HD

Wednesday, 29 January 2020

ایک یونیورسٹی کے پروفیسر ھاتھ پر لڑکیوں کی گھڑی پہنتے تھے

یونیورسٹی میں ہمارے ایک پروفیسر تھے جو اپنی کلائی میں لیڈی گھڑی باندھتے تھے اور اسے دیکھ ہم سب طلبأ کی ہنسی چھوٹ جایا کرتی تھی. ایک عرصے بعد وائس چانسلر کے ذریعے جب ہم پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ پروفیسر صاحب جو زنانہ گھڑی پہنتے ہیں وہ ان کی فوت شدہ بیوی کی ہے.صاحبو۔اس واقعے سے میں نے سیکھا کہ "کچھ دل بِنا بولے محبوب کی رحلت کے بعد بھی اَلم اور درد محسوس کرتے ہیں ایک دفعہ میرا ہسپتال میں کسی مریض کی عیادت کے لیے جانا ہوا تو کوریڈور میں چلتے ہوئے ایک جوان لڑکی کی وِگ (بال) گر گئی اور وہاں موجود تمام لوگ اس پر ہنسنے لگے، آگے بڑھ کر جب ایک دوسری عورت نے اس کی مدد کی تو وہ روتے ہوئے کہنے لگی کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں کینسر نے میرے بال لے لیئے اس لیئے مجھے یہ آرٹیفیشل وِگ لگانا پڑتی ہے.
اسی طرح ایک دن قبرستان سے گزرتے ہوئے ۔

میں نے دس سالہ بچے کو ایک قبر پر کھڑا کچھ کہتے ہوئے سنا جو کہہ رہا تھا کہ ماما اٹھو میرے ساتھ اسکول چلو، استاد مجھے تمام لڑکوں کے سامنے مارتا اور کہتا ہے کہ تمہاری ماں کتنی سست اور کاہل ہے جو تمہاری پڑھائی کا خیال نہیں رکھتی.دوستو! کسی کی ظاہری حالت دیکھ کر ہمیں قطعاً مذاق یا کسی قسم کا بھونڈا ری ایکشن نہیں دینا چاہیے، 

ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اندر ہزار دُکھ چھپائے ہوئے ہو جس کا ہمیں علم نہ ہو۔بولنے، سوچنے اور ری ایکشن دینے سے پہلے اگلے بندے کے احساسات کا خیال رکھیے. 

بلاشبہ بعض باتیں انسان کو قتل کر دیتیں ہیں. 
. . . . . . . . .. .  شکریہ

No comments:

Post a Comment