مار خور کی شناخت
اکثر اوقات ہمارے احباب لا علمی کے سبب اس بات پر بحث کرتے ہیں کے فیس بک پر گردش کرنے والی کٹے پھٹے کپڑوں میں ملبوس فقراء کی تصاویر خفیہ اداروں کے ایجنٹس کی ہیں تو ان کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے تو میں ان احباب کی حب الوطنی اور اپنے مار خوروں سے محبت کی قدر کرتا ہوں۔
لیکن آپ احباب کو بتاتا چلوں کہ یہ تصاویر حقیقی ایجنٹس کی نہیں ہوتیں بلکہ مختلف علاقوں کے فقیروں یا مفلسوں کی ہوتی ہیں جنہیں پوسٹ کرنے کا مطلب فقط یہ بتانا ہے کہ ہمارے مار خور ان جیسے فقیروں سے مشابہت رکھتے ہیں کیونکہ انہیں مشن کی مناسبت سے روپ دھارنے پڑتے ہیں لیکن ان کے اس روپ کی خبر بسا اوقات ان کے ساتھیوں کو بھی نہیں ہوتی۔
یہ تمام راز ہائیلی کانفیڈنشیل ہوتے ہیں جن کے افشاں ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور تصاویر وائرل ہونا تو اس پیشے سے منسلک افراد کے لیے بہت زیادہ خطرناک اور مشن کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔
جاسوسی فلموں کہانیوں میں تو بہت زیادہ دلچسپ ، تھرلنگ اور پر لطف محسوس ہوتی ہے لیکن حقیقت میں انتہائی کٹھن، راز دار اور تھکا دینے والا کام ہے جسے کرنے والے افراد عام انسانوں کی سوچوں سے بھی بالاتر ہوتے ہیں۔
اس لیے مار خوروں کی شناخت سے متعلق پریشان ہونے کی نہیں بلکہ ان کے لیے دعاؤں کی ضرورت ہے کیونکہ وطن کے یہ گمنام بیٹے صرف اپنی شناخت ہی نہیں بلکہ گھر بار مال دولت وطن مذہب ہر چیز کو بھلا کر دشمن کی سر زمین پر ان میں گھل مل کر پا کستان کے دفاع کی خاطر سر گرم ہیں اور اسی اثنا میں کسی غدار یا ڈبل کراس ایجنٹ کی چالوں کے سبب گمنامی میں ہی شہادت کا درجہ پا لیتے ہیں۔ اعزاز سلامی یا شہرت تو بہت دور کی بات بعض اوقات ان جانباز مار خوروں کو کفن دفن بھی نصیب نہیں ہوتا۔
" ہمیشہ گمنام ھم رہیں گے ،کہانی افسانوں میں ڈھلیں گے.....
ھم اپنی جانیں لوٹا کر،تجھکو تیرا وہ کھویا وقار دیں گے......
آئی ایس آئی زندہ باد
No comments:
Post a Comment