HD

Tuesday, 5 May 2020

ھم ‏اچھے ‏ ‏لوگ ‏ ‏کب ‏بن ‏یئگے ‏

پہلا منظر
دو موٹرسائیکل سوار مخالف سمتوں سے آتے ہوئے ایک دوسرے سے ٹکرائے اور گر پڑے۔ ہلکی خراشیں آئیں دونوں اٹھ کر کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دیتے ہوئے دست و گریبان ہو گئے۔ موقع پر موجود لوگوں نے بیچ بچاؤ کروا کر معاملہ ختم کروایا..
دوسرا منظر:
دو موٹر سائیکل سوار مخالف سمتوں سے آتے ہوئے ایک دوسرے سے ٹکرائے اور گر پڑے۔ ہلکی پھلکی خراشیں آئیں دونوں اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے کو پہچان لیا ارے یہ تو اپنا دوست ہے دونوں اپنی چوٹ بھول کر ایک دوسرے کا حال پوچھنے لگے اور خیریت دریافت کرنے لگے۔ ایک دوسرے کو تسلی دینے لگے کہ اللہ نے بڑی چوٹ سے بچا لیا گھر جا کر صدقہ و خیرات کریں گے...

یہ مناظر ہم نے اکثر دیکھے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارا رویہ ایک ہی طرح کی سیچوئیشن میں جان پہچان والے اور اجنبی لوگوں کےلئے مختلف کیوں ہوتا ہے۔۔۔۔ پہلے منظر میں ہم دوسرے منظر والا رویہ کیوں نہیں اپناتے...
سڑک پر چلتے ہوئے غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے اگر اللہ نے بڑے نقصان سے محفوظ رکھا ہے تو خوش اخلاقی کے ساتھ اجنبی لوگوں سے معاملہ ختم کیوں نہیں کر لیا جاتا۔۔۔۔ ایک تو چوٹ لگی اوپر سے مزید جھگڑا کرنے کی کیا منطق ہے سوائے تکبر کے..

No comments:

Post a Comment