HD

Friday, 17 January 2020

ڈاکٹر ذاکر نائیک داعی ہیں کوئی مجاہد نہیں

ڈاکٹر ذاکر نائیک داعی ہیں کوئی مجاہد یا سیاسی راہنماء نہیں کہ ان سے استقامت یا ہند سرکار کے سامنے کھڑے ہونے کی توقع ہو لیکن آپ دیکھیں ساری زندگی اسلام کی دعوت پیش کرنے والے شخص پہ جب ہند سرکار نے زندگی جہنم بنا دی دعوتی ادارے تباہ کردئیے وہ ہجرت پہ مجبور اور  پریشانیو میں مبتلا ہوئے تو اب ہند سرکار نے ان سے رابطہ کیا کہ آپکے سارے معاملات صاف شفاف کرکے وطن واپس آنے دیں گے اپنا کام بھی کریں مقدمات بھِی نمٹ جائیں گے چینل بھِی چل پڑے گا بس کشمیر کی حیثیت بدلنے کی زبانی حمایت کردیں ۔۔۔۔
کہنے کو یہ چھوٹی سی قیمت تھی جب ہند میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے بڑے بڑے گروہ ہند سرکار کیساتھ ہیں پاکستان جمعے جمعے کے احتجاج { اب تو وہ بھِی نہیں رہا } سے کام چلا رہا ہے ایسے میں  ڈاکٹر ذاکر نائیک نے امام احمد بن حنبل اور امام ابو حنیفہ کی یاد تازہ کردی ہند سرکار کے نمائندے کو یہ کہہ کر واپس کردیا کہ اپنے واسطے کوئی ذاتی مفاد نہیں چاھئیے یہ ہجرتیں مقدمات کاروباری نقصان قابل قبول ہے مگر کشمیر پہ آپکے موقف کی تائید  ناممکن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں ووٹ کو عزت دو ٹائپ کے نعرے لگانے والے جغادری سیاست دان اس ذاکر نائیک سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں جو سیاست کا شہسوار اور سرکاری مناصب سے لاکھوں نوری سال فاصلہ رکھنے کے باوجود اسقتامت عزم اور حوصلے کی ایسی مثال قائم کر گیا کہ اسے تادیر یاد رکھا جائیگا ۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحب آپ داعی تھے واعظ ہیں مناظر ہیں اور ایسے لوگ سرکاری مشکلات سے دور ہی رھتے ہیں لیکن آپ نے نئی مثال قائم کرکے جو کہ درحقیقت ہمارے اسلاف کی ہی یاد ہے ، ہمارے دل جیت لئِے ۔۔۔۔
آپ سے فی اللہ محبت پہلے بھی تھی لیکن اس عمل کے بعد تو آپ کو وہ مقام ملا ہے جس کا بدل صرف خدا ہی دے سکتا ہے ۔۔۔۔
ہمارے نیک تمنائیں دعائیں اور محبتیں آپکے واسطے ۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment