے میں کتنا ہی انکار کروں۔''

پھر روتے ہوئے فرمانے لگے:'' اے ابو حازم (علیہ رحمۃ اللّٰهِ المُنعِم)! مجھے وہ حدیث سناؤ جو تم نے مجھے مدینہ منورہ میں سنائی تھی۔'' تو میں نے کہا:'' اے امیر المؤمنین رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ! میں نے حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰهُ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہِ بنی آدم صلَّی اللّٰهُ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:'' تمہارے سامنے دشوار گزار گھاٹی ہے جس سے صرف کمزور اور نحیف لوگ ہی گزر سکیں گے۔''
(حلیۃ الاولیاء، مسند عمر بن عبد العزیز، رقم :۷۲۹۸، ج۵، ص۳۳۳).
یہ حدیثِ پاک سن کر حضرتِ سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللّٰهِ المجید بہت دیر تک روتے رہے، پھر فرمایا:'' اے ابوحازم (علیہ رحمۃ اللّٰهِ المُنعم)! کیا میرے لئے یہ بہتر نہیں کہ میں اپنے جسم کو کمزور و نحیف بنالوں تا کہ اس ہولناک وادی سے گزر سکوں؟ لیکن مجھے اس خلافت کی آزمائش میں مبتلا کر دیا گیا ہے، پس معلوم نہیں کہ مجھے نجات ملے گی یا نہیں۔'' پھر آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ پر غشی طاری ہوگئی۔ لوگوں نے آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کے متعلق باتیں بنانا شروع کردیں، میں نے لوگوں سے کہا:'' تم امیر المؤمنین رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کے متعلق باتیں نہ 
بناؤ، تمہیں کیا معلوم! یہ کس مصیبت سے دوچار ہيں۔''
پھر انہوں نے اچانک رونا شروع کردیا اور اتنا زور سے روئے کہ ہم سب نے ان کی آواز سنی، پھر یکدم ہنسنے لگے۔ میں نے کہا:'' حضور! ہم نے آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کو بڑی تعجب خیز حالت میں دیکھا۔ پہلے تو آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ خوب روئے پھر ہنسنا شروع کردیا، اس میں کیا راز ہے ؟'' انہوں نے پوچھا:'' کیا تم نے مجھے اس حالت میں دیکھ لیا؟'' میں نے کہا:'' جی ہاں! ہم سب نے آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کی یہ تعجب خیز حالت دیکھی ہے۔'' تو آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ فرمانے لگے:'' اے ابو حازم (علیہ رحمۃ اللّٰهِ المُنعم)! بات دراصل یہ ہے کہ جب مجھ پر غشی طاری ہوئی تو میں نے خواب دیکھا کہ قیامت قائم ہوچکی ہے، اور مخلوق حساب و کتاب کے لئے میدان محشر میں جمع ہے، تمام اُمتوں کی 120 صفیں ہیں، جن میں سے اسّی(80) صفیں اُمتِ محمدیہ علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کی ہیں۔ تمام لوگ منتظر ہیں کہ کب حساب کتاب شروع ہوتا ہے۔
اچانک ندادی گئی:'' عبداللّٰه بن عثمان ابوبکر صدیق (رضی اللّٰهُ تعالیٰ عنہ) کہاں ہے؟'' چنانچہ حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰهُ تعالیٰ عنہ کو فرشتوں نے بارگاہِ خداوندی عزوجل میں حاضر کیا۔ ان سے مختصر حساب لیا گیا اور انہیں دائیں جانب جنت کی طر ف جانے کا حکم ہوا۔ پھر حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللّٰهُ تعالیٰ عنہ کو آواز دی گی۔ وہ بھی بارگاہِ ربُّ العزَّت عزوجل میں حاضر کئے گئے اور مختصر حساب کے بعد انہیں بھی جنت کا مژدہ سنادیا گیا، پھر حضرتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰهُ تعالیٰ عنہ کو بھی مختصر حساب کے بعد جنت میں جانے کا حکم سنایا گیا۔ پھر حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰهُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم کو ندا دی گئی۔ چنانچہ وہ بھی بارگاہِ احکم الحاکمین عزوجل میں حاضر ہوگئے اور انہیں بھی مختصر حساب کے بعد جنت کا پروانہ مل گیا۔
جب میں نے دیکھا کہ اب میری باری آنے والی ہے تو میں مُنہ کے بل گِر پڑا اور مجھے معلوم نہیں کہ خلفاء اربعہ رضوان اللّٰهُ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد والوں کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا، پھر ندا دی گئی کہ عمر بن عبد العزیز کہاں ہے؟ میری حالت خراب ہونے لگی اور میں پسینے میں شرابور ہوگیا، مجھے بارگاہِ خداوندی عزوجل میں حاضر کیا گیا اور مجھ سے حساب کتاب شروع ہوا اور ہر اس فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا جو میں نے کیا حتّٰی کہ گٹھلی، اس کے دھاگے اور گٹھلی کے چھلکے تک کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی، پھر مجھے بخش دیا گیا (اور جنت میں جانے کا حکم صادر ہوا) راستے میں میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو گلے سڑے جسم کے ساتھ راکھ پر پڑا تھا۔ میں نے فرشتوں سے پوچھا:'' یہ کون ہے؟'' تو فرشتوں نے کہا:'' آپ اس سے بات کیجئے، یہ آپ کو جواب دے گا۔'' میں اس کے پاس گیا اور اسے ٹھوکر ماری تو اس نے آنکھیں کھول دیں اور سر اُٹھا کر میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا: ''تو کون ہے؟'' اس نے کہا:'' آپ کون ہو؟'' میں نے کہا:'' میں عمر بن عبدالعزیز ہوں۔'' پھر اس نے پوچھا:'' اللّٰه ربُّ العزَّت نے آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' میں نے کہا:'' مجھے میرے رحیم و کریم پروردگار عزوجل نے اپنے فضل و کرم سے بخش دیا اور میرے ساتھ بھی وہی معاملہ فرمایا جو خلفاء اربعہ علیہم الرضوان کے ساتھ فرمایا اور مجھے بھی جنت میں جانے کا حکم ہوا ہے۔ ان کے علاوہ باقی لوگوں کے بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوا۔ وہ شخص کہنے لگا:'' آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کو بہت بہت مبارک ہو کہ آپ رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ کامیاب ہو گئے۔'' میں نے پوچھا:'' تم کون ہو؟'' اس نے کہا:'' میرا نام حجاج بن یوسف ہے، مجھے جب اللّٰه عزوجل کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو میں نے اپنے پروردگار عزوجل کو بہت غضب و قہر کے عالم میں پایا اور مجھے ہر اس قتل کے بدلے سخت عذاب دیا گیا جو میں نے دنیا میں کیا تھا جن طریقوں سے میں نے دنیا میں بے گناہ لوگوں کو قتل کیا تھا انہی طریقوں سے مجھے بھی سخت عذاب دیا گیا۔ اب میں یہاں پڑا ہوا ہوں اور اپنے رب عزوجل کی رحمت کا اُمیدوار ہوں جس طرح کہ سب مُوحِّدین منتظر ہیں۔ اب یا تو ہمارا ٹھکانا جنت ہوگا یا جہنم۔'' حضرتِ سیدنا ابو حازم رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''حضرتِ سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللّٰهِ المجید کے اس خواب کے بعد میں نے عہد کرلیا کہ آئندہ کبھی بھی کسی مسلمان کو قطعی جہنمی نہیں کہوں گا۔'' (یعنی بندہ چاہے کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو اللّٰه عزوجل کی رحمت بڑی وسیع ہے وہ جسے چاہے بخش دے)۔
(عیون الحکایات ، جلد اوّل ، حکایت نمبر 44).
✍🏻ابو محمد، محمد ذاکِر حسین قادری منظوری عفی عنہ

No comments:

Post a Comment