آئے روز اساتذہ ٹیچرز قراء ٹیوٹر وغیرہ کی طرف سے شاگرد بچوں کے ساتھ غیراَخلاقی حرکات بدکرداری کے متعدد واقعات سامنے آتے ہیں یہ ایک انتہائی اذیت ناک اور شرمناک معاملہ ہے ۔ والدین کسی ایک بندے کو منتخب کرکے چُن کے اچھا انسان سمجھ کر بطور استاد مقرَّر کرتے ہیں لیکن وہ موذی نکلتا ہے بچے کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے اُس کی شخصیت بکھر جاتی ہے والدین ورثاء کی اذیت اِس کے علاوہ ہے
ایسی مجرمانہ غلیظ اور گھٹیا حرکتوں میں ملوِّث افراد کو فساد فی الارض بدکاری زنا جنسی ہراسمنٹ کی دفعات کے تحت سخت سے سخت سزاء بلاتاخیر اور بلاتفریق دی جائے تاکہ یہ سلسلہ رکے اور بچے بحفاظت پرسکون ماحول میں علم حاصل کرسکیں نیز اگر وہ استاد حافظ قاری مولوی ہو تو اُس پہ توہینِ قرآن توہینِ مذہب اور مذہبی دل آزاری کی آئینی دفعات اور شرعی احکام کا نفاذ بھی یقینی بنایا .
جاوے تاکہ دوسرے اساتذہ اور معلمین کو عبرت ہو نصیحت ہوجبکہ احتیاطی تدبیر کے طور پہ بجائے ون آن ون ٹیوشن کے رجسٹرڈ ریگولر کلاسز سکولز اکیڈمیز مدارس مساجد کا انتخاب کیا جاوے جہاں بچوں کی ایک بڑی یا مناسب تعداد بیک وقت سبق پڑھتی ہو کیونکہ تنہائی بذاتِ خود ایک مسئلہ ہے اِس کے ساتھ ساتھ کلاسز اور اداروں کی نگرانی مانیٹرنگ بھی ضروری ہے علاوہ ازیں ایک صورت یہ بھی ہے کہ چھوٹے بچوں کو خواتین معلمات سے تعلیم دلائی جائے اگلی بات اور آخری بات
…… ایسی کوئی خبر جب سامنے آتی ہے تو ہمارے ہاں طبقاتی طعن و تشنیع شروع ہو جاتی ہے پرانے ادھار چکائے جانے لگتے ہیں اگر ملزم ٹیچر ہو تو عصری نظامِ تعلیم پہ تنقید کی جاتی ہے اگر ملزم قاری ہو تو مذہبی نظامِ تعلیم کو نشانہ بنایا جاتا ہے
اِس کھینچاتانی کی وجہ سے بجائے اصلاح ہونے کے مزید انتشار اور فساد پھیلتا ہے اصل ایشو ڈسکس ہونے کے بجائے تو تو میں میں شروع ہو جاتی ہے ..
حالانکہ سلیقہ مند قومیں طبقات پہ انگلی نہیں اٹھاتی سسٹم کو درست کرتی ہیں آئیئے احباب طبقاتی فرقہ واریت سے نکل کر مل جل کے کام کیجیئے ہمیں ہمارے پھول جیسے بچوں کو محفوظ تعلیمی ماحول دینا ہے ..
#تحریرانوارحیدر
No comments:
Post a Comment