✍️کہاجاتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے ذہن میں ہمیشہ تین سوال کھٹکتے رہتے تھے۔
• پہلا یہ کہ کیا میں واقعی سبکتگین کا بیٹا ہوں ؟

کیونکہ ان کے متعلق مشہور تھا کہ یہ بادشاہ کے سگے بیٹے نہیں بلکہ لے پالک ہیں۔
• دوسرا یہ کہ کیا علماء واقعی انبیاء کے وارث ہیں ؟
یہ تو خود بے اختیار قوم ہے انبیاء کا وارث تو بادشاہِ وقت یا کسی با اختیار آدمی کو ہونا چاہیے تھا
• تیسرا یہ کہ میں جنت میں جاؤں گا یا نہیں؟
انہی تین سوالات کو ذہن میں لے کر وہ ہمیشہ پریشان رہا کرتے تھے۔۔۔
ایک مرتبہ وہ کسی سفر سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ایک طالب علم کو دیکھا جو ایک کتاب ہاتھ میں لیے ایک کباب فروش کے دیے کے
پاس کھڑا ہے ، جب ہوا چلتی تو یہ طالب علم دیے کے ذرا قریب ہوجاتا ، زیادہ آگے بڑھنے سے جھجھکتا تھا کہ کہیں کباب فروش یہ نہ کہ دے کہ بھائی لینا نہیں تو پھر کھڑے کیوں ہو؟
سلطان نے جب یہ منظر دیکھا تو خادم کو حکم دیا کہ مَشعل اس طالب علم کو دے دی جائے!
آپ خود اندھیرے میں گھر تشریف لے آئے۔
کہا جاتا ہے کہ اسی رات خواب میں سلطان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی آپ ﷺ نے ایک جملہ ارشاد فرمایا اور سلطان محمود کو اپنے تمام سوالوں کے جواب مل گئے!
جملہ کیا تھا ــــــــــــــــــ ملاحظہ ہو!
"اے سبکتگین کے بیٹے! تیرے جنت میں جانے کے لیے اتنا کافی ہے کہ تو نے اس انبیاء کے وارث کو چراغ دیا!!
#سبحان__اللہ 💙
No comments:
Post a Comment