HD

Sunday, 1 January 2023

جو لوگ اپنے خیالات ، اپنے اخلاق ، اپنی معاشرت ، اپنی معیشت ، اپنی تعلیم ، غرض اپنی کسی چیز میں بھی مسلمان نہیں ہیں

" جو لوگ اپنے خیالات ، اپنے اخلاق ، اپنی معاشرت ، اپنی معیشت ، اپنی تعلیم ، غرض اپنی کسی چیز میں بھی مسلمان نہیں ہیں اور مسلمان رہنا نہیں چاہتے، اُن کے برائے نام مسلمان رہنے سے اسلام کا قطعًا کوئی فائدہ نہیں بلکہ سراسر نقصان ھے ۔
Published from Blogger Prime Android App
 وہ خدا پرست نہیں ، ہَوا پرست ہیں ۔ 
اگر دنیا میں بُت پرستی کا غلبہ ہو جائے تو یقنًا وہ بُتوں کو پوجیں گے۔

اگر دنیا میں برہنگی کا رواج عام ہو جائے تو یقینًا وہ اپنے کپڑے اُتار پھینکیں گے۔ اگر دنیا نجاستیں کھانے لگے تو یقینًا وہ کہیں گے کہ نجاست ہی پاکیزگی ھے اور پاکیزگی تو سراسر نجاست ھے ۔ 
اِن کے دل اور دماغ غلام ہیں اور غلامی ہی کے لیے گھڑے گئے ہیں۔

آج فرنگیت کا غلبہ ھے ، اس لیے اپنے باطن سے لے کر ظاہر کے ایک ایک گوشے تک وہ فرنگی بننا چاہتے ہیں ۔ کل اگر حبشیوں کا غلبہ ہو جائے تو یقینًا وہ حبشی بنیں گے ۔

 اپنے چہروں پر سیاہیاں پھیریں گے، اپنے ہونٹ موٹے کریں گے، اپنے بالوں میں حبشیوں کے سے گھونگھر پیدا کریں گے، ہر اُس شے کی پوجا کرنے لگیں گے جو حبش سے ان کو پہنچے گی ۔ ایسے غلاموں کی اسلام کو قطعًا ضرورت نہیں ھے۔

بخدا اگر کروڑوں کی مردم شماری میں سے ان سب منافقوں اور غلام فطرت لوگوں کے نام کٹ جائیں اور دنیا میں صرف چند ہزار وہ مسلمان رہ جائیں جن کی تعریف یہ ہو کہ " وہ اللہ کے محبوب ہوں اور اللہ اُن کا محبوب ہو ، مسلمانوں کے لیے نرم اور کافروں پر سخت ہوں ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہوں ۔

اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اُنہیں خوف نہ ہو ۔ ( المائدہ 54 ) " تو اسلام اب سے بدرجہا زیادہ طاقتور ہو گا اور ان کروڑوں کا نکل جانا اس کے حق میں ایسا ہو گا جیسے کسی مریض کے جسم سے پیپ اور کچ لہو نکل جائے ۔ "

سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ علیہ 
(کتاب۔تنقیحات)

No comments:

Post a Comment