گزشتہ روز اسفندیار ولی خان صاحب کو اسلام آباد میں نقیب اللہ شہید کے لئے انصاف مانگتے دیکھا تو یاد آیا کہ تقریبا" پانچ سال قبل اسی قسم کا ایک دھرنا خیبر ایجنسی کے کچھ لوگوں نے بھی پشاور میں گورنر ہاوس کے باہر دیا تھا جو اپنے پیاروں کے "ماورائے عدالت" قتل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے.
مگر مچھ کے آنسو بہانے والے ان منافقین کی منافقت جب دیکھتا ہوں تو "سیاست" لفظ سے مجھے گن آنے لگتی ہے...
صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت تھی. سردی کا موسم تھا. خیبر ایجنسی کے سادہ لوح قبائل "ماورائے عدالت"
قتل ہونے والے اپنے رشتہ داروں کی لاشیں گورنر ہاوس کے باہر سڑک پر رکھ کر احتجاج کررہے تھے. بند کمروں میں فیصلہ ہوا کہ مظاہرین کو ہر صورت میں منتشر کرنا ہے.
پختونوں کے ٹھیکیداروں نے نہایت پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آدھی رات کو سخت سردی میں مظاہرین پر "واٹر کینن" چلا کر انہیں منتشر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے میتوں کی بھی بے حرمتی کی.
کیا ان سے آج کوئی توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ نقیب اللہ شہید کے لئے انصاف لیں گے؟ یہ تو اللہ بھلا کرے عمران خان کہ جنھوں نے پختونوں کے دھرنے میں شرکت کر کے اسفندیار ولی خان صاحب کو بھی مجبور کیا کہ وہ بھی حاضری لگا کر اپنی سیاست پوری کر دے ورنہ تو وہ ایسے دھرنوں کے حق میں بالکل نہیں جو فاٹا کے لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے کے لئے دیئے گئے ہوں.
مگر مچھ کے آنسو بہانے والے ان منافقین کی منافقت جب دیکھتا ہوں تو "سیاست" لفظ سے مجھے گن آنے لگتی ہے...
صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت تھی. سردی کا موسم تھا. خیبر ایجنسی کے سادہ لوح قبائل "ماورائے عدالت"
قتل ہونے والے اپنے رشتہ داروں کی لاشیں گورنر ہاوس کے باہر سڑک پر رکھ کر احتجاج کررہے تھے. بند کمروں میں فیصلہ ہوا کہ مظاہرین کو ہر صورت میں منتشر کرنا ہے.
پختونوں کے ٹھیکیداروں نے نہایت پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آدھی رات کو سخت سردی میں مظاہرین پر "واٹر کینن" چلا کر انہیں منتشر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے میتوں کی بھی بے حرمتی کی.
کیا ان سے آج کوئی توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ نقیب اللہ شہید کے لئے انصاف لیں گے؟ یہ تو اللہ بھلا کرے عمران خان کہ جنھوں نے پختونوں کے دھرنے میں شرکت کر کے اسفندیار ولی خان صاحب کو بھی مجبور کیا کہ وہ بھی حاضری لگا کر اپنی سیاست پوری کر دے ورنہ تو وہ ایسے دھرنوں کے حق میں بالکل نہیں جو فاٹا کے لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے کے لئے دیئے گئے ہوں.

No comments:
Post a Comment