
۔۔ مظفر گڑھ سے ایک تازہ ترین سچا واقعہ ۔۔۔۔۔ صفدر مظفر گڑھ کے ایک گاؤں کا رہائشی تھا اور چند سال پہلے علاقے میں کریانے کی دکان چلاتا تھا ، لیکن دکان سے گھر کے خرچے پورے نہیں ہورہے تھے اوپر سے تین بچوں کی تعلیم پرورش کے اخراجات ۔۔۔۔۔ صفدر کی حسین و جمیل بیوی بہت سگھڑ تھی لیکن چاہتی تھی کہ انکے گھر کے حالات بدلیں ، شہناز نامی اس خاتون نے اپنے جیٹھ کی منت سماجت کی جو سعودی عرب کی ایک کمپنی میں ملازمت کررہا تھا ، بہن نے بھی سفارش کی اور 2024 میں ایک روز صفدر کا ویزا آگیا اور چند روز بعد ہی وہ سعودی عرب روانہ ہو گیا ۔ اسکے ابتدائی 3 ، 4 ماہ میں ہی حالات بہتر ہونے لگے ، صفدر محنتی آدمی تھا وہ جو کماتا تھوڑا سا خرچہ رکھ کر باقی بیوی کو بھیج دیتا ، بیوی نے سب سے پہلے بچوں کو پرائیویٹ سکول میں ڈالا پھر گھر کا حلیہ درست کرنے لگی اسی دوران جب کہ وہ خود بچوں کو سکول چھوڑنے جاتی تھی اسکے تعلقات طارق نامی ایک شخص کے ساتھ ہوگئے جو اپنے بچے سکول چھوڑنے آتا تھا ،ہر روز ہیلو ہائے کے بعد فون نمبرز کے تبادلے اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ، شہناز ہر دو تین دن بعد طارق سے ملاقات کے لیے اسکے گھر جاتی جو کہ بچوں کے ساتھ اکیلا رہتا تھا اور اسکی بیوی اکثر رشتہ داروں میں رہتی ، ملاقاتیں بڑھتے بڑھتی گہری عاشقی معشوقی میں بدل گئیں، شہناز اکثر طارق کو کہتی میں تو بنی ہی تمہارے لیے تھی ۔۔انہی رنگ رلیوں میں دو سال گزر گئے ، رمضان کے آغاز سے چند روز قبل صفدر اچانک بغیر بتائے سعودی عرب سے اپنے گھر مظفر گڑھ پہنچ گیا ، وہ اپنے گھر والوں کو سرپرائز دینا چاہتا تھا ، بچے اور صفدر کے بہن بھائی تو بہت خوش ہوئے ، بھائی کی دعوتیں ہونے لگیں ہر کوئی بہت خوش تھا لیکن شہناز بے چین رہنے لگی ، ظاہر ہے شوہر نہیں تھا تو اس کا اچھا گزارہ ہو رہا تھا اسے صفدر سے اب صرف پیسے چاہیے تھے ، پھر وہ اسے کیسے برداشت کرتی جبکہ وہ آتے ہی بتا چکا تھا کہ عید گزار کے واپس جاؤنگا ۔۔۔۔۔۔ اسکے بعد 3 بچوں کی ماں خوبصورت خاتون ڈائن بن گئی اس نے چھپ کر طارق سے رابطہ کیا اور کہا اب کیا کریں ۔ یہ تو پورا مہینہ سوار رہے گا ۔ طارق نے بھی جواب دیا اب تمہارے بغیر گزارہ ممکن نہیں ، ایک دن کی دوری بھی برداشت نہیں کہاں ایک مہینہ ۔۔۔ چنانچہ دونوں نے ملکر صفدر کو ٹھکانے لگانے کا پروگرام بنایا ، چند روز قبل شہناز نے صفدر کو دودھ میں بے ہوشی کی دوا ملا کر پلا دی اور وہ سو گیا ، شہناز نے طارق کو بلا لیا وہ گھر آیا اور پھر اس نے صفدر کا گلا دبا کر اور سانس روک کر اسے مار ڈالا ، اور رات کے اندھیرے میں اپنے گھر چلا گیا ، شہناز بھی سو گئی ، صبح ہوئی تو اس نے بین ڈالنا شروع کر دیے اور رشتہ داروں اور صفدر کے بہن بھائیوں کو فون کردیے کہ میرا صفدر اچھا بھلا سویا تھا اب اٹھ نہیں رہا پتہ نہیں اسے کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔سب رشتہ دار اکٹھے ہو گئے ، احتیاطی طور پر کسی نے پولیس کو بھی فون کردیا ۔ شہناز کا موقف تھا کہ صفدر جب سے آیا تھا بیمار رہتا تھا اور دوائیاں بھی کھا رہا تھا ، پولیس نے صفدر کے گلے پر دبائے جانے کے نشانات بھی دیکھ لیے ۔ جب شہناز سے وہ دوائیاں لانے کو کہا گیا جو بقول اسکے صفدر کھاتا تھا تو وہ ادھر ادھر ڈھونڈنے کے باوجود نہ دکھا سکی ، شک کی بناء پر پولیس شہناز کو تھانے لے گئی اور ایک حوالدارنی نے اس سے پوچھ گچھ کی تو شہناز نے ہتھیار ڈال دیے ، اسکی نشاندہی پر طارق کو بھی گرفتار کر لیا گیا ، صفدر کے تینوں بچے ددھیال نے سنبھال لیے ہیں اور بیوی بچوں کو اچھے مستقبل دینے کی خواہش رکھنے والا صفدر منوں مٹی کے نیچے جا سویا ہے۔۔
No comments:
Post a Comment