اس پوسٹ میں جہاں منظور پشتین لکھا ہے وہاں من سور گشتین سوچ کر پڑھیں.
پاکستان میں مسنگ پرسنز کا ایشو
بی بی سی نے آج آرٹیکل لکھا ہے جس میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ منظور کو اس لیے پولیس نے پکڑا کہ وہ پاکستان میں "مسنگ پرسنز" پر کام کر رہا تھا۔ جو پاکستان میں بہت بڑا مسئلہ ہے۔
آئیں آج مسنگ پرسنز کے حوالے سے کچھ دلچسپ اعدادوشمار آپ سے شیر کرتے ہیں۔
پاکستان کی کل آبادی تقریباً 22 کروڑ ہے۔
پاکستان میں کل 6506 مسنگ پرسنز کے کیسز رجسٹر ہوئے۔ جس میں سے 4365 کیسز کمیشن برائے مسنگ پرسنز نے خارج کر دئیے۔
رہ جانے والے 2200 کے قریب کیسز پر کام جاری ہے جس کے بعد پتہ چلے گا کہ درحقیقت پاکستان میں کتنے لوگ مسنگ ہیں۔
شائد چند سو رہ جائیں۔
یہ ذہن میں رہے کہ پاکستان میں بیس سال سے جنگ بھی چل رہی ہے اور ایک بڑی تعداد آج بھی آپرینشنز کے نتیجے میں بھاگ کر افغانستان میں چھپی ہوئی ہے جو اکثر وہاں سے پاکستان میں حملے کرتے رہتے ہیں۔
دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ کی کل آبادی 32 کروڑ ہے۔ اور وہاں 90 ہزار لوگ اس وقت بھی مسنگ ہیں۔
انڈیا کی سوا ارب آبادی ہے اور وہاں مسنگ پرسنز کی تعداد تقریباً 4 لاکھ ہے جس میں سے آدھی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
پاکستان میں مسنگ پرسنز پر سب سے زیادہ شور افغانی مچاتے ہیں۔
افغانستان کی کل آبادی ساڑھے 3 کروڑ ہے اور وہاں مسنگ پرسنزن کی تعداد تقریباً 10 لاکھ کے قریب ہے۔
اسی طرح دیگر جنگ زندہ علاقوں میں بھی یہی حال ہے۔
مثلاً عراق میں بھی تقریباً اتنی ہی تعداد مسنگ ہے جہاں امریکہ کا کنٹرول ہے۔ اسی طرح شام میں 1 لاکھ سے اوپر لوگ مسنگ ہیں۔
پی ٹی ایم سب سے زیادہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو پکارتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق زبردستی غائب کیے گئے لوگوں کی سب سے زیادہ تعداد افغانستان میں ہے جو 1 لاکھ کے قریب قریب ہے۔
سری لنکا میں 60 ہزار سے زیادہ،
اور انڈیا میں 8 ہزار سے زائد لوگوں کو ایجنسیوں نے غائب کیا ہے۔
اور تو اور نیپال میں بھی 1300 لوگوں کو غائب کیا گیا ہے۔
کافی بڑی تعداد بنگلہ دیش میں بھی غائب کی جارہی ہے۔
اسی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں ایسے کیسز کی تعداد جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کو غائب کیا گیا ہے تقریباً 700 ہے۔
بدقسمتی سے اس سے تو زیادہ پاکستان میں خودکش دھماکے ہوئے ہیں یا ایسے بم حملے جس میں لوگوں کی شناخت نہ ہوسکی۔
بی بی سی والوں کا شائد دماغ خراب ہے کہ منظور کو پولیس حولدار نے عین اس وقت پکڑا جب وہ پراٹھا ٹھونس رہا تھا کیونکہ وہ مسنگ پرسنز پر کام کر رہا تھا جس سے ریاست پاکستان کو خطرہ تھا!
No comments:
Post a Comment