سپین میں مسلمانوں نے ہزار سال حکومت کی۔ وہاں موجود عیسائیوں کو مذہبی آزادی اور شہری حقوق دئیے۔ نتیجتاً سپین میں عیسائی کثیر آبادی کے ساتھ موجود رہے۔ جب عیسائیوں نے دوبارہ سپین پہ اقتدار حاصل کیا، تو مسلمانوں کا ایسا قتل عام کیا کہ مسلمانوں کی نسلیں تک مٹا دیں۔ حتی کے اسلامی درسگاہیں اور لائبریریاں تک جلا دیں۔
اسی طرح ہندوستان پہ مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی۔ یہاں ہندوؤں کو مذہبی آزادی اور شہری حقوق دیئے۔ مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ہندوستان میں کبھی ہندو مسلم تنازعات پیدا نہ ہوئے۔ چنانچہ یہاں ہندو اپنے مندروں سمیت محفوظ رہے۔
ابھی مشکل سے سو سال ہی گزرے ہیں جب ہندوؤں کو اقتدار ملا ہے۔ یہ دوبارہ یہاں سپین کی تاریخ دہرا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو جلایا اور سرعام کاٹا جا رہا ہے، اور شہریت ختم کی جا رہی ہے۔ مساجد کو گرایا اور جلایا جا رہا ہے۔
اگر مسلمان قوم پرست، متعصب یا دہشتگرد ہوتے ہو سپین میں عیسائی، اور ہندوستان میں ایک بھی ہندو باقی نہ رہتا۔ ہندوستان میں ہندوؤں کا وجود یہ ثابت کرتا ہے کہ، مسلمان حکمرانوں نے ہندوؤں کے ساتھ انسانیت کا سلوک روا رکھا۔
مسلمانوں نے سپین اور ہندوستان میں اپنے کردار سے ثابت کیا کہ، اسلام ہی واحد انسانیت کا مذہب ہے۔ اس کے علاوہ عیسائیت، ہندوازم، بدھ مت، سیکولرازم کوئی بھی نظریہ انسانیت کا نظریہ نہیں ہو سکتا۔ اسلام ہی انسانیت کا واحد مذہب ہے، کل بھی اور آج بھی۔ اس وقت دنیا کو سیکولرازم، لبرل ازم یا کسی بھی دوسرے ازم کی ضرورت نہیں۔ دنیا کو صرف نظریہ اسلام کی ضرورت ہے، یہی انسانیت کا واحد مذہب اور نظریہ ہے۔
No comments:
Post a Comment