_بچوں کو جنسی تشدد سے محفوظ کیسے رکھیں۔.
*_ایک رہنما تحریر.
_بچوں کا جنسی استحصال ہمارے معاشرے کے گھمبیر ترین مسائل میں سے ایک بنتا جارہا ہے۔اس کی شدت اور وسعت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے. ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا"سوچنے سے آپ کے ہاں خدانخواستہ یہ زیادہ بھیانک ہو سکتا ہے۔لہذا بطور ایک ذمہ دار انسان اپنی آنکھیں کھلی رکھیے۔_
_بچوں کی اس معاملے میں تربیت گود سے شروع کیجیے۔اول تو بچے کو خواہ بچہ ہو یا بچی، ہر گود کی عادت مت ڈالیے۔چاہے بستر یا جھولے میں رہنے کی عادت ڈال دیں لیکن ہر آئے گئے کی گود میں مت ڈالیں۔_
_بچے ذرا بڑے ہو جائیں تو سب سے پہلے انہیں مزاحمت کرنا سکھائیں۔اجنبی کی گود، بوسے یا چمٹانے کی مزاحمت، جاننے والوں کے پاس سونے یا خوامخواہ لپٹا لینے پہ مزاحمت۔اس پہ آپکو سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔_
_مثلا آپ کی ساس یاوالدہ،چاچو،ماموں کے حوالے سے فاصلہ رکھنے پہ خفا ہو سکتی ہیں۔اسے سلیقے سے ہینڈل کر لیں لیکن ہتھیار نہ ڈالیں۔_
_کوشش کریں کہ بچے کا ڈائپر خود بدلیں اور ڈائپر بدلنے یا لباس بدلنے کے عمل کو بچے کے لئے اہم بنائیں یعنی یہاں تو سب بیٹھے ہیں ہم دوسرے کمرے میں چلتے ہیں یا پھر بہن/بھائی کو ذرا کمرے سے باہر جانے دو پھر بدلوں گی وغیرہ اس بنیادی تربیت سےاس میں حیا اور پرائیوسی کا تصور پروان چڑھے گا۔اگر کوئی دوسرا بچہ یا بڑا اس کے سامنے لباس یا ڈائپر کی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے تو بچے کو وہاں سے ہٹنے کا کہہ دیں تاکہ اسے معلوم رہے کہ دیکھنا بھی برا عمل ہے۔_
_جب بچہ سکول جانے کی عمر میں آ جائے تو مندرجہ ذیل عوامل پہ توجہ مرکوز کریں۔_
_بچے کو ٹوائلٹ کی ٹریننگ دیں، خود بیٹھنا اور دھونا سکھائیں- اگریہ نہیں ہو سکا تو بچےکوسختی سے تنبیہ کریں کہ سکول میں کسی male مرد ملازم کے ساتھ ٹوائلٹ نہ جائے ،نہ دھونے کی اجازت دے ._
_سکول میں ایک سے زیادہ بار پرنسپل کو یا ٹیچر کویہ بات کہہ دیں کہ بچوں کو مرد ملازم کے ساتھ ٹوائلٹ نہ بھیجا جائے._
_بچوں کو خود سکول لائیں اور لے جائیں اگر ممکن نہ ہو تو exclusive ٹرانسپورٹ کی بجائے زیادہ بچوں والی وین یا گاڑی میں بھیجیں ۔وین کے ڈرائیور سے خود ملیں اور کچھ دوسرے افراد سے بھی رائے لیں۔اس معاملے میں کسی معمولی سی مشکوک حرکت یا رائے کو بھی غیر اہم نہ سمجھیں۔_
_بچے سے وقتا فوقتا پوچھتے رہیں کہ ڈرائیور سب کو اکٹھے اتارتاہے یا کسی کو زیادہ وقت بٹھا کر بھی رکھتا ہے یا واپسی پہ اتارنے کا کہہ کر ساتھ بٹھا لیتا ہے. سکول کے چوکیدار سے کہیں کہ وہ بچوں کو اتارتے ،سوار کرتے وقت وین کے آس پاس موجود رہے. ٹیوشن یا کوچنگ کے وقت گھر کا کوئی فرد موجود رہے۔_
_یاد رکھیں عموما بچے ہی بچوں کا استحصال کرتے ہیں۔یعنی ایک دو یا چند برس بڑے بچے چھوٹے بچوں کو کھیل کھیل میں ایسی حرکات سے آگاہ کرتے ہیں جو آگے چل کر کسی مسئلے یا المیے کا باعث بن سکتی ہیں۔نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی خود سے چھوٹے بچوں کا استحصال کرتی ہیں . لہذا اگر بچہ کسی رشتہ دار یا پڑوسی، پڑوسن کے پاس بار بار جائے یا جانے کی ضد کرے تو فورا نوٹس لیں۔_
_اگر بچہ کسی خاص فرد سے گھبرائے یا خوفزدہ ہو تو نظر انداز مت کریں . بچوں کو کسی کے پاس اکیلا مت چھوڑیں۔_
_بچے سکول یا وین بدلنے کی بات کریں تو اسے سنجیدگی سے لیں . بچہ کسی دن بھی گبھرایا ہوا یا غیر معمولی ایکسائیٹڈ ہو تو نوٹس لیں اور وجہ جانیں۔_بچے کو پرائیویٹ باڈی پارٹس کا تصور واضح طور پر سمجھائیں۔ بچے کو سکھائیں کہ کسی سے کچھ لے کر نہ کھائے۔_
_بچے کو واضح طور پر بات کرنا سکھائیں یعنی ایسی صورتحال میں جب وہ خدانخواستہ اجنبی جگہ پر ہوں اور کوئی انہیں چھونے یا اٹھانے کی کوشش کرےیا گھر کے اندر بھی تو وہ صرف رونے کی بجائے بچاؤ بچاؤ.کی آواز لگائیں یا .میں اسے نہیں جانتا.یا یہ *میرے انکل نہیں ہیں. وغیرہ کہے۔تاکہ لوگ متوجہ ہوں۔_
_جاننے والے افراد کی طرف سے کسی غیر معمولی حرکت پہ بچہ *انکل یہ کیا کر رہے ہیں؟* *میں امی کو بتاؤں گا. وغیرہ کہنا سکھا ئیں۔_
_بچوں سے روزانہ کی سرگرمیاں لازما ڈسکس کریں۔انہیں توجہ اور اعتماد دیں۔ بچوں کو safe circle کا تصور دیں اس سرکل میں سکول،گھر،نانی،دادی کے گھر کا تصور دلوائیں._
_ماں باپ بہن بھائیوں اور ٹیچرز کے علاوہ کوئی بھی متعلقہ شخص جو کسی خاص جگہ ان کے ساتھ موجود ہو گا اسے اس دن کے لیے سیف سرکل کا حصہ بنائیں. بچوں کو بتائیں کہ سیف سرکل کے افراد قابل اعتماد ہیں اور کسی بھی مسئلے کی صورت میں فورا اپنے سیف سرکل کو انفارم کرنا ضروری ہے._
_بچوں کو ہلکی پھلکی مارشل آرٹس یا کراٹے کی تربیت ضرور دلوائیں . کسی انتہائی صورتحال میں انھیں دانتوں اور ناخنوں کا استعمال کرنے کے بارے میں آگاہی دیں._
_اگر بچہ کسی کم ملنے والے رشتہ دار مثلا بیرون ملک سے آنے والے چچا یا ماموں کو اجنبی سمجھ کر شور مچائے تو بچے کا مذاق نہ اڑائیں ورنہ وہ کسی بھی اجنبی کو بھی یہ سوچ کر اٹھانے یا لپٹانے کی اجازت دے دے گا کہ یہ میرا عزیز ہو سکتا ہے بچے کو سمجھائیں کہ جب تک والدین آپ کو کسی اجنبی شخص کے بارے میں نہ بتائیں کہ یہ ہمارا رشتہ دار ہے اسے اجنبی ہی سمجھے-_
_دوران سفر ہو جانے والی دوستیوں سے بچوں کو "یہ خالہ ہیں" "یہ پھپھو ہیں" کہہ کر نہ ملوائیں بچہ ان بے حد وقتی چہروں کے کنفیوژن میں کسی اجنبی کے ہتھے چڑھ سکتا ہے. بچی اور بچے دونوں کو حیا کا تصور دیں._
_مرد رشتہ داروں کی خواہ وہ والد ہی کیوں نہ ہوں حدود مقرر کریں . بچے کو اپنی غیر موجودگی میں کسی بھی رشتہ دار کے ہاں قیام کی اجازت نہ دیں._
_جوائنٹ فیملی میں رہنے والے بچوں کو مناسب الفاظ میں شروع سے ہی محرم اور نا محرم کا تصور دیں . میڈیا کے بے لگام گھوڑے کو اپنے گھر میں نہ دوڑائیں. والدین خود بھی بچوں کے سامنے مناسب فاصلہ رکھیں._
_ہو سکے تو بازار کی فارمی مرغی اور انڈوں کا استعمال کم کر دیں یہ بچوں میں قبل از بلوغت اور ہیجان کا بہت بڑا سبب ہیں._
_اگر خدانخواستہ ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود بچہ استحصال کا شکار ہو جائے تو بچے کو اعتماد دیں اور ہرگز خاموش نہ رہیں....ایسے معاملات میں خاموشی جرم ہے._
_لباس ساتر کا اہتمام کریں شرعی حدود کا خیال رکھیں محرم اور نا محرم کی تمیز روا رکھیں اپنے گھروں کو اشتہاروں یا ڈراموں کا سیٹ نہ سمجھیں پناہ گاہ بنائیں بچوں کو اذکار کی عادت ڈالیں خود بھی حفاظت کی دعائیں پڑھیں اللہ ہم سب کو اپنی عافیت اور امان کی چادر میں ڈھانپ لے. *آمین*._
No comments:
Post a Comment