افیم کھانے والی چینی قوم نے ستر کی دہائی کے اواخر میں بیدار ہونا شروع کیا اور حکومت کی طرف سے اکنامک اور سوشل ری سٹرکچرنگ ریفارمز کے نفاذ پر عملدرامد شروع ہوگیا۔ اس پروگرام کے بنیادی خدوخال کچھ یوں تھے:
۱۔ زرعی شعبے میں نئی پالیسی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے تحت پہلی دفعہ کسانوں کو ان کی زمینوں کے مالکانہ حقوق دیئے گئے اور ساتھ یہ شرط بھی رکھی گئی کہ وہ اپنی پروڈکشن کا ایک حصہ حکومت کو دیں گے تاکہ کیمونزم اور سوشلزم ایجنڈے پر عمل بھی ہوتا رہے۔ اس سے زرعی پیداوار میں ہر سال پچیس فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوتا گیا جس سے معیشت کو بہت ترقی ملی۔
۲۔ انڈسٹری لیول پر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ انڈسٹری کو اجازت ملی کہ وہ اپنے مختص کردہ کوٹے سے زیادہ پیداوار پروڈیوس کرکے فری مارکیٹ میں بیچ سکتے ہیں۔ اس سے ایک تو پروڈکشن استعداد بڑھنا شروع ہوئی، انڈسٹری میں نئی نوکریاں ملنا شروع ہوئیں، اشیا کی قیمتیوں میں مقابلے کی فضا کی وجہ سے کمی ہونا شروع ہوگئ اور پھر ایکسپورٹ کا بہت بڑا پوٹینشل سامنے آیا جس کی مدد سے چین نے پوری دنیا کی مارکیٹ کو اپنی مٹھی میں لے لیا۔
۳۔ تیسری ریفارم کا تعلق عوام کی تعلیم سے تھا۔ روایتی تعلیم کی بجائے ٹیکنیکل ایجوکیشن پر فوکس کیا گیا، صنعتی، زراعت، سروسز سے متعلقہ امور پر ڈپلومہ کورسز کروا کر نوجوانوں کو ۱۸ سال سے کم عمر میں ہی نوکری کے قابل بنا دیا جاتا جس سے ایک تو انڈسٹری کی لیبر ضروریات پورا ہونی شروع ہوئیں، دوسرے ان نوجوانوں کی معاشی صورتحال بھی بہتر ہوتی گئی۔ ان نوجوانوں نے پیسے کما کر خرچ کرنا شروع کئے تو معیشت کا پہیہ پوری رفتار سے گھومنا شروع ہوگا۔
۴۔ چوتھے نمبر پر پرائیویٹ سیکٹر کا فروغ تھا جس میں خاص طور پر سروسز سیکٹر پر فوکس کیا گیا۔ پرائیویٹ بزنس شروع کرنا آسان بنایا گیا، ٹیکنیکل شعبوں میں مہارت حاصل کرنے والے نوجوانوں نے اپنے کاروبار شروع کرکے سروسز فراہم کرنے کا کام شروع کردیا جس سے لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں نئے کاروبار شروع ہوئے جن میں ہر سال اوسطاً ایک یا ایک سے زائد نئی نوکریاں بھی پیدا ہوتی گئیں۔
ان ریفارمز کا نتیجہ ایک تو چین کی معاشی قوت کی صورت آپ کے سامنے ہے، دوسرا اہم فائدہ جو ہوا وہ یہ تھا:
1978 سے لے کر 1984 کے درمیان چھ سال کے عرصے میں چین نے دس کروڑ سے زائد نوکریاں پیدا کیں۔
1984 سے لے کر 1990 تک کے چھ سالہ عرصے میں چین میں 15 کروڑ سے زائد نوکریاں پیدا کی گئیں۔
مجموعی طور پر 1978 سے لے کر 1998 کے درمیان پینتیس کروڑ سے زائد نوکریاں پیدا کی گئیں۔
تحریک انصاف نے اپنے ایجنڈے میں بتایا ہے کہ وہ اگلے پانچ سال کے عرصے میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کریں گے تو جاہل پٹواری کیلکولیٹر لے کر سوشل میڈیا پر آگئے اور حساب لگانے لگے کہ پانچ سال میں اتنے دن ہوتے ہیں اور ایک کروڑ نوکریوں کا مطلب فی دن پانچ ہزار نوکریاں ہے جو کہ ناممکن ہے۔
ان جاہلوں کو علم نہیں کہ اگر اکنامک ری سٹرکچرنگ درست خطوط پر کی جائے اور حکمرانوں کی نیت ٹھیک ہو تو ایک افیم کھانے والی قوم بھی بیس سال میں ۳۵ کروڑ نوکریاں پیدا کرلیتی ہے۔ تحریک انصاف نے تو صرف پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی ہے، اور وہ بھی پاکستان جیسے ملک میں جسے اللہ نے ہر قسم کی نعمت سے نواز رکھا ہے۔
یہ وہ کھوتا خور پٹواری ہیں جنہوں نے اس بات پر کبھی کیلکولیٹر نکال کر حساب نہیں لگایا کہ نوازشریف کی ۱۹۹۹ تک سالانہ آمدن 2 لاکھ سے بھی کم ہوا کرتی تھی لیکن آج اس کے پاس لندن، جدہ اور پانامہ میں اربوں ڈالرز کی جائیداد کیسے بن گئی؟
ان کھوتا خوروں نے اس وقت بھی کیلکولیٹرز نہیں نکالے جب شہبازشریف نے پچھلے الیکشن میں چھ ماہ میں آٹھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا حیرت انگیز دعوی کردیا تھا۔
پٹواری تو جاہل ہیں لیکن عمران خان کے مخالفین جانتے ہیں کہ وہ جو کہتا ہے، کر گزرتا ہے۔ اگر اس نے پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریوں کا کہا ہے تو وہ اللہ تعالی کی مدد اور مہربانی سے یہ وعدہ پورا کرکے دکھائے گا!!! بقلم خود باباکوڈا
No comments:
Post a Comment