مہمند ایجنسی کا کوئی بھی علاقہ کہی ضم نہیں ہورہی ہے.
یہ محض افواہیں ہیں.. بشیر خان مہمند پریس کلب..
فاٹا انضمام کے بعد بعض لوگ مایوس کن خبریں پھیلا رہے ہیں۔کہ مہمند ایجنسی کے فلاں علاقہ فلاں ضلع اور ایجنسی میں شامل ہوگا۔عرض ہے۔کہ 2023 یعنی آئندہ پانچ سال تک سسٹم نہیں چھیڑا جائے گا۔2018 میں بلدیاتی الیکشن ہوں گے۔جس میں فنڈ مقامی منتخب نمائندوں کے پاس آئے گا۔2019 میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن ہوں گے۔جس میں فاٹا سے 30صوبائی اراکین منتخب ہوکر اسمبلی میں ہمارے نمائندگی کریں گے۔جوڈیشل کمپلیس بنیں گے۔فیصلوں کا اختیار جج کے پاس جبکہ ملک سے وکیل کے اختیارات لے کر قابل اور قانون سے باخبر قبائیلی نوجوان وکلاء کے پاس چلے جائیں گے۔این ایف سی ایوارڈ میں خصہ دیا جائے گا۔میرے تمام دوستوں سے عرض ہے۔کہ انضمام ایف سی آر سے بری نہیں ہے۔بلکہ ایک اچھا اقدام ہے۔تبدیلی انسان چاہتا ہے۔اور قبائل نے اس تبدیلی کے لئے 70سال تک جدوجھد کی۔اب جو کہ تبدیلی آنے والی ہے۔اس کو متنازعہ نہیں بنانا چاہئے۔بلکہ اس سے محسوس کر کے بعد میں کوئی رائے قائم کرنی چاہئے۔انشاءللہ انضمام سے عریب آدمی کا کوئی نقصان نہیں۔اگر نقصان ہے۔ایسے نام نہاد قبائل جو کہ فاٹا سے دور بندوبستی علاقوں میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہے۔اور ہر ماہ لاکھوں روپے مفت میں مراعات کے طور پولیٹیکل اتظامیہ سے وصول کرتے رہے۔فاٹا محصوس لوگوں کے لئے سونے کی چڑیا تھی۔جو روزانہ کرپٹ لوگوں کے لئے سونے کی انڈے دیتی تھی۔اب یہ چھوٹ جانے سے تو یہ کہیں گے۔کہ انضمام سے فاٹا کے تاریخی خیثیت متائثر ہوگی۔کسی قسم کی خیثیت متائر نہیں ہوگی۔انشاءلللہ 2023 تک امن آئیے گا۔اور ہمار ےوہ بھائی جو آئی ڈی پیز کی خیثیت سے ایجنسی سے باہر ہے۔یہاں آکر اپنا اندراج کرواکر ایک نہیں دو سیٹیں ملیں گے۔
HD
Friday, 25 May 2018
مومند ایجنسی کا کوئی بھی علاقہ کہی ضم نہیں ھورہی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment